سعد حریدی کو سعودی عرب کی قید سے آزادی کیسے ملی ؟
30 مئی 2018 (20:29) 2018-05-30

پیرس : فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب نے لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو کئی ہفتے قید میں رکھا تھا۔ فرانسیسی صدر نے دعویٰ کیا کہ سعد حریری کو آزاد کرانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس وقت لبنان میں جنگ ہو رہی ہوتی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے امانوئل میکخواں کے بیان کو ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ امن اور استحکام کے لیے لبنان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تمام شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو لبنان اور خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے وہ ایران اور اس کے حزب اللہ جیسے آلہ کار ہیں۔‘ فرانسیسی صدر نے بی ایف ایم ٹی وی کو دیے جانے والے انٹرویو میں کہا کہ ’اگر فرانس کی بات اس وقت نہ سنی گئی ہوتی تو اس وقت لبنان میں جنگ ہو رہی ہوتی۔ یہ فرانسیسی سفارتکاری تھی۔‘ یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں فرانسیسی صدر نے ریاض کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جس میں انھوں نے سعودی ولی عہد شمزادہ محمد بن سلمان کو قائل کیا کہ لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کو فرانس جانے دیا جائے۔


میخواں نے کہا ’میں یاد دلاتا چلوں کہ لبنانی وزیر اعظم سعودی عرب میں کئی ہفتے تک حراست میں تھے۔ دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم سعد حریری منگل کو دوسری مرتبہ سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’امکان ہے کہ ان کا یہ دورہ چند روز پر مشتمل ہوگا۔


یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں لبنان میں سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا تھا جب سعودی عرب سے سعد حریری نے مستعفی ہونے کی تقریر کی اور کہا کہ ان کو ڈر ہے کہ ایران کی حمایتی جماعت حزب اللہ ان کو قتل کر دے گی۔


ای پیپر