عمران، مودی ملاقات اورپاک بھارت تعلقات!
30 May 2019 2019-05-30

بھارت میں مودی کی جیت کے بعد یہ سوال بڑی شدومد سے اٹھایا جارہا ہے کہ کیا پاک بھارت تعلقات پر جمی برف پگھلے گی؟یہ سوال اس لیے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ صرف ڈیڑھ ماہ قبل وزیراعظم عمران خان اس بات کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ مودی کی جیت پاکستان کے لیے خوش آئندہو سکتی ہے کیونکہ اس طرح مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہوگی جو کہ کانگریس کی حکومت میں کٹر ہندو اپوزیشن جماعت بی جے پی کے ہوتے ہوئے ممکن نہ تھی۔ بی جے پی حکومت میں ہوگی تو اپوزیشن جماعت کانگریس روڑے نہیں اٹکائے گی۔ اب جبکہ بھارت میں مودی سرکار کی دوبارہ حکومت بن گئی ہے تو اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ ماضی کی طرح بھارتی حکومت وزیراعظم پاکستان کو مودی کی تقریب حلف برداری میں مدعو کرے گی لیکن ایسا ہوا نہیں ۔ بھارت کی جانب سے دعوت نہ دئیے جانے پر پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھو ں لے رہی ہیں ۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دنیا چور دروازے سے اقتدار حاصل کرنے والے شخص کی عزت نہیں کرتی اسی لیے ہمارے وزیراعظم کی دنیا میں کوئی سٹینڈنگ نہیں ہے ۔ مریم نواز کے بیان کوصرف حکومت پر تنقید کی حد تک لیا جائے تو درست ہے لیکن اگراسے دونوں ہمسایہ ملکوں او ر اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تومریم کا یہ بیان حقیقت کے منافی ہے ۔

حالیہ بھارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو تناؤ تھاوہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔رواں سال 26اور27فروری کو جو واقعات رونما ہوئے اس کے بعد خود مودی سرکار کیلئے مناسب نہیں کہ وہ صرف تین ماہ بعد ہی کسی پاکستانی آفیشل کو بھارت آنے کی دعوت دے سکیں۔ابھی تو شکست خوردہ بھارتی سرکار اپنے زخم چاٹ رہی ہے ، ابھے نندن کی کہانی پرانی نہیں ہوئی ایسے میں مودی سرکار کو اپنے عوام کے جذبات کا بخوبی اندازہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اتحاد میں شامل جماعتیں وزیراعظم پاکستان کو مودی کی تقریب حلف بردار میں مدعونہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٓآپ ایک لمحے کیلئے تصور کیجئے اگر عمران خان وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے بھارت جاتے ہیں وہ تو مودی کی تقریب کا میلہ لوٹ لیں گے بالکل ایسے ہی جیسے پاکستانی وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میںنوجوت سدھو آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے جادو کی جھپی میں میلہ لوٹ چکے ہیں۔سدھو کے گلے ملنے کی تصویرسوشل میڈیا پر ایسی وائرل ہوئی کہ کئی روز تک دونوں ملکوں کے تجزیہ کار اسی پر بحث کرتے رہے ۔ پھر ہمارے ملک کے وزیراعظم تو وزرات عظمیٰ کی مسند پر بیٹھنے سے پہلے ہی ہمسایہ ملک میں ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں ۔اپنے کرکٹ کیرئیر کے باعث بھارت میں ان کے بڑی تعداد میں دیوانے ہیں۔ اب اگر وہ وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے مودی کی تقریب میں جائیں گے تو مودی کی تقریب کا وہ محوو مرکز ہوں گے ایسے میں مودی کی جیت اور ان کی حلف برداری کی تقریب میں خود مودی ثانوی حیثیت اختیار کرجائیں گے ۔ اس لیے بھارت کپتان کی کرشماتی شخصیت کے خوف سے کبھی انہیں دعوت دینے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔

اس سے قبل جب سابق وزیراعظم نوازشریف 2014ء میں مودی کی تقریب حلف برداری میں گئے تو ایک بحث چل نکلی تھی کہ انہیں وہاں نہیں جانا چاہیے تھا کیونکہ نوازشریف کا وہاں جانا جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی تسلیم کرنے کے مترادف تھا ۔ اب بھی اگر بھارت دعوت دیتا تو وزیراعظم پاکستان کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا یہ تو اچھا ہواکہ مودی نے خودسے دعوت نامہ نہ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مودی سرکا رنے پچھلے پانچ سال میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کیلیے انتھک کوشش کی مگر گزشتہ نو ماہ میں تحریک انصاف نے بھارتی عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے خارجہ محاذ پر جوسفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ قابل ذکر ہیں۔ترکی ، قطر، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا اب پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائیں کھڑے ہیں ۔ افغان امن عمل کے تناظر میں خود ٹرمپ پاکستانی قیاد ت سے ملاقات کے متمنی ہیں۔ چین کے ساتھ پروان چڑھتے تعلقات ہمسائے ملک بھارت کو ویسے ہی ہضم نہیں ہو رہے ۔ ان حالات کے تناظر میں بھارت جب زچ ہوگیا تو اس نے پاکستان پررات کی تاریکی میں حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی مگر پاکستانی شاہینوں نے بھارت کودن کی روشنی میں جو تارے دکھائے پوری دنیا اس کی گواہ ہے ۔اب بھارت کوپریشانی کے ساتھ پشیمانی کا بھی سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اب خود پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کیلئے تیار ہے اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور آپشن باقی نہیں بچا ۔ بشکیک میں شنگھائی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شاہ محمود قریشی اور ششماسوارج کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔اب خبر یہ آرہی ہے کہ کرغزستان میں 13 اور 14 جون کو ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی سائیڈ لائن میں وزیراعظم عمران خان اور نریندرا مودی کے درمیان ملاقات کے قوی امکانات ہیں۔بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت خارجہ کے ذرائع نے ہمسایہ ممالک کے سربراہان کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات کی تصدیق کردی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام ملاقات کے ایجنڈے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اس ملاقات کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے اس ملاقات کے ٹھیک دو دن بعد پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں کرکٹ کی عالمی جنگ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ دونوں ملکوں کے عوام کا کرکٹ کے کھیل سے جذباتی حد تک لگاؤ ہے۔ایشیا کرکٹ کپ کی میزبانی بھی پاکستان کو مل چکی ہے جس کا اگلے سال انعقاد ہونا ہے ۔ اب تمام نگاہیں عمران ، مودی ملاقات پر لگی ہوئی ہیں اگر اس ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات پر جمی برف پگھلتی ہے تو آنے والے دنوں میںمزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔


ای پیپر