کْٹیا پیر آغا طالش
30 May 2020 (14:32) 2020-05-30

یہ تحریر سید شوکت حسین رضوی نے آغا طالش کے دفترکے انٹری دروازے پر لٹکوا دی تھی۔ سید شوکت حسین رضوی شاہ نور سٹوڈیو کے مالک تھے۔ پاکستان کے معر ض وجود میں آنے کے بعد انھوں نے میڈم نور جہاں ( جو اُس وقت ان کی بیگم تھیں)کے ساتھ مل کر لاہور کے ملتان روڈ پر ایک فلم سٹوڈیو establish کیا تھا اور اسے اپنے پیار کی نشانی کے طور پر ’’ شاہ نور سٹوڈیو ‘‘ کا نام دیا تھا۔ دنیا میں ’ وقت ‘ بہت ظالم چیز ہے۔اس کی رفتار کے نتیجہ میں صرف پیار کی نشانیاں رہ جاتی ہیں لیکن پیار کہیں کھو جاتا ہے۔’شاہ‘ اور’ نو ر‘ جدا ہو گئے لیکن ’شاہ نو ر ‘ رہ گیا۔ سید شوکت رضوی اور آغا طالش کی دوستی اس وقت سے تھی جب وہ دونوں ہندوستان کی بمبئے فلم انڈسٹری میں کام کرتے تھے۔ شوکت صاحب نے اپنے شاہ نور سٹوڈیو میں آغا طالش کو ایک دفتر مفت دیا ہوا تھا، یعنی جس کا کوئی کرایہ ورایہ نہیں تھا۔ شوکت صاحب کی چہلیں آغا طالش کے ساتھ چلتی رہتی تھیں اور ایک صبح آغا صاحب کے دفتر کے باہر اس تحریر کا لٹکوا دینا بھی اسی قسم کی ایک ادا تھی۔ آغا صاحب کا دفتر لاہور بلکہ پورے پاکستان کی فلم انڈسٹری کے انٹلیکچویلز(intellectuals ) کی آماجگاہ بنا رہتا تھا۔ آغا طالش کا بیک گراونڈ فوجی تھا کیونکہ وہ کچھ عرصہ فوج میں بھی کام کرتے رہے تھے۔ لیکن وہ ایک بامطالعہ ماڈرن شخصیت تھے۔ ہماری دوستی کا آغاز بھی اُن کے اسی شوق مطالعہ کیوجہ سے ہوا تھا۔میں ان دنوں پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں ایم ایس سی (Msc ) کا طالب علم تھا۔ وہاں وہ ایک تقریب کی صدارت کے لیے تشریف لائے تھے۔ دوران گفتگو انھوں نے کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کا ذکر کیا۔ ان دنوں راجندر سنگھ بیدی کے افسانے میری کمزوری تھے۔

آغا صاحب سے گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ وہ تو روزانہ مطالعہ کے عادی تھے، ان دنوں اردو لٹریچر خصوصاً افسانے اپنا اوڑھنا بچھونا تھے ،سو بات چل نکلی اور ہمارا آغا صاحب کے دفتر شاہ نور سٹوڈیو میں ہفتہ میں ایک دو دفعہ جانا ایک معمول بن گیا۔میرا شوق مطالعہ زیادہ تر صرف اردو ادب تک محدود تھا لیکن آغا صاحب اردو ، انگلش دونوں زبانوں میں مختلف موضوعات پر پڑھتے رہتے تھے حتیٰ کہ وہ سائنس فکشن بھی پڑھ لیتے تھے۔ساتھ ہی ہمارے درمیان کتابوں کی ایکسچینج (exchange ) کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔لیکن اس سلسلے میں یہ بات مجھے حیران کر گئی اور احساس کمتری کا شکار بھی۔وہ یہ کہ انھوں نے اگر مجھ سے تین کتابیں لی ہیں تو وہ تین یا چار روز میں پڑھ کر فارغ ہو جاتے تھے اور لوٹانے کے لیے دفتر میں لا کر رکھ دیتے تھے، اور ایک خاص بات جو ُان کی نفاست

