الیکشن کی جانب
30 مئی 2018

عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ستر فیصدمراحل مکمل ہو گئے۔باقی ماندہ مراحل اس تحریر کی اشاعت تک مکمل ہو جائیں گے۔ جس کے بعد انتخابی مہم شروع ہو جائے گی۔اور پچیس جولائی کو پولنگ کا دن ہو گا۔
دو ہفتے قبل صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی مجوزہ سمری پر دستخط کیے اور 25 جولائی کی تاریخ فکس کر دی۔ تاریخ کے تعین نے کئی مراحل بیک جنبش قلم طہ کر دیے۔ مرحلہ باقی تھا نگران وزیر اعظم کے تعین کا۔ایک پہچان اضطراب تھا۔کنفیوڑن کی فضا تھی۔معاملہ پارلیمان کمیٹی کی طرف جاتا نظر آرہا تھا۔یوں لگتا تھا کہ سیاسی قوتیں اتفاق رائے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو ں گی۔یوں معاملہ پہلے پارلیمانی کمیٹی کی طرف جاتا۔ پارلیمانی کمیٹی کی کمپوزیشن بڑی انٹرسٹنگ ہے۔تعداد اس کی آٹھ ہے برابر،برابرچار حکومت،چار اپوزیشن لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔حکومت کے بھی چار بندے ہوں گے لیکن اپوزیشن صرف ایک جماعت تو نہیں۔ قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی ہاؤس وزیر اعظم پاکستان ہیں۔ جبکہ لیڈر آف اپوزیشن سید خور شید شاہ ہیں تعلق ان کا پیپلز پارٹی سے ہے۔ گویا نوٹیفائیڈ اپوزیشن تو وہی ہیں۔ لیکن قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی،ایم کیو ایم،اے این پی سمیت کئی جماعتیں موجود ہیں۔یہ ضروری نہیں پارلیمانی کمیٹی میں ارکان قومی اسمبلی ہی شامل ہوں۔اس میں ارکان سینیٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل ہوتی تو معاملہ کچھ مختلف ہوجاتا۔اپوزیشن کی جانب سے دیگر جماعتوں کو بھی نمائندگی دینا پڑتا۔اس کمیٹی میں اگر فیصلہ اتفاق سے نہ ہو سکے تو میجارٹی سے ہوتا۔پانچ ووٹ جس طرف ہو جائیں فیصلہ اس طرف جاتا۔گزشتہ ہفتہ کے دوران وزیر اعظم اوراپوزیشن لیڈر کے درمیان مذاکراتناکام ہو گئے تو پارلیمانی کمیٹی کی طرف معاملہ جاتا نظر آئے۔پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کو احساس ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ پی ٹی آئی اور حکومت مل کر فیصلہ کر لیں اور گیم ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔حکومت کو بھی احساس ہواکہ اگر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی متحد ہو گئیں تو وہ ملی بھگت کر کے کسی ایسی شخصیت کو نامزد کرا سکتے ہیں جو حکومت کیلئے نا پسندیدہ ہو۔اسی خدشے اور گیم ہاتھ سے نکل جانے کے خطرے نے دونوں بڑی جماعتوں کو ایک پیج پر اکٹھا کر دیا۔ بلاول بھٹو،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے درمیان رابطوں نے براہ راست کردار ادا کیا۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ڈپٹی سپیکر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔جس کے نتیجہ میں اتوار کی شام تک ایک مرتبہ پھرافہام و تفہیم کی فضا پیدا
ہوچکی تھی۔ اب نام پر بحث ہوئی۔ نگران وزیر اعظم کس کو بنایا جائے۔آصف زرداری ذکا اشرف کو نگران وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے۔ان کی مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں بہت قریبی رشتہ داریاں ہیں۔ ان سے خاص طور پر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ نگران وزارت عظمیٰ پر نامزدگی سے چند منٹ پہلے تک وہ امید سے تھے۔ پارلیمنٹ ہاؤس سے ڈیڑھ کلو میٹر اپنے عزیز کی رہائش گاہ پر وہ خبر سننے کے بے چینی سے منتظر تھے۔ لیکن ان کو ان کی جماعت لارا لپا لگا رہی تھی۔فیصلہ تو کسی اور کے حق میں ہو چکا تھا۔