عمران خان کے سیاسی وجود کا سوال
30 May 2019 2019-05-30

اپوزیشن اچھی طرح سے جانتی ہے کہ عمران خان کی پیٹھ مضبوط ہے، لہٰذا عجلت میں کوئی تحریک چلانا قابل عمل حکمت عملی نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ معیشت سنبھل نہیں سکے گی۔ لوگ بھی بیزار ہونگے اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔ مقتدرہ حلقوں اور حکمران جماعت کے درمیان اختلافات پیدا ہونگے۔ وہ کسی اور آپشن کا سوچنے لگیں گے۔ تب تحریک چلائی جاسکتی ہے۔ اپوزیشن اس وقت کا انتظار کر رہی تھی ۔ لہٰذا حکومت کے خلاف ہلکی آنچ یعنی بیان بازی کے ذریعے مخالفت چلتی رہی۔ وہ اس لئے بھی ضروری تھی کہ بڑی جماعتوں کی قیادت کے خلاف کرپشن کے الزامات تھے۔ اور ان جماعتوں کو اپنا دفاع بھی کرتے رہنا تھا، ساتھ ساتھ حکومت کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر، دبائو ڈال کر کچھ ریلیف بھی لیتے رہنا تھا۔

گزشتہ ہفتے دی اکنامک ٹائیمز میں شایع ہونے والی خبر نے صورتحال کو کچھ واضح کیا۔ خبر یہ تھی وزیراعظم عمران خان اور عسکری قوتوں کے درمیان اختلافات ابھر رہے ہیں۔ویسے بھی صرف ایک سال کے اندر حکومت کو ختم کرنا کسی طور پر درست ثابت نہیں ہوسکے گا۔ ماضی میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بظاہرعمران خان وہی کر رہے ہیں جو مقتدر قوتیں چاہتی ہیں۔ لیکن عمران خان کی جماعت بہرحال ایک سیاسی پارٹی ہے، جس کا اپنا سیاسی ایجنڈا ہے۔جس میں بعض سیاسی اور سماجی تبدیلیاں لانے کی شدید خواہش ہے۔یہاں پر مقتدرہ حلقوں اور عمران خان کے درمیان تصادم یا فرق کی لکیر شروع ہوتی ہے۔ بعض تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ اس کو خزانہ خالی ملا۔ جس کیو وجہ سے پرجوش عمران خان عوام کے لئے کچھ نہیں کر پارہا ہے۔اس کا ویژن دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔

اب سیاست جس موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے ۔دو ہفتے پہلے زرداری نے کھل کر نیب چیئرمین کے خلاف بات کی اور کہا کہ نہیں معلوم نیب چیئرمین خود عہدے پر رہتے بھی ہیں یا نہیں۔ مئی کے دوسرے ہفتے میں جاوید چوہدری کا کالم نیب چیئرمین سے غیر رسمی بات چیت سے متعلق سامنے آیا، اسی کے ساتھ نیب چیئرمین کے خلاف ایک نا زیبا ویڈیو بھی وائرل ہوئی۔ بلاول بھٹو اور آصف زرداری اب تک دو مرتبہ تفتیش کے لئے حاضر ہونے سے معذرت کر چکے ہیں۔اگرچہ جاوید چوہدری کی نیب چیئر مین سے بات چیت میں زیادہ تر تنقید اپوزیشن رہنمائوں پر ہے لیکن بعض واضح اشارے حکمران جماعت کے لوگوں کے لئے بھی موجود ہیں۔

