انڈین آبی جارحیت اور ہماری مجرمانہ خاموشی
30 مئی 2018

اس وقت ہمارا قومی میڈیا روز مرہ کی سیاستدانوں کی مصروفیات کی رننگ کمنٹری کے علاوہ کوئی قابل ذکر معلومات فراہم نہیں کر رہا۔ قومی امور تحقیق کا فقدان یا تو غیر پیشہ ورانہ اپروچ کا نتیجہ ہے یا پھر کسی ترغیب نے میڈیا کی آنکھیں چندھیا رکھی ہیں۔ اس ہفتے سارا زور خورشید شاہ اور وزیر اعظم کی 6 ملاقاتوں پر ہے یا پانامہ لیکس ڈان لیکس نیب سپریم کورٹ کی کارروائیوں پر ہے جو وقت بچتا ہے وہ جلسوں اور افتتاحی تختیوں کی رپورٹنگ کی نذر ہو جاتا ہے۔ آنے والے سلامتی کے خطرات یا قومی چیلنجز کے بارے میں نہ کوئی وارننگ ہے اور نہ کوئی نشاندہی۔ ہلاکو خان نے جب بغداد پر حملہ کر کے اسلامی مملکت کے دارالخلافہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو وہاں کا ماحول یہ تھا کہ شہر کے ہر گلی کوچے میں مناظر ے کرنے کا کلچر عام تھا۔ جس دن شہر پر حملہ ہوا اس دن ایک چوک میں اس بات پر مناظرہ تھا کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔ دوسرے چوک میں موضوع چل رہا تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام۔ جبکہ تیسرے چوک میں مسواک کی شرعی سائز پر بحث ہو رہی تھی۔ ہمارا میڈیا 13 ویں صدی کے بغداد کے 2025 تک پاکستان میں پانی کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا مگر مجال ہے کہ کسی کو اس پر ریسرچ کرنے کی توفیق عطا ہوئی ہو۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اسی لیے قرار دیا تھا کہ وہاں سے آنے والے دریا چناب جہلم اور سندھ پاکستان کے لیے زندگی کی علامت ہیں اور اگر یہ دریا خشک ہو جائیں تو پاکستان بنجر ، بے آباد اور ریگستان میں تبدیل ہو کر صومالیہ سے بدتر ہو جائے گا۔
پچھلے ایک اڑھائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے خلاف بھارت کی آبی جارحیت جاری ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری زراعت اور معیشت بتدریج تباہ ہو رہی ہے۔ نریندر مودی کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان سرحد پار سے دراندازی کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ان کا پانی روک لینے کا حق حاصل ہے۔ اس وقت دریائے چناب کا پانی روک کر بگلیہار ڈیم میں ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔ مئی 2017 ء میں ہمیں 50 ہزار کیوسک پانی مل رہا تھا۔ جو اس وقت یعنی مئی 2018ء میں صرف 20 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔ جسکی وجہ سے ہیڈ پنجند سے آگے پانی کا اخراج صفر ہو چکا ہے جس سے پنجاب اور سندھ کی فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یادرہے کہ بگلیہار ڈیم انڈیا نے مشرف دور میں بنایا تھا۔ اس سال دریائے جہلم پر کشن گنگا ڈیم کا افتتاح کر کے نریندر مودی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ وادی نیلم کو کھنڈر بنا دے گا۔یہ دونوں ڈیم 1960ء کے انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی ہے جس کی رو سے پنجاب میں بہنے والے دریاؤں بیاس راوی اور ستلج پر انڈیا کا حق تسلیم کیا گیا ۔ جبکہ کشمیر سے آنے والے دریاؤں چناب جہلم اور سندھ کو پاکستان کی ملکیت پر اتفاق ہوا۔ ورلڈ بنک اس معاہدے کا ضامن بھی ہے اور ثالث بھی۔ بگلیہار اور کشن گنگا ڈیموں کی تعمیر کے بعد پاکستان کے حصے کا پانی انڈیا کے قبضے میں ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جب چاہے اسے روک کر خشک سالی پیدا کرے اور جب چاہے اپنے ڈیموں کو کھول کہ پاکستان میں سیلاب کی صورت حال پیدا کر دے۔
