۔۔۔ ارباب سیاست؟
30 مئی 2018 2018-05-30

اسلام کا تصورعبادت چند جامدرسومات کا مجموعہ نہیں ہے۔یہ ایک ہمہ جہت حرکی اورتخلیقی عمل کا نام ہے جس کی اساس گہرا فہم وتدبرہے جوہرلمحہ فکرتازہ سے جہان تازہ کی تعمیرکرتاہے۔یہ غوروفکرقرآن، نفس انسانی اورکائنات میں بکھری آیات کی شیرازہ بندی کرتاہے، ان آیات کی تطبیق سے ایک پیغام اخلاق اخذکرتاہے ۔ اس پیغام اخلاق کو عملی جامہ پہنانے کی جہد مسلسل کانام عبادت ہے۔شہرمکہ کی جلوتوں سے دورغارحراکی خلوتیں تسبیح ومناجات سے کہیں زیادہ فہم وادراک کی ہلکی آنچ پرجگرسوزی اوردل لہوکرنے کی ریاضت تھیں۔یہ روح کائنات پرغوروخوض تھاجس کاجواب ( تجلی ادراک) غالباً ستائیس رمضان المبارک کواسی غارحرامیں قرآن کی شکل میں آیاتھاجس نے تقدیرعالم کو بدل ڈالا، یوں پیغمرحق کا تلاش حق کا سفرختم ہوا، اعلان حق کی منزل آئی جوہلاکت خیز کٹھنائیوں سے عبارت تھی، مگر صبرو استقامت سے اس منزل کو بھی عبورکیا اور نفاذ حق کو یقینی بنایا۔یہ سب مرحلے نہایت جاں گسل تھے مگرحرکی اورتخلیقی رویوں سے عبورکیے گئے۔یہ پیغام حق ستاروں کے جگرچاک کرنے کی دعوت لیکرطلوع ہوا اور تسخیرکائنات اس پیغام کا جزولاینفک تھا، یوں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام عہداول میں ہرلمحہ انقلاب تھا، تکبیرمسلسل تھا۔پھرملوکیت کی زد میں آکر رسمی عبادات کا مجموعہ بن گیاجوآج تک جمود کی نگہباں چلی آرہی ہیں۔اقبال نے اسلام کے حقیقی اوررسمی تصورعبادت کو کتنے عمدہ پیرائے میں بیان کیا ہے
یا وسعت افلاک میں تکبیرمسلسل
یا خاک کی آغوش میں تسبیح ومناجات
وہ مذہب مردان خدامست وخودآگاہ
یہ مذہب ملا وجمادات ونباتات
خطبات میں حضرت علامہ اقبال اسلام کے تصورعبادت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "مظاہرفطرت کا مشاہدہ کرنے والا سائنسدان ایک طرح سے پیہم عبادت میں مصروف عمل صوفی ہے، یہ تسخیرفطرت کی راہ کا مسافرہرلمحہ اپنی طاقتوں اورفطرت پرغلبے میں اضافے سے لامتناہی کل کا ایک ایسا وژن پالیتاہے جسے پانے کیلئے فلسفہ ایڑی چوٹی کا زورلگا تا ہے مگر نامرادرہتاہے" گویا مظاہرفطرت پر غورو فکر اور تسخیر کائنات آیہ کائنات کی سائنسی تلاوت ہے اور قرب خداوندی کا موثرترین ذریعہ عبادت ہے۔اقبال فرماتے ہیں " وہ علم جسے طاقت میسرنہ ہوکچھ اخلاقی بلندی کا سبب بن سکتاہے مگراس کی کوکھ سے مضبوط وتوانا کلچرکا جنم ممکن نہیں ہوتا، بعینہ اگرطاقت علم سے محروم ہوتو تباہ کن اورغیرانسانی ثابت ہوتی ہے،لہٰذا علم اورطاقت دونوں کا
ملاپ انسان کی روحانی ترقی کیلئے ازحدضروری ہے"۔ فکرمغرب نے سائنس اورٹیکنالوجی کی مددسے فطرت کی طاقتوں کو مسخرتوکرلیا مگرمظاہرفطرت میں پنہاں حکمت اوران کی غایت اولیٰ کو نہ پاسکی نتیجے میں انسانیت آج ایک بڑی ایٹمی جنگ یا ماحولیاتی تباہی کے دہانے کھڑی ہے۔"وہ فکرچالاک جس نے عریاں کیا تھا فطرت کی طاقتوں کو،، اسی کی بے تاب بجلیوں سے خطرمیں ہے اس کا آشیانہ" فہم وتدبرعبادت کا مغزہے۔اسلام کا تصورتوحیدصرف خالی خولی ایک خداپرمحض زبانی ایمان لانے کا نام نہیں ہے۔اگریہی مقصودومنتہا ہوتاتواس تصورتک تو اہل مکہ میں سے کچھ نیک فطرت پہنچ چکے تھے جنہیں قرآن حنفاء کہتا ہے۔نبی آخراالزماں کا تصورتوحیدان حنفاء سے یکسرمختلف تھا کہ یہ روزاول سے سماجی اصلاحات سے جڑاہواتھا۔اس تصورتوحیدکا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اگرخدا ایک ہے توبنی نوع انسان بھی ایک ہے سماجی، سیاسی اور معاشی فضیلتوں پرسب کا یکساں حق ہے۔مکی دورکی سورۃ ماعون کا مغزیہ ہے کہ یتیموں، بے نواؤں اور مسکینوں سے منہ پھیرنادیگرافرادمعاشرہ کی ضروریات سے بے نیازی توحیدخداوندی اوریوم جزاء وسزاپرعدم ایمان ہے۔