طبع اور perfection کی غمازی کرتی تھی وہ یہ کہ وہ کتابوں کے مڑے ہوئے کونوں کو بھی سیدھا کر دیتے تھے۔میں نے دل کو تسلی دی کہ میری تو ساتھ نصابی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیںلیکن پھر میرے سامنے ان کی شوٹنگز کا لا متناہی سلسلہ آگیا۔ وہ اپنے وقت کے بہت مصروف ایکٹر تھے۔ وہ اردو اور پنجابی فلمز ،دونوں میں یکساں مقبول تھے۔ان کی فرنگی ، سات لاکھ، شہید ، یہ امن ، زرقا ، امراوجان ادا اور زینت کسے بھولی ہو گی۔ ان کے دوست چوہدری اسلم المعروف ’اچھا شوکر ‘ والے کی ’’ ملنگی ‘‘ کسے یاد نہیں ہو گی جس کا یہ ڈائیلاگ زبان زد عام تھا ’’ دن نو راج فرنگی دا ، تے رات نوں راج ملنگی دا‘‘۔مشہور ڈائریکٹر، رائیٹر سیف الدین سیف کی فلم ’سا ت لاکھ‘ کا وہ گانا ’’ یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں ہوں ‘‘ جسے سلیم رضا نے اپنی سریلی آواز سے سجایا تھا ،پر آغا صاحب کی شرابی کی ایکٹنگ نے یہ تاثر لوگوں کے ذہنوں میں چھوڑا کہ شرابی کا کیریکٹر آغا صاحب سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ اگر موقع ملے تو کبھی یہ گانا یو ٹیوب پر دیکھیں آپ کو بن پئے نشہ ہو جائیگا۔ آغا طالش کی’’ فرنگی‘‘ کے رول میں اداکاری کا تو کوئی ثانی نہیں تھا۔ان کی’’ فرنگی‘‘ کون بھلا پایا ۔ ان کی ’’یہ امن‘‘ اور’’ زرقا ‘‘ کسے بھولی ہے۔ اسی طرح وہ ولن کا رول بھی کچھ اس انداز میں ادا کرتے تھے کہ فلم بینوں کے اندر غصے سے چنگاریاں پھوٹنے لگ جاتی تھیں۔ مجھے آج بھی امراوٗ جان ادا میں ان کا دادا کا رول نہیں بھولا۔ حتیٰ کہ کامیڈین کا رول بھی نہایت خوبصورتی سے اداکرجاتے تھے۔ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع اور خوبصورت لوگوں پر مشتمل تھا۔سید شوکت حسین رضوی اور ان کا ساتھ تو دہائیوں پر مشتمل تھا۔ شوکت صاحب تو بمع دوسری بیگم اور بچے رہتے ہی اپنے شاہ نور سٹوڈیو میںتھے اور باقاعدہ آغا صاحب کے پاس چکر لگاتے رہتے تھے۔ ان کے ملازمین ان کا سوپ (soup )ٹرے میں رکھے انہیں تلاش کرتے کرتے آغا صاحب کے دفتر پہنچ جاتے تھے۔ آغا طالش اور شوکت رضوی صاحب الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ میںاپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ فلم انڈسٹری سے متعلق لوگوں کے مطابق فلم سٹار دلیپ کمار کو جب شوکت صاحب نے اپنی فلم ’’ جگنو ‘‘ میں کاسٹ کیا تھا تو شوکت صاحب کو بہت محنت کرنی پڑی تھی کیونکہ دلیپ صاحب کا پٹھان ہونے کے ناطے نہ تلفظ درست تھا اور نہ ڈائیلاگ ڈلیوری۔ لیکن شوکت صاحب کی محنت سے دلیپ صاحب کا تلفظ اور ڈائیلاگ ڈلیوری ایک ضرب المثل بن گئی۔ جسے دلیپ صاحب بھی ساری عمر تسلیم کرتے رہے۔ آغاطالش کے ایک بہت عزیز دوست جو خود پاکستان فلم انڈسٹری کے بہت بڑے ایکٹر تھے کا ذکر نہ کرنا بھی نا انصافی ہو گی۔ وہ تھے علائوالدین۔ لیکن جن دنوں میری ملاقات علائوالدین سے آغا صاحب کے دفتر میں ہوئی وہ ان دنوں ایک شدید قسم کے ڈیپریشن سے گزر رہے تھے۔کچھ ہی عرصہ پہلے ان کے نوجوان بیٹے کی کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ (death ) ہو گئی تھی۔ وہ سارا سارا دن خاموش بیٹھے رہتے تھے۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ انہیں گھر میں نہیں رہنا بلکہ انہیں باقاعدگی سے سٹوڈیو جانا چاہیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے تاکہ وہ نارمل زندگی کیطرف واپس آسکیں۔ آغا صاحب اپنی گاڑی بھجوا کر انہیں سٹوڈیو بلوا لیا کرتے تھے۔