آج اگر ہم نے 1984 میں کالا باغ ڈیم منصوبے کو فریز نہ کیا ہوتا تو پاکستان میں زرعی خوشحالی کے ساتھ ساتھ ملک میں توانائی کا قطعی کوئی بحران نہ ہوتا۔ کالا باغ پراجیکٹ 1984 میں ورلڈ بنک کے تعاون سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر سیاسی وجوہات کی بنا پر اس پر عمل نہ ہو سکا۔ اس کی پانی ذخیرہ کونے کی صلاحیت 8 ملین ایکڑ فٹ تھی جس میں 6 ملین ایکڑ فٹ قابل استعمال تھا۔ 8 ارب ڈالر کی لاگت سے مجوزہ طور پر مکمل ہونے کی صورت میں اس سے ہمیں 3600 میگا واٹ بجلی روزانہ حاصل ہونا تھی اس منصوبے پر مشینری اور دیگر اخراجات کی مد میں ایک ارب ڈالر خرچ بھی کیا تھا جو ضائع ہو چکا ہے۔ اس منصوبے نے 5 سال میں مکمل ہونا تھا اور اگلے 5 سال کے اندر اس نے اپنی لاگت پوری کر لینا تھی۔ اس سے 83000 گھرانے متاثر ہو رہے تھے جن کی آباد کاری کا متبادل موجود تھا ۔ ایک طرف 83000 متاثرین اور دوسری طرف 22 کروڑ لوگوں کو اور معیشت کو فائدہ ہونا تھا۔ اس سے جہاں ایک طرف kpk میں بلندی پر واقع 8 لاکھ ایکڑ زمین قابل کاشت ہونی تھی جبکہ بد نیتی سے سیاسی تنازع بنا دیا گیا۔ اور kpk اور سندھ میں اس کے خلاف صوبائی اسمبلیوں میں قرار دادیں پاس کروائی گئیں۔ آج اگر ہمارے پاس کالا باغ ڈیم ہوتا تو بجلی کا بحران نہ ہوتا اور بجلی 18 روپے یونٹ کی بجائے 4 روپے میں مل رہی ہوتی۔
کشن گنگا منصوبے پر کام کا آغاز 2007 میں ہوا تھا۔ پاکستان کے عالمی عدالت انصاف میں اس پر تین سال تک stay لیے رکھا مگر غیر تسلی بخش حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان یہ مقدمہ ہار گیا۔ اور انڈیا کے مؤقف کو درست تسلیم کر لیا گیا۔ انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ان دریاؤں پر آج تک نہ تو ڈیم بنا سکا ہے اور دوسرا یہ کہ بہت سا پانی استعمال کیے بغیر سمندر میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے انڈیا کو یہ حق حاصل ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائے۔
کالا باغ ڈیم کے بارے میں انڈیا میں مشرف کے دور میں انڈین پارلیمنٹ میں یہ بحث چلی تھی کہ فلاں خفیہ فنڈ کہاں استعمال ہوا ہے اس کا حساب دیا جائے پہلے تو کافی عرصہ تک سپیکر نے معاملات کو روکے رکھا مگر بالآخر انہیں یہ بتانا پڑا کہ یہ فنڈ لابنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے خفیہ رکھا گیا ہے کہ پاکستان کالا باغ ڈیم نہ بنائے۔ اس مقصد کے لیے پاکستانی سیاستدانوں کو پیسے دینے کا معاملہ جب طول پکڑ گیا تو پاکستان کی قومی اسمبلی میں عابد شیر علی نے آن دی ریکارڈ کہا تھا کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے پاکستانی سیاستدان انڈیا کے ایجنٹ ہیں اور ان سے پیسے لیتے ہیں۔ ان کا اشارہ عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف تھا۔
اگر فاٹا کے انضمام کے لیے ملک کے مفاد کی خاطر دو دن کے اندر تمام پارٹیوں میں اتفاق رائے ہو سکتا ہے اور دو تہائی اکثریت سے ترمیم پاس ہو سکتی ہے۔ اور ختم نبوت کے حلف میں تبدیلی اور تنسیخ فوری ہو سکتی ہے اور نا اہلی کے باوجود ترمیم کے ذریعے ایسے شخص کی پارٹی کی سربراہی کو آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ ملک میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر جو ہماری قومی معیشت کے لیے آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے اس پر concensus کے لیے کچھ نہ کیا جائے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے انڈیا کی طرف سے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک پراکسی بنایا گیا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے یا جس طرح سے منظور پشتین جیسے لوگوں کو ڈھونڈڈھونڈ کہ ریاست اور فوج کے خلاف کھڑا کیاجا رہا ہے۔ انڈیا کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں قانونی اور سفارتی جنگ کرنے کی ضرورت ہے مگر اس سے پہلے قومی سطح پر عوام کو یہ باور کرنا ضروری ہے کہ معاملہ کی سنگینی اور نزاکت کا احساس نہ کیا گیا تو 2025 تک پاکستان پانی کے شدید ترین بحران سے دوچار ہو گااور یہ بحران خالصتاً انڈیا کا پیدا کردہ ہے۔
ہمارے میڈیا پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو آنے والے خطرات سے باخبر کر لے اور عوام کے اندر یہ شعور اجاگر کر لے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے سوال کر سکیں کہ ملک کی واٹر پالیسی کیاہے۔


ای پیپر