بھارتی سیاست میں مجرموں کا بڑھتا ہوا عمل دخل
30 May 2019 2019-05-30

بھارت میں 11 اپریل سے 19 مئی تک ہونے والے عام انتخابات میں مودی حکومت نے ایک بار پھر برتری حاصل کر لی ہے اور پارلیمنٹ میں واضح اکثریت بھی حاصل کر لی ہے۔ لیکن گزشتہ پارلیمنٹ کی طرح اس مرتبہ بھی بھارتی پارلیمنٹ میں 40 فیصد سے زائد اراکین جرائم پیشہ اور مختلف مقدمات میں نامزد ملزم ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو جیتنے والے 543 نو منتخب ارکان اسمبلی میں سے 233 پر مقدمے چل رہے ہیں۔ یہ اراکین قتل، ریپ، قبضے اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں اور کئی کے خلاف تو برسوں سے مقدمے چل رہے ہیں مگر سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں۔

بھارتی حکمران بی جے پی ہی نہیں دیگر جماعتوں کے منتخب اراکین بھی جرائم پیشہ ہیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کو قتل عام اور ڈکیتی سمیت 204 مقدموں کا سامنا ہے۔ بھارتی الیکشن چیف نے اس پریشان کن رجحان کو جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے 303 نو منتخب ارکان میں سے 116 کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں۔اسی طرح کانگریس کے 52 میں سے 29 کو مقدمات کا سامنا ہے۔

جنوبی ایشیا کے ممالک کا یہی المیہ ہے کہ یہاں کی سیاست میں جرائم پیشہ افرا د کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے۔ بڑے بڑے ٹیکس چور صنعتکار، سرمایہ دار ، جاگیردار الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور پیسے کے بل بوتے پر جیت بھی جاتے ہیں۔ اصل میں ممبر پارلیمنٹ بن کر انہیں اپنے خلاف چل رہے مقدمات کو ختم کرانا اور ان سے باعزت بری ہونا ہوتا ہے۔ اگر یہ لوگ خود الیکشن میں حصہ نہ لیں تو ان کی حمایت یافتہ سیاسی پارٹیاں میدان میں اترتی ہیں۔ ان کی پشت پر ان لوگوں کا سرمایہ ہوتا ہے۔ جیتنے کی صورت میں یہ لوگ حکومت پارٹی کو بلیک میل کر کے اپنے کام کرواتے ہیں۔ پارٹی بھی اپنے اوپر پیسہ لگانے والوں کا خاص خیال رکھتی ہے۔ بھارت میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ بی جے پی تو ویسے ہی انتہا پسند پارٹی ہے۔ پیسے کے علاوہ ہندو دیش بنانے کا نعرہ بھی جیت کی بنیاد بنا۔ لیکن صرف نعرے سے کام نہیں چلتا۔ الیکشن میں پیسہ بھی خرچ ہوتا ہے اور یہ پیسہ یہی جرائم پیشہ افراد مہیا کرتے ہیں۔ ویسے بھی بی جے پی کے لیڈر اور بھارتی وزیر اعظم خود ایک جرائم پیشہ شخص ہیں۔ وہ نہ صرف ایک جرائم پیشہ بلکہ جنگی جرائم پیشہ شخص ہیں۔ بھارتی گجرات میں ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں جو مسلم خون سے ہولی کھیلی گئی کیا وہ کسی جنگی جرم سے کم ہے۔ الیکشن سے چند ماہ قبل پلوامہ سانحہ کی ذمہ داری بھی مودی حکومت پر ڈالی گئی۔ خود پارٹی کے رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے اور مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے 40 سے زائد بھارتی فوجیوں کا خون کیا گیا۔کیا یہ جرم کم ہے کہ اپنی ہی فوج کو حکومتی کرسی کی خاطر قتل کر دیا جائے۔ بھارتی سیاست میں جرائم کی بڑھتی ہوئی آمیزش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مودی کے گزشتہ دور حکومت میں 1700 سے زائد قانون ساز اداروں یعنی ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹ پر بھارتی عدالتوں میں مختلف جرائم کے لیے مقدمات چل رہے تھے۔ بھارتی لوک سھا اور راجیہ سبھا کے 30 فیصد سے زائد ارکان ایسے جرائم پیشہ تھے جن پر قتل، اقدام قتل، زیادتی، اغوا برائے تاوان اور انسانی سمگلنگ سمیت مختلف سنگین جرائم کے مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں۔ نریندر مودی کی گزشتہ حکومت کی وزارت قانون و انصاف نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے بتایا کہ 1765 ارکان پارلیمان اور ملک کی مختلف ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں جرائم کے 3045 مقدمات چل رہے ہیں۔بھارت میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 4896 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تہائی سے زائد یا تقریباً 36 فیصد قانون سازوں کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔ یہ گزشتہ حکومت کے اعدادوشمار ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق لوک سبھا میں اوسطاً ہر رکن کے پاس 14کروڑ 61 لاکھ روپے ہیں۔ اس طرح لوک سبھا کے تمام اراکین کے پاس موجود مجموعی رقم 6 ہزار 500 کروڑ روپے ہے۔ بھارت کی قومی زندگی کے یہ حقائق ہولناک ہیں۔ لیکن ان کی ہولناکی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں 86 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ یعنی ان افراد کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے کم ہے۔ بھارت کی ایک ارب 20کروڑ آبادی کے 60 فیصد حصے کے پاس بیت الخلا نہیں ہیں۔ 21 ویں صدی میں بھارت کے 30 کروڑ افراد کے پاس بجلی کی سہولت نہیں ہے۔

بھارتی اخبارات ہی کی شائع شدہ رپورٹوں کی بنیاد پر یہ بات کہی جارہی ہے کہ اگر بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے تو پھر حقائق کی بنیاد پر یہ بھی کہنا پڑے گا کہ حالیہ بھارتی پارلیمنٹ دنیا کی سب سے بڑی بدعنوان اور داغدار پارلیمان ہے۔ بھارت ہی کے ایک نامور جریدے ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ دولتمند اور سرمایہ دار بھارتی سیاستدان اپنے ملک کے موثر اخبار نویسوں اور اینکر پرسنوں کو رشوت دے کر اپنے سیاسی مخالفین کو بدنام اور ذلیل کرنے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔


ای پیپر