ذکر آنے والے انتخابات اور قصہ جنرل درانی کا
30 مئی 2018

آج 31 مئی کو وفاق اور صوبوں میں منتخب قانون ساز اداروں (قومی اور صوبائی اسمبلیاں) کی پانچ سالہ مدت ختم ہو جائے گی۔ ان کے ساتھ ان کی کوکھ سے جنم لینے والی حکومتیں بھی گھر کی راہ لیں گی۔۔۔ نگران حکومتیں ان کی جگہ لیں گی اور اگلے دو ماہ کے اندر عام انتخابات منعقد کرا کے اقتدار کی زمام کار نئی اور عوام کی نمائندہ حکومتوں کے سپرد کر کے خود بھی راہی ملک عدم ہو جائیں گی۔۔۔ ملکی تاریخ میں شاید دوسری مرتبہ ایسا ہو گا کہ منتخب اسمبلیوں آئینی مدت پوری کریں گی۔۔۔ ورنہ اس سے قبل تقریباً ہر اسمبلی بلکہ پوری کی پوری پارلیمنٹ کو حکومت سمیت بذریعہ طاقت اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا تھا کسی کو مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے اندر دوسرے کامیاب ملکوں کے برعکس جمہوریت کبھی ارتقائی منازل طے کر کے پختگی کے مقام کو نہ پہنچ سکی۔۔۔ قوم کو مقتدر قوتوں کا احسان مند ہونا چاہیے کہ ازراہ کرم گستری انہوں نے گزشتہ دس برسوں میں اس کے منتخب اداروں کے ساتھ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔۔۔ انہیں اپنی طبعی عمر گزارنے کا موقع دیا۔۔۔ البتہ اتنا کیا کہ 2008ء تا 2013ء اور اس کے بعد 2013 ء تا 2018ء کی اسمبلیوں نے اکثریت کے بل بوتے پر جن وزرائے اعظم کو مقرر کیا، انہیں وقت سے پہلے کسی نہ کسی بہانے اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔۔۔ یہ نیا تجربہ تھا کہ پارلیمنٹ کو نہ چھیڑو۔۔۔ اس کی کوکھ سے جو حکومت وجود میں آتی ہے اسے ناپسندیدہ یا سر کش پاؤ تو کسی نہ کسی بہانے چلتا کرو۔۔۔ دونوں مرتبہ عدلیہ سے کام لیا گیا۔۔۔ توقع رکھنی چاہیے کہ 2018ء تا 2023ء کے لیے جو اسمبلی منتخب ہو گی اس کے چنیدہ اور عوام کے مینڈیٹ یافتہ وزیراعظم کو بھی تادم آخر (پانچ سال کی آئینی مدت) اپنے منشور پر عمل کرنے اور عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا موقع دیا جائے گا الاّ یہ کہ اسمبلی کے ارکان کی اکثریت عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اسے فارغ خطی دے دیں۔۔۔ یعنی آئین کے الفاظ اور روح کے مطابق عمل ہو گا اور ماتحت ادارے اپنی غیر اعلانیہ حکمرانی مسلط نہ کریں گے نہ ایسا ہو گا کہ جب جی چاہا منتخب حکومت پر چڑھ دوڑے۔۔۔ عوام کے شعور میں پہلے مقابلے میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔۔۔ پلڈاٹ جیسے رائے عامہ کا جائزہ پیش کرنے والے معتبر تحقیقاتی ادارے نے تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت ملٹری اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور نیب کو انتخابات کے حوالے سے غیر جانبدار نہیں سمجھتی۔۔۔ صرف 33 فیصد کی رائے ہے کہ یہ ادارے انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کرتے۔۔۔ اور یہ کہ گزشتہ ایک برس کے دوران انتخابی عمل کا جس منظم انداز سے جائزہ لیا گیا وہ سارا عمل غیرشفاف تھا اور قبل از انتخابات دھاندلی کی ذیل میں آتا ہے۔۔۔ نیب تو خیر ایک ڈکٹیٹر کی جانب سے سیاسی انتقام کی خاطر وجود میں لایا جانے والا ادارہ ہے۔۔۔ اس کے قوانین کو بھی کالا گردانا جاتا ہے۔۔۔ مگر فوج اور عدلیہ کا شمار ہمارے ملک اور قوم کے بہترین اثاثوں میں ہوتا ہے۔۔۔ فوج خدا کے فضل سے وطن عزیز کی سرحدوں اور داخلی سلامتی کی محافظ ہے۔۔۔ اس کے جوانوں اور افسروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔۔۔ جبکہ عدلیہ انصاف کا ترازو تھامے ہوئے ہے۔۔۔ ان کے تقدس پر ہرگز ہرگز حرف نہیں آنا اہیے۔۔۔ سیاسی اور انتخابی امور میں ان کی غیر جانبداری مثالی ہونی چاہیے۔۔۔ اگر پہلے نہیں تھی تو قوم اور ملک کا کابہترین مفاد شدت کے ساتھ تقاضا کرتا ہے کہ آگے چل کر ادارے اپنی حدود میں رہیں۔۔۔ ان کا اپنا مفاد بھی متقاضی ہے کہ اپنی شہرت پر کسی بھی معنی میں حرف نہ آنے دیں۔۔۔ پاکستان کے بہترین مستقبل کا راز دوسرے امور کے علاوہ اس اصول کی سختی کے ساتھ پابندی میں پنہاں ہے۔۔۔
سو کے قریب بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں اترنے کے لیے لنگر لنگوٹ کس رہی ہیں۔۔۔ ان کے علاوہ اچھی خاصی تعداد آزاد امیدواروں کی بھی ہو گی۔۔۔ لیکن اصل مقابلہ ملک گیر پیمانے اور علاقائی سطح پر بھی چند بڑی جماعتوں کے درمیان ہو گا۔۔۔ اپنا وزیراعظم منتخب کرانے یعنی قطعی یا واضح اکثریت حاصل کرنے کی دوڑ میں تین جماعتیں پیش پیش ہیں۔۔۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی ۔۔۔ دوسرے صوبوں کے علاوہ پنجاب سب سے بڑا میدان کارزار ہو گا۔۔۔ پانی پت کی جنگ یہیں لڑی جائے گی۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کواپنے ووٹ بینک اور وفاق و پنجاب میں کارکردگی پر بہت ناز ہے۔۔۔ ایک عامل نواز شریف کی ’مظلومیت‘ کا بھی ہے۔۔۔ جب سے اقامہ کے الزام پر انہیں برطرف اور نااہل قرار دیا گیا
ہے۔۔۔ انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ مسلسل پیشیاں بھگتنے کے ساتھ عوامی رابطے کی زبردست مہم چلائی ہے۔۔۔ اپنی برطرفی کو اوپر والوں کی انتقامی کارروائی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔۔۔ برطرفی کے معاً بعد جی ٹی روڈ کا زبردست شو منعقد کیا۔۔۔ بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔۔۔ روزانہ کے حساب سے صحافیوں کو اپنے نقطہ نگاہ سے آگاہ کرتے ہیں۔۔۔ اپنے بیانیہ کو مقبول سے مقبول تر بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے۔۔۔ رائے عامہ کے جائزے بھی ان کی جماعت کی اوّل پوزیشن کی خبر دے رہے ہیں۔۔۔ مسلم لیگ ن والوں کا خیال ہے کہ اگر یار لوگوں نے ہاتھ کی صفائی نہ دکھائی اور مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے کرتب نہ کیے تو ان کا لیڈر ایک مرتبہ پھر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔۔۔ اگلا وزیراعظم اس کی مرضی کا ہو گا۔۔۔ دوسری جانب تحریک انصاف اور اس کے ولولہ انگیز رہنما عمران خان ہیں۔۔۔ کرکٹ کے ہیرو، شوکت خانم کینسر ہسپتال کے بانی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے اندر پانچ سالہ حکومتی تجربے کے مالک۔۔۔ انہوں نے نواز شریف کی برطرفی کی خاطر عوامی سطح پر کلیدی کردار ادا کیا۔۔۔ اسے اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔۔۔ اور شاید اسی سبب کی بنا پر نواز شریف انہیں مقتدر قوتوں کا لاڈلا گردانتے ہیں۔۔۔ 2013ء کے انتخابات میں عمران خان کی جماعت نے مسلم لیگ (ن) کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔۔۔ البتہ قومی اسمبلی میں نشستوں کے حوالے سے ان کا نمبر پیپلزپارٹی کے بعد تیسرا تھا۔۔۔ اس مرتبہ ان کا خیال ہے وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے، تحریک انصاف برسراقتدار آئے گی اور وہ خود وزیراعظم بنیں گے۔۔۔ البتہ رائے عامہ کے جائزے انہیں نواز شریف کی جماعت سے خاصے فاصلے کے ساتھ دوسری پوزیشن پر بتا رہے ہیں۔۔۔ انہیں اپنی کامیاب کے لیے دوسرے عوامل کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ حمایت پر بھی تکیہ ہے۔۔۔ یہ حمایت کچھ ایسی ڈھکی چھپی بھی نہیں۔۔۔ وفاداریاں تبدیل کرنے کا ’جدّی پشتی‘ ریکارڈ رکھنے والے جس تعداد میں ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں،وہ غیبی اشارے کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔ جناب عمران اس پر مسرور و مطمئن بھی بہت ہیں۔۔۔ زرداری جمع بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی بھی گھن گرج میں کسی سے پیچھے نہیں۔۔۔ اندرون سندھ اس کا ووٹ بینک مضبوط ہے پنجاب باوجود تمام تر کوشش اور دعووں کے ان کے لیے بنجر سرزمین ہے۔۔۔ بقیہ دو صوبوں میں بھی حالت پتلی ہے ۔۔۔ لیکن زرداری صاحب بڑے کائیاں سیاستدان ہیں۔۔۔ سیاسی جوڑ توڑ کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں ۔۔۔ اپنے اس فن کا جس کامیابی کے ساتھ انہوں نے بلوچستان کی حکومت توڑنے، مرضی کا وزیراعلیٰ لانے اور سینیٹ میں نمائندگی حاصل کرنے یہاں تک کہ اوپر والوں کی اشیر باد کے ساتھ ایک غیر معروف شخصیت کو ایوان بالا کا چیئرمین منتخب کرانے میں مظاہرہ کیا۔۔۔ اس کی بنا پر موصوف کو اعتماد ہے اگر اسٹیبلشمنٹ کی دیرینہ خواہش درآئی اور معلق (HUNG) ، پارلیمنٹ وجود میں آ گئی تو ان کی حیثیت بادشاہ گر کی ہو گی۔۔۔ ان کی سیاسی کاریگری کی بدولت صادق سنجرانی کی مانند کوئی چھپا رستم (Dark Horse) وزیراعظم ’’منتخب‘‘ ہو گا۔۔۔ اوپر والے اسے دیکھ کر خوش ہوں گے اور کھلونے کی مانند اسے استعمال کریں گے۔۔۔ جبکہ جناب زرداری اور ان کی جماعت کا طنطنہ قائم رہے گا۔۔۔ اسی کھیل تماشے میں اگر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت بن گئی تو چنداں تعجب کی بات نہ ہو گی۔۔۔ لیکن اس سب کا انحصار اس پر ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ (ن) کے بگٹٹ انتخابی گھوڑے کو کس حد تک پیچھے رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
