دفتری اوقات کے بعد ملازمین سے رابطہ کرنے کی پابندی
30 May 2019 (17:28) 2019-05-30

پیرس: ملازمت پیشہ افراد کا پوری دنیا میں سب سے بڑا اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ دفتری اوقات کے خاتمے کے بعد بھی ملازمین کی جان نہیں چھوٹتی ہے کیونکہ افسران انہیں فون کرنے اور دفتری مسائل پر بات چیت کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نجی زندگی ہر وقت مسائل سے دوچار رہتی ہے لیکن اب اس کا حل قانون سازی کے ذریعے نکال لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رائٹ ٹو ڈس کنیکٹ نامی قانون اسی لیے فرانس میں متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت 50 یا اس سے زائد ملازمین رکھنے والی کمپنی، فیکٹری یا کارخانے کی انتظامیہ دفتری اوقات کے خاتمے کے بعد اپنے ملازمین سے رابطہ نہیں کرسکے گی اور اگر کوشش کرے گی تو خلاف قانون عمل قرار دیا جائے گا۔دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم تنظیموں کے مطابق جس طرح امریکہ میں مزدوروں کے اوقات کار طے ہوئے تھے اور پھر پوری دنیا میں رائج ہوئے بالکل اسی طرح فرانس میں منظور کیے جانے والے اس قانون کا اطلاق بھی بہت جلد پوری دنیا میں ہو جائے گا۔

یورپی ملک فرانس میں اس سے قبل یہ قانون بھی منظور کیا جا چکا ہے کہ کمپنیاں، فکیٹریاں اور کارخانے اپنے ملازمین کو سالانہ 30 چھٹیاں اور 16 ہفتوں کی تنخواہ کے ساتھ تعطیلات دیں گی۔خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی رکن اسمبلی بینوئٹ ہیمن کے مطابق دفتری ملازمین کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر اپنے اہل خانہ یا دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں مگر ذہنی اعتبار سے دفاتر میں حاضر رہتے ہیں۔


ای پیپر