ایسی کمیونٹی کی نمازیں منافقانہ ہیں۔ ۔قرآن کہہ رہا ہے کہ جب خدا مومنین کو زمین پراقتداردیتا ہے تو وہ نمازقائم کرتے ہیں اورزکوٰۃ کا انصرام کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ نماز وزکوٰۃ وہی ہے جس کاپرچارآج مسجدوممبرسے ہورہا ہے؟ سلطنت عثمانیہ کے وفد نے اقبال کیساتھ بادشاہی مسجدمیں باجماعت نمازپڑھی تو امام کے لمبے لمبے رکوع وسجودپرحیرت کا اظہارکیا تو اقبال نے کہا" قوم کیا ہے؟، قوموں کی امامت کیا ہے؟ یہ کیا جانیں بے چارے دو رکعت کے امام!!! نمازاستعارہ ہے قانون کی حکمرانی کایعنی حکومت اسلامیہ کا فرض ہے کہ وہ قانون کا سب پریکساں اطلاق کرے، زکوْٰۃ علامت ہے معاشی انصاف کی، روزہ ایثاروقربانی کی ریاضت سکھاتا ہے ، حج قومی احتساب کا فورم ہے۔مگرجب یہ جملہ عبادات رفتہ رفتہ مغزسے محروم ہوتی گئیں تو منظرنامہ " ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا" میں بدل گیا۔سیدالسادات جمال الدین افغانی جسے امریکی مصنفہ نکی کیڈی اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے عنوان میں اس فردواحد جمال الجمال کو Islamic Response to Western Imperialismقراردیتی ہیں ،عمربھراستعمار سے برسرپیکاررہے ،اس پاداش میں بھارت، مصر، ایران، ترکی وغیرہ سے ڈی پورٹ کیے جاتے رہے، مگرلندن میں عدل وانصاف دیکھ کر بے ساختہ کہہ اٹھے تھے کہ" میں نے مصرمیں مسلمان دیکھے ہیں، لندن میں اسلام دیکھ رہاہوں"۔
سیاست روح حیات ہے۔ عربی زبان میں سیاست سرکش گھوڑے کو سدھارنے کے عمل کا نام ہے، یہ باغی جبلتوں کی تہذیب و تحسین کا نام ہے، امورریاست اور قومی معاملات کو بے اعتدالیوں سے پاک کرنیکا نام سیاست ہے۔تاریخ اورقرآن کی شہادت یہی ہے کہ سیاست خدمت انسانی کا موثرترین ذریعہ ہے ۔نیلسن منڈیلاکوئی این جی اوبناکرقوم کی کتنی خدمت کرسکتاتھا؟ مگر وہ کہتاہے کہ مجھے جناح اور گاندھی کی سیاست نے امیدکی کرن دکھائی اوراپنی قوم کی عزت و شرف کی بحالی کیلئے ہرقربانی کیلئے کمربستہ ہوگیا۔ ستائیس برس جیل کاٹی ، اپنی قوم کا وقاربحال کرکے اہل جہاں کو دکھادیا کہ کالا رنگ بھی خوبصورت رنگ ہوتاہے ۔سوال یہ ہے کہ آج حضرت جناح اور حضرت اقبال کے وارث حالات کو ناقابل عبورکیوں سمجھ رہے ہیں۔ پاکستانی نیلسن منڈیلاکیوں شارٹ کٹ کھیل رہاہے، کھلاڑی اپنی کارکردگی کے بجائے کیوں امپائرپرتکیہ کیے ہوئے ہے، شیرکوبھی ہمیشہ دم پرپاؤں پڑنے سے ہی کیوں انقلاب اورووٹ کی عزت وتکریم کا بخارچڑھتا ہے، جب راوی چین ہی چین لکھتاہے تو ملک شریفے کا پیڑبن جاتا ہے۔ سیاست کے بغیراس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے، "محافظ بریگیڈ" کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست کا گلہ دباکر(Puppet Show) سے کام نہیں چلایا جاسکتا۔عام انتخابات کا طبل بج چکا ہے۔ اہل سیاست منشوربیچ رہے ہیں، سیاسی رزم گاہیں سج چکی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سیاست کاروبارہی رہے گی یاملی اورعوامی خدمت کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان سے لیکرآج تک ایک خاص مراعات یافتہ طبقہ ہے جاگیرداروں کا، سرمایہ داروں کا اورگدی نشینوں کاجو بھیس بدل بدل کر،صفیں بدل بدل کرقوم کی تقدیرپرقابض چلا آ رہا ہے۔اوریہ اس قدرمشاق ہے کہ افق پرکوئی انقلابی آوازاٹھتی ہے تو اسے بھی ہائی جیک کر لیتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی جاگیردار، سرمایہ دار اور پیرچلے آئے ہیں۔عمران خان کی شخصیت میں قوم کو مسیحائی کی رمک نظرآئی تھی مگرروایتی قوتوں نے ان کو بھی یرغمال بنالیا ہے، لہٰذ ابلیس کا حضور باری تعالیٰ یہ شکوہ بجا ہے
جمہورکے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک


ای پیپر