ممبئی دھماکوں کے بارے میں انٹرویو دینے پر نواز شریف کے خلاف اٹھنے والا طوفان تھمنے نہیں پایا تھا کہ ’آئی ایس آئی‘ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوئی کتاب اور اس کے مندرجات نے فضا بدل ڈالی۔۔۔ نواز شریف نے اتنا کہاتھا ہماری طرف سے غیرریاستی عناصر کو ممبئی جا کر ڈیڑھ سو بھارتیوں کو ہلاک کرنے کی اجازت کیوں دی گئی اور مقدمے کی کارروائی مکمل کیوں نہیں ہو پا رہی۔۔۔ جنرل درانی کے ساتھی مصنف اے ایس دلت نے نہلے پہ دہلا مارا کتاب میں لکھا حملے کی منصوبہ بندی جنرل مشرف کے دور میں ہو گئی تھی۔۔۔ انہیں غصہ تھا کہ بھارت والوں نے کشمیر پر ان کے ’آؤٹ آف بکس‘ حل کو فوری طور پر تسلیم کیوں نہیں کیا۔۔۔ حالانکہ انہوں نے تو سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے پاکستان کی دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔۔۔ درانی صاحب نے اس کی تردید نہیں کی۔۔۔ خود فرمایا کہ حریت کانفرنس ہم نے بنائی تھی۔۔۔ اس سے بھی آگے بڑھے اور کہا اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی نے خفیہ مدد فراہم کی تھی۔۔۔ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی خبر آئی ایس آئی کے ایک سابق افسرنے امریکی سفارت خانے میں جا کر دی تھی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ دوسرے الفاظ میں جنرل درانی پاکستان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے۔۔۔ ان کے تمام تر اعتراضات پر شاید یہ کہہ کر مٹی ڈالی جاتی کہ ان میں کوئی نئی بات نہیں۔۔۔ سب کچھ عالمی پریس میں چھپ چکا ہے۔۔۔ مگر سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی اور میاں نواز شریف نے جس ردعمل کا اظہار کیا اور میڈیا میں آوازیں بلندہوئیں تو ’آئی ایس پی آر‘ نے ٹویٹ کیا جنرل درانی کو جی ایچ کیو میں طلب کر لیا گیا ہے۔۔۔ موصوف کی اپنے گھر میں حاضری ہوئی اس کے بعد خبر جاری کی گئی کہ جنرل صاحب کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیاہے۔۔۔ اور ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل سروس کی سربراہی میں بورڈآف انکوائری بنا دیا گیا ہے کہ جنرل درانی ملٹری کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب تو نہیں ہوئے۔۔۔ انہوں نے کتاب اور اس کے مندرجات کے بارے میں پیشگی اجازت لی تھی یا نہیں۔۔۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب جنرل درانی ’را‘ کے سابق چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر کتاب تصنیف کر رہے تھے۔۔۔ اس کی خاطر دبئی، استنبول اور بینکاک جا کر ایک بھارتی صحافی کو انٹرویودے رہے تھے ۔۔۔ تو ان کی یہ تمام تر سرگرمیاں ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں سے جو اڑتی چڑیاکے پر بھی گن لیا کرتی ہیں کیسے مخفی رہیں۔۔۔ آپ تو ایک معمولی سیاسی کارکن اور عام درجے کے صحافی کے بارے میں بھی ہر بات کی خبر رکھتے ہیں جنرل درانی کا ’را‘ کے سابق چیف کے ساتھ بار بار ملاقاتیں اور تبادلہ خیالات کرنا اور انہیں کتاب کی شکل دینا کوئی معمولی بات نہ تھی جس کی ہوا تک آپ کو نہ لگی۔۔۔ امید کرنی چاہیے بورڈ آف انکوائری اس سوال کا بھی جائزہ لے گا اور قوم کو پوری تحقیق سے آگاہ کیا جائے گا۔۔۔ اس رپورٹ کا حشر حمود الرحمن یا ایبٹ آباد کمیشن کا سا نہیں ہو گا۔


ای پیپر