نگران حکومتیں
30 مئی 2018



پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں جا سکتا ہے کہ جہاں پر انتخابات کے قریب آتے ہی افواہوں اور سارشی تھیوریوں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت بھی یہی صورت حال ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب کے نعرے کے لئے ہمیشہ انتخابات کا وقت ہی چنا جاتا ہے اس وقت بھی احتساب بریگیڈ پوری طرح چوکس اور متحرک ہے۔ سیاستدانوں کے کڑاکے نکالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انتخابات کو چند سالوں کے لئے ملتوی کر دیا جائے اور ملک میں کڑا احتساب کیا جائے اور جب صاف ستھری اور آئین کی دفعات 62 اور 63 پر پوری اترنے والی قیادت تیار ہو جائے تو پھر انتخابات کروائے جائیں تا کہ نیک اور صالح جمہوریت اور سیاسی نظام قائم ہو سکے۔ ہر عام انتخابات سے پہلے اس قسم کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں اور پھر جیسے ہی عام انتخابات کا انعقاد ہو جاتا ہے اور نئی حکومتیں قائم ہو جاتی ہیں تو پھر یہ نعرہ بھی گدھے کے سینگوں کی طرح غائب ہو جاتا ہے۔
کسی بھی جمہوری نظام میں دو طرح کا احتساب ہوتا ہے ایک جمہوری احتساب جس کے تحت ایک مقررہ مدت کے بعد ووٹر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جس جماعت کی حکومت قائم تھی اس نے اپنے انتخابی منشور اور وعدوں کے مطابق کام کیا یا نہیں۔ وہ حکومت عوام کی توقعات پر پوری اتری یا کہ نہیں اور اس طرح ووٹر حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر اسے دوبارہ موقع دینے یا حکومت سے نکالنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ جمہوری احتساب ہے جس کے تحت حکومتی کارکردگی اور وعدوں پر عملدرآمد کا حساب کتاب ہوتا ہے جبکہ دوسرا احتساب وہ ہوتا ہے جس کے تحت ملکی قوانین کے تحت ہر وقت ان عناصر کی سرکوبی جاری رکھی جاتی ہے جو ریاستی وسائل اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اپنے عہدوں اور اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر اثاثے بنائے ہیں اور دولت اکٹھی کی ہے۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دونوں طرح کے احتساب کے حوالے سے ہمارا نظام فعال اور متحرک نہیں ہے۔ انتخابی نتائج کے حوالے سے ہمیشہ ہی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ویسے تو احتساب کے نعرے کہ ہمیشہ ہی سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے مگر آج تک اس ملک میں احتساب کا صاف شفاف اور موثر نظام قائم نہیں ہو سکا جو کہ آزادانہ اور خود کار نظام کے تحت بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات کی تحقیقات کرے۔ جب تک حکومت میں بیٹھے طاقتور افراد کا احتساب ان کی حکومت کے دورمیں ہی نہیں ہو گا تب تک احتساب کا عمل ادھورا ہی رہے گا۔
پاکستان کو مضبوط جمہوریت اور سب کے بلاامتیاز احتساب کے موثر اور آزادانہ نظام کی اشد ضرورت ہے۔ جمہوری اور قانونی احتساب کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ ان میں سے کسی ایک کا رکن پورے نظام میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے اس لئے دونوں کام مسلسل جاری رہنے چاہئیں۔ تمام شکوک و شبہات اور افواہ ساز فیکٹریوں کی افواہوں کے باوجود پاکستان بتدریج اگلے عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے 25 جولائی 2018ء کو عام انتخابات کروانے کی باضابطہ منظوری دی جا چکی ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور مرکز میں نگران وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے نام پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ نگران وزیر اعظم کے لئے نہایت نیک نام سابقہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق ہوا ہے جو کہ یقیناًخوش آئند ہے۔ وہ نہایت اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ان کے نام پر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کا اتفاق خوش آئند ہے۔ ان کے نام پر تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد ہے۔ اس سے نگران حکومت کی ساکھ اور انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات اور اٹھنے والے سوالات میں بھی کمی آئے گی۔
مگر صوبہ خیبرپختونخوا میں نگران وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی ، اے این پی ، مسلم لیگ (ن) اور چند دیگر جماعتیں ان نامزدگی پر تنقید کر رہی ہیں۔ اس نامزدگی پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے توقع تو یہ تھی کہ تحریک انصاف نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے حوالے سے اعلیٰ ترین سیاسی روایت کو قائم کرتے ہوئے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کرے گی جو کہ سب کے لئے قابل قبول ہو اور اس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ مگر ایسا نہیں ہو سکا۔
اس نامزدگی کے حوالے سے دو بنیادی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں کہ تو یہ ہے کہ نامزد نگران وزیر اعلیٰ تحریک انصاف کے سینیٹر ایوب آفریدی کے چھوٹے بھائی ہیں جبکہ ان کا قریبی تعلق جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن سے بھی ہے۔ وہ قائد حزب اختلاف کے پی کے مولانا لطف الرحمن کے قریبی ساتھی سمجھتے جاتے ہیں۔ مولانا لطف الرحمن مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی ہیں۔
اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے کسی سینیٹر یا رکن قومی اسمبلی کے بھائی یا قریبی عزیز کو نگران وزیر اعلیٰ بنایا جاتا تو تحریک انصاف اسے انتخابات سے قبل دھاندلی قرار دے کر مسترد کر دیتی۔ اس نامزدگی اور فیصلے سے تحریک انصاف کی اخلاقی ساکھ یقیناًمتاثر ہوئی ہے۔ تحریک انصاف جو اعلیٰ اخلاقی معیار دوسروں کے لئے مقرر کرتی ہے اور جس طرح کی غیر جانبداری اور شفافیت کا مطالبہ دوسروں سے کرتی ہے۔ وہ خود اس معیار اور مطالبے پر پورا اترنے میں کاکام رہی ہے۔ تحریک انصاف کی یہ دلیل کہ یہ نام حزب مخالف کی طرف سے آیا تھا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے تو محض اس سے اتفاق کیا۔ یہ ایک بھونڈی دلیل ہے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے پاس اس نام کو مسترد کرنے کا پورا اختیار وہ چاہتے تو اس نام کو مسترد کر دیتے مگر سیاسی مفادات کے پیش نظر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور فوراً منظور آفریدی کے نام کی منظوری دے دی۔ نامزد وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلے بنی گالاجا کر حزب مخالف کی جماعتوں کو مزید موقع فراہم کر دیا کہ وہ ان پر تنقید کریں اور سوالات اٹھائیں۔
تحریک انصاف اس معاملے پر اس میرٹ اور اعلیٰ اخلاقی برتری کا مظاہرہ نہیں کر سکی جس کا وہ ہر وقت راگ الاپتی ہے۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بھی اچھی شہرت کے حامل افراد کا چناؤ ہونا چاہئے۔ خاص طور پر پنجاب اور بلوچستان میں آزادانہ صاف شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات سیاسی استحکام کے لئے بہت ضروری ہوں گے۔ ویسے تو پورے ملک میں صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات ہونے چاہئیں مگر موجودہ صورت حال میں ایسا نہیں ہونا اور بھی ضروری ہے۔


ای پیپر