باقی سب بے قصور ہیں!
30 May 2020 2020-05-30

عرض کیا تھا ہمارے ہاں قتل کرنا نہیں قتل ہونا ”جرم“ ہے۔ اس ملک میں انصاف فراہم کرنے کے ٹھیکیداروں کا بس چلے وہ مقتولوں کو قبروں سے نکال نکال کر اس ”جرم“ میں پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیں کہ وہ قتل کیوں ہوئے؟ یا انہوں نے قتل نہ ہونے کیلئے ”حفاظتی اقدامات“ کیوں نہیں کئے؟ یہاں بڑے سے بڑا مجرم اگر مالدار ہے اور اس جائز ناجائز مال کے بل بوتے پر مختلف شعبوں کی بااثر شخصیات، خصوصاً تھانے کچہری کی بااثر شخصیات کے ساتھ اس کے مراسم ہیں پھر اس کیلئے فکر کی کوئی بات نہیں، پھر جو چاہے وہ جرم کرے، اول تو کوئی اسے پوچھے گا نہیں، کوئی پوچھ بھی لے، پوچھ کر سزا نہیں دے گا، فارغ کردے گا۔ میں نے ایک پولیس افسر سے پوچھا ”آپ اتنی کرپشن کیوں کرتے ہیں ؟ وہ بولا ”اس لئے کہ کوئی اور اتنی کرپشن نہ کرے“۔ میں نے کہا کہ ”میں سمجھا نہیں“۔ کہنے لگا ”ہمیں پتہ ہوتا ہے اس مجرم یا ملزم نے آگے جا کر کچھ دے دِلا کر چھوٹ جانا ہے، سو ہم یہ چاہتے ہیں بجائے اس کے وہ آگے جا کر چُھوٹے وہ یہیں چُھوٹ جائے“۔ عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ یہ ”اشارہ“ کراس کرکے میں توہین عدالت کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا۔ آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے۔ کرونا کے باعث بند عدالتوں نے بازار کھولنے کے حکم جاری کرکے ایک بار پھر ایک ایسی انوکھی روایت قائم کی ہے جس پر سوائے زباں بندی کے ہم کچھ نہیں کر سکتے.... ابھی حال ہی میں جو فضائی حادثہ ہوا اس میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین حکومت سے سوال کررہے ہیں ”مرنے والوں کا کیا قصور تھا؟“۔ میں بتاتا ہوں ان کا کیا قصور تھا؟ ان کا ایک قصور یہ تھا انہوں نے سفر کیلئے اس ایئر لائن کا انتخاب کیا جو کبھی دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی، اب شاید بدترین ہے، اس ایئر لائن کے کھٹارہ جہازوں کا عملہ بھی ”جہازوں“ جیسا ہی ہے اور دوسرا قصور مرنے والوں کا یہ ہے اس ایئر لائن سے سفر سے پہلے انہوں نے یقینا کوئی صدقہ وغیرہ نہیں دیا ہوگا جو اس ایئر لائن کی پروازوں کے ذریعے سفر سے پہلے دینا لازمی ہوتا ہے۔ میں جب بھی اندرون یا بیرون ملک ہوائی سفر پر جاﺅں میری بیگم خاص طور پر مجھ سے پوچھتی ہے کس ایئر لائن سے جا رہے ہو؟ میں اسے اگر بتاﺅں میں پی آئی اے سے جارہا ہوں وہ میری روانگی سے پہلے صدقے کیلئے ایک بکرا منگواتی ہے۔ اسے میرا ہاتھ لگوا کر کسی یتیم خانے میں بھجوا دیتی ہے۔ اس کے بعد بھی اس کی تسلی نہیں ہوتی۔ وہ تب تک پریشان ہی رہتی ہے جب تک پرواز منزل تک پہنچ نہیں جاتی۔ اب اپنی ان ”کوتاہیوں“ کے نتیجے میں عید سے ایک روز قبل پی آئی اے سے سفر کرنے والے حادثے کا شکار ہوگئے تو اس کے ”قصوروار“ وہ خود ہیں ۔ اس کا خمیازہ دنیا میں تو انہوں نے بھگت لیا، آخرت میں بھی اس لئے بھگتنا پڑے گا، اسلام میں خودکشی حرا م ہے اور پی آئی اے سے سفر کرنا یقینا خودکشی ہی ہے۔ جہاں تک کسی متعلقہ شخصیت کا اس حادثے کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کا معاملہ ہے، اصل میں پاکستان کے تقریباً ہر شعبے میں اتنے بڑے بڑے بے شرم بیٹھے بلکہ لیٹے یا سوئے ہوئے ہیں انہیں اپنے کسی بلنڈر، اپنی کسی غلطی کا احساس تک نہیں ہوتا، ہو بھی جائے تو وہ سمجھتے ہیں غلطی کرنا ان کا حق ہے، ان کی تقرری اور ہوئی کس لئے ہے؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے، ہر اعلیٰ شخصیت اپنی غلطی کا سارا ملبہ چھوٹے چھوٹے افسروں یا ملازموں پر ڈال دیتی ہے۔ میں فضائی حادثے کے حوالے سے وزیر ہوا بازی بلکہ ”وزیر ڈرامہ بازی“ سرور خان کی پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا۔ ذرا سا کرب اس بے حس شخص کے چہرے پر نہیں تھا، کیونکہ اسے پتہ ہے اس کا ”کلہ“ بڑا مضبوط ہے اور کلہ اس لئے مضبوط ہے جس پارٹی نے اقتدار میں آنا ہوتا ہے اس ملک کی ”اصل پارٹی“ اس پارٹی میں پہلے ہی اسے گھسوا دیتی ہے، پھر وزیر بھی بنوا دیتی ہے۔ پاکستان میں نکمّے ترین وزیروں اور مشیروں کے انتخاب میں کسی حکومت نے سبقت لے جانے کی کامیاب کوشش کی تو وہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اوپر سے ہمارے محترم وزیراعظم کے اتنے بڑے منصب پر بیٹھنے کے باوجود طور طریقے نہیں بدلے۔ میں سوچ رہا تھا فضائی حادثے کے فوراً بعد وہ کوئی تقریر وغیرہ نہ فرما دیں کہ ”پی آئی اے کے جہازوں کی مرمت کیلئے پاکستانی دل کھول کر چندہ دیں“۔ ”چندہ“ اللہ جانے وہ کسے سمجھ کر لوگوں سے مانگتے رہتے ہیں ؟ ممکن ہے ابھی اس حادثے پر تقریر وغیرہ کرنے کا ذہن وہ بنا رہے ہوں، اگلے ایک دو روز میں ٹی وی پر آ کر فرما دیں کہ ”میں نے وزیراعظم کو حکم دیا ہے اس حادثے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے اور ”خاتون اوّل“ کو پھر انہیں بتانا پڑ جائے کہ ”حضور وزیراعظم اب آپ خود ہیں “۔ انہیں چاہئے تھا عید کے موقع پر فضائی حادثے کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ میں باقاعدہ طور پر وہ شریک ہوتے۔ ایک دو سوگوار گھروں میں جاتے۔ باقی سارے سوگوار خاندانوں کو اس سے یہ پیغام ملتا وزیراعظم کو ان کے دکھ کا اچھی طرح اندازہ ہے، پر المیہ یہ ہے وہ اپنے خونی رشتوں کے دکھ میں شریک نہیں ہوتے، پرائے لوگوں کی تو بات ہی نہ کریں۔ ابھی پچھلے دنوں قانونی امور میں معاونت کرنے والے اپنے ایک مشیر یا شاید معاون خصوصی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت انہوں نے انہیں اپنے پاس بلا کر کی۔ یہ بھی ان کی بڑی مہربانی ورنہ ایسے معاملات میں ان کی سوچ سلامت یہ ہے ”مرنے والے کو کون سا میں نے مارا ہے جو میں اس کی تعزیت کرنے جاﺅں“۔ ان کے سنگی ساتھی بے چارے دعائیں ہی مانگتے رہتے ہیں وہ یا ان کا کوئی عزیز ان دنوں فوت نہ ہوجائے ورنہ وزیراعظم کے ساتھ ان کے ”ذاتی مراسم“ کا جو بھرم بنا ہوا ہے، یا اس طرح کا جو تاثر اپنے انتخابی حلقے کے یا دوسرے لوگوں کو وہ دیتے رہتے ہیں کہیں پاش پاش ہی نہ ہوجائے۔ جہاں تک اس فضائی حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کا تعلق ہے ان کی خدمت میں گزارش ہے جس طرح ہماری حکومتیں ایسے حادثات کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیتی ہیں اور کسی کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتیں۔ ایسے ہی وہ بھی اس حادثے کو ”اللہ کی رضا“ سمجھ کر قبول کرلیں۔ جس ملک کے ایک فضائی حادثے میں کئی جرنیل مارے گئے ہوں اور آج تک اس حادثے کا پتہ ہی نہ چل سکا وہ کیسے ہوا تھا، اس کے ذمہ داران کون تھے؟ وہاں کچھ عام ”بھیڑ بکریاں یا کچھ بلڈی سویلینز“ ایک فضائی حادثے میں مارے گئے، اس سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے؟؟ عرض کیا ناں قصور مرنے والوں کا اپنا ہے، باقی سب بے قصور ہیں !!


ای پیپر