پریس کانفرنس کیلئے مین ٹیبل پر بیٹھے ایک اہم شخص نے ہاتھ سے لکھی ہوئی چٹ کھول کر قائدین کو دکھائی۔لیکن وہ چٹ پڑھے بغیر واپس کردی گئی۔ اناؤسمنٹ چیف جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام کی ہوئی۔ کیونکہ اس کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔سابق چیف جسٹس ناصر الملک کا نام ایک مہینہ پہلے حکومت کی جانب سے آیا۔ اور پھر خاموشی اختیار کر لی گئی۔کیونکہ مقصد ان کے نام کو تنازعہ،تنقید اور بحث و مباحثہ سے بچانا تھا۔طے یہ ہوا کہ اگر ضرورت پڑی تو آخری موقع پر ان کانام سامنے لایا جائے گا۔اسی دوران باقی ناموں کا میڈیا ٹرائل ہوتا رہا۔حکومت اور اپوزیشن نے اپنے پتے کامیابی سے چھپائے اورترپ چال موقع کے مطابق چلی۔پی ٹی آئی سے لیکر باقی اپوزیشن جماعتوں تک کسی کو مخالفت کرنے کا موقع نہ ملا۔اور یوں پہلی مرتبہ جسٹس ناصر غیر متنازعہ نگران وزیر اعظم نامزد ہو گئے۔اب الیکشن سے لیکر نگران تک تمام آئینی و قانونی اختیار عدلیہ سے متعلق شخصیات کے پاس ہیں۔کوئی ایک بھی عہدیدار ایسا نہیں جس پر کسی نے انگلی اٹھائی ہو۔اب ذمہ داری سیاسی قیادت پر ہے کہ وہ کسی طرح سے ری ایکٹ کرتی ہے۔ اب سیاستدانوں کو یقین دہانی کرانی ہو گی کہ وہ الیکشن کے نتائج بھی اسی طرح قبول کرینگی۔ جس طرح وہ تالیاں بجا بجا کر تقریروں پر داد و تحسین کے ڈھنگرے برسا رہے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ چیف جسٹس (ر)ناصر الملک کو خوش آمدید پر مبنی تمام بیانات محفوظ کر لیے جائیں۔ اور دھاندلی کے الزامات سے قبل وہ بیانات ان کے سامنے رکھ دیے جائیں۔ مرکز کے ساتھ ساتھ بڑے صوبے پنجاب میں بھی نگران وزیر اعلیٰ کا تقرر ہو چکا۔ ہمہ وقت وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بنانے والے میاں محمود الرشید اچانک ایسے رام ہوئے کہ کسی کو حیران ہونے کا موقع بھی نہ ملا۔ لیکن لاہور کی سیاست میاں محمود الرشید اور شریف فیملی کے ماضی کے رابطے سمجھنے والے جانتے ہیں کہ موقع آنے پر ایک دوسرے کو آکاموڈیٹ کیا جا تا ہے۔ آخرگلشن کا کاروبار بھی تو چلانا ہوتا ہے۔ابھی سند ھ،بلوچستان اور کے پی میں نگران وزرائے اعلیٰ کا تقرر ہونا باقی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے لاڈلے ڈاکٹر قیوم سومرو وزارت اعلیٰ کیلئے دن رات بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی دال گلتی نظر نہیں آ رہی۔ابھی تو یہ بھی فیصلہ نہیں ہوا کہ وزارت اعلیٰ سندھی سپیکنگ کو دینی ہے یا اردو بولنے والے کو۔بلوچستان میں بی اے پی کے لیڈروں کی خواہش ہے کہ علاوہ ازیں مری کی نامزدگی ہو جائے۔دیکھیں کامیابی ہوتی ہے یا نہیں۔جہاں تک تعلق ہے کے پی کا فیصلہ ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر یو ٹرن لے لیا گیامنظور آفریدی کی تقرری کا فیصلہ ہوا۔ لیکن اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایسی متحد ہوئیں کہ فیصلہ ریورس کرنا پڑا۔بہر حال عوامی دباؤ پر فیصلہ تبدیل کر کے عمران خان نے مثبت اقدا م کیا۔
انتخابات کے بڑے مراحل گزر چکے۔اب صرف صوبوں میں نگرانوں کی تقرری باقی ہے۔ علاوہ ازیں انتخابی شیڈول کا اعلان باقی ہے۔ انتخابات کے انعقاد میں نگران حکومت سے زیادہ الیکشن کمیشن کا کردار ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن عالمی طاقتوں کی جانب سے سبو تاز کیے جانے کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں۔ فوری طور پر ان کیمرہ اجلاس کر کے یہ خدشات جاننے چاہیے۔ کیونکہ پاکستان کا مستقبل اس الیکشن اور نتائج کے گرد گھوم رہا ہے۔


ای پیپر