نیب نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو جعلی اکائونٹس کیس میں الگ الگ طلب کیا تھا۔خبروں کے مطابق بلاول بھٹو زرداری پارک لین کمپنی جبکہ سابق صدر آصف زرداری سندھ حکومت کے غیر قانونی ٹھیکوں کے کیس میں نیب راولپنڈی کی تشکیل کردہ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونا ہے۔ نیب کی ٹیم پارک لین کمپنی کیس میں بلاول بھٹو کا بیان ریکارڈ کرے گی جبکہ آصف علی زرداری سے سندھ حکومت کی طرف سے دیے گئے غیر قانونی ٹھیکوں میں خورد برد اور اہل خانہ کے ائیر ٹکٹس، نجی طیاروں کے اخراجات اور نوڈیرو ہائوس کے اخراجات کے بارے میں پوچھنا ہے۔ اس اثناء میں بلاول بھٹو نے افطار پارٹی منعقد کی۔ اس افطار پارٹی میں آصف زرداری موجود نہ تھا جبکہ نواز لیگ کی سینئر قیادت موجود ہونے کے باوجود پلیٹ فارم مریم اور بلاول کے حوالے تھا۔ لگتا ہے کہ ایک طرح سے حکومت کا بھی محاصرہ کیا جارہا ہے۔ نیب کی جانب سے حکمران جماعت کے بعض اہم لوگوں کو گھیرنے کے اشارے اور اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی تیاری حکومت کے خلاف ہی جاتے ہیں۔ اس طرح کی چیزیں اچانک نہیں ہوا کرتی۔ مریم نواز اپنے والدنواز شریف کے بیانیہ کے ساتھ ہے۔ ان کا انداز جارحانہ ضرور ہے لیکن چند روز پہلے وہ کہہ چکی ہیں کہ ہم حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، یہ اپنی کارکردگی کی وجہ سے ہی گر جائے گی۔ اسی طرح کی بات بلاول بھٹو نے ٹرین مارچ کے خاتمے پر کہی تھی ۔ مریم نواز ممکنہ احتجاجی تحریک کیلئے اپنے کارکنوں کو ذہنی طور پر تیار کررہی ہیں ، لیکن یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ مریم کا رویہ دو رخی رہتا ہے۔ ان کا رویہ تب زیادہ جارحانہ انداز ہے، جب میاں نوازشریف جیل میں ہوتے ہیں۔وہ جیل سے باہر ہیں تو انداز نرم ہوجاتا ہے، ان کے اس رویہ سے عملًامصلحت جھلکتی ہے۔ عمران خان کے لئے ملکی معیشت کی بحالی، اور مجموعی طور پر معاشی بحران مسئلہ بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پارٹی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ آئی ایم ایف کے ذریعے بلاواسطہ دبائو موجود ہے۔ آئی ایم ایف کے آنے کی وجہ سے چین سے بھی پہلے والی قربت نہیں رہی۔

اس تمام صورتحال کی باوجود مقتدر حلقوں کی جانب سے حکومت کے خلاف ایکشن نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ ملک کو کسی انارکی کی صورتحال مین نہ دھکیلا جائے۔ وقت دیا جائے کہ آئی ایم ایف سے معاملات بن جائیں، حکومت گرے لسٹ سے نکل آئے۔ مقتدر حلقے یہ بھی نہیں چاہتے کہ عمران خان حکومت کو مکمل طور آزادی دی جائے۔ لہذا نیب اور اپوزیشن کی جانب سے دبائو برقرار رکھا جائے گا۔

حکومت ابھی تک مقتدر قوتوں کے بل بوتے پر ہی چل رہی ہے۔ یہ قوتیں یقینا چاہیں گی کہ عمران خان ان کی بیساکھی کے بغیر کھڑے ہوں۔ سیاسی حوالے سے عمران خان نے کوئی سیاسی ’’ معجزہ‘‘ نہیں دکھایا ہے۔ سیاسی طور پر اس کے وجود کی یہ حالت ہے کہ نو دس ماہ میں اپوزیشن متحد ہونے جارہی ہے۔ اب اگر حکومت اپنی وجود کا الگ سے اظہار کرتی ہے اور assert کرتی ہے تو فوری طور پرحکومت مخالف تحریک نہیں چلے گی۔ اور اپوزیشن کو کسی اور طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے۔ مثلا نواز شریف کو فی الحال بیرون ملک جانے کی جازت دے دی جائے۔ زرداری کی گرفتاری ملتوی کی جائے۔ دو بڑی اپوزیشن جماعتیں اچھا کھیل رہی ہیں۔ عید کے بعد متوقع آل پارٹیز کانفرنس بھی مولانا فضل الرحمٰن کے توسط سے بلائی جارہی ہے۔ مولانا فضل ا لرحمن نے جب عمران خان کی حکومت بنی تھی اسی وقت انہوں نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر لیا تھا۔ لہٰذا دونوں پارٹیوں نے اپنے لئے مذاکرات اور ریلیف لینے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔


ای پیپر