آغا طالش ان کے ساتھ فلم انڈسٹری کے لوگوں کا سلوک دیکھ کر بہت اپ سیٹ اور رنجیدہ رہتے تھے۔ ظاہر ہے ایک تو وہ انہیں اپنی نئی فلموں کے لیے کاسٹ نہیں کر رہے تھے اور دوسرا ظلم یہ کہ جن جن لوگوں نے ان کے پیسے دینے تھے وہ نہیں دے رہے تھے۔ ایک دفعہ تو وہ کسی فلور پر شوٹنگ کے لیے نکل رہے تھے، لہٰذا میں بھی جانے لگا۔ لیکن انھوں نے مجھے کہا کہ علائوالدین اکیلے ہو جائیں گے آپ پلیز بیٹھ جائیں میں جلدی واپس آ رہا ہوں۔لیکن وہ اسی وقت واپس آگئے۔ میں نے کہا کہ میں تو بیٹھا تھا آپ کیوں واپس آ گئے۔کہنے لگے جس پروڈیوسرکی شوٹنگ تھی اس نے علائوالدین کے پیسے دینے تھے ، مجھے اسے دیکھ کر اور اس کی گھٹیا حرکت دیکھ کر بہت غصہ آیا ۔ میں نے اسے کہا کہ جب تک آپ علائوالدین کے پیسے نہیں دیں گے میں آپ کی شوٹنگ نہیں کرونگااور واپس آ گیا ہوں۔کہنے لگے افتخار فلم کی دنیا ایک مکمل جھوٹ ہے۔آپ ذرا غور کریں تو آپ کو اس بات کا ادراک ہو جائیگا۔دیکھیںفلم کا آغاز بھی اندھیرے میں ہوتا ہے اور انجام بھی اندھیرے میں ۔ آپ نے دیکھا ہو گا جونہی کسی فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہوتا ہے تو لائٹس آف کی آ واز آتی ہے اور اندھیرے میں شوٹنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح آپ نے دیکھا ہو گا کہ کسی سینما ہال میں لائٹس آف ہونے کے بعد فلم شروع ہوتی ہے اور اختتام پر لائٹس آن ہوتی ہیں۔آخر میں ’’ حیلو(Hillo ) ‘‘کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ حیلو ایک سندھی تھا اور آغا صاحب کے دفتر میں رہتا تھا۔

وہ ایک بہترین کُک (cook ) تھا ۔ فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے لوگ یہ معلوم کرتے رہتے تھے کہ کیا حیلو آج کھانا بنا رہا ہے یا نہیں۔ اگر پتہ چلتا کہ وہ آج کھانا بنا رہا ہے تو آغا صاحب کے کئی دوست بن بلائے پہنچنا شروع ہو جاتے تھے۔ لذیذ کھانا ایسا کہ آپ انگلیاں چاٹتے رہ جائیں۔ آغا صاحب خود بتاتے تھے کہ ’’حیلو‘‘ صرف اس دن کھانا بناتا ہے جس دن اس کا اپنا موڈ ہو ورنہ ناغہ اور آغا صاحب اپنے گھر جا کر کھانا کھاتے تھے ۔


ای پیپر