فاٹا
30 مئی 2018

آپ حسن اتفاق ملاحظہ کیجیے کہ پاکستان کا قیام رمضان المبارک کے متبرک مہینے میں عمل میں آیا اور فاٹا کا پاکستان کے ساتھ انضمام بھی رمضان کے مہینے میں ہی عمل میں آیا۔اگر چہ یہ موقع ستر سال بعد آیا لیکن دیر آئے درست آئے۔ فاٹا کا خیبر پختونخواہ میں انضمام پاکستان اور فاٹا کے باسیوں کو مبارک ہو۔اللہ سے دعا ہے کہ فاٹا کا انضمام فاٹا کے روشن مستقبل کی نوید ہو اور ملک پاکستان کے لیے امن کا باعث ہو۔ جہاں ہماری پرانی نسل فاٹا کے وجود سے آگاہ ہے وہاں آج کی نسل کی اکثریت فاٹا کے نام سے بھی واقف نہیں ہے۔ فاٹا کو سمجھنے کے لیے فاٹا کی تاریخ اور ماضی کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔آئیے ایک نظر فاٹا پر ڈالتے ہیں۔
فاٹا انگلش کے چار الفاظsٖ Federally Administered Tribal Areaکامرکب ہے جسے اردو میں وفاقی منتظم شدہ قبائیلی علاقہ جات کہا جاتا ہے۔ فاٹا کا رقبہ 27220 مربع کلومیٹر اور آبادی 5001676 ہے۔ فاٹاسات ایجنسیوں باجوڑ، خیبر، اورکزئی،کرم، شمالی وزیرستان،جنوبی وزیرستان، مہند ایجنسی اور چھ فرینٹیر ریجنز پر مشتمل ہے۔ انتظامی سنٹر پشاور اور انتظامی یونٹ اسلام آباد تھا۔مشرقی اور جنوبی سرحدیں پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے ملتی ہیں جبکہ مغربی اور شمالی سرحدیں افغانستان کے صوبوں کنار، نانگرہار، پاکتیا، کھوسٹ اور پاکتیکا سے ملتی ہیں۔ننانوے فیصد آبادی پشتون ہے اور بڑے شہروں میں میرامشاہ، پارہ چنار، وانا، کھار، جمرود او ر لنڈی کوتل شامل ہیں۔ فاٹا کو کنٹرول کرنے کے لیے فرنٹیر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر) کا قانون استعمال کیا جاتا تھا۔جسے کالا قانون بھی کہتے ہیں۔ایف سی آر کو کالا قانون اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے تحت فاٹا کے باسیوں کواپیل، وکیل اور دلیل کا حق نہیں ہوتا۔ ایف سی آر کا یہ قانون برٹش انڈیا نے 1867 میں بنایا تھا۔ یہ قانون ان علاقوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جہاں جرم کی شرح زیادہ تھی اور وہ علاقے انگریز سرکار کے کنٹرول سے باہر تھے۔ایف سی آر کے تحت انگریز سرکار مقامی قبائیل کے سرداروں کو سربراہ نامزد کرتی تھی۔ان سرداروں کا حکم حرف آخر ہوتا تھااور انگریز سرکار جب چاہے کسی بھی شخص کو وجہ بتائے بغیر گرفتار کر سکتی تھی۔اس قانون کے تحت ایک فرد کے جرم کی سزا پورے خاندان کو دی جاتی تھی۔1935 میں بنوں کے علاقے میں ہندو لڑکی کی مسلمان لڑکے سے شادی نے دنگے فساد شروع کر دیے۔ مقامی لوگوں نے وزیرستان کے قبائیلی سردار میرزالی خان کو اپنا لیڈر منتخب کیا۔ میرزالی خان نے انگریز سرکار کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ 1938 میں اس نے ڈیورنڈ لائن پر واقع گوروویک گاوں میں آزاد ریاست کے قیام کا اعلان کیا اور انگریز سرکار پر حملے شروع کر دیے۔ جون 1947 میں میرزالی خان نے پشتونستان کے نام سے ہندوستان کے پشتون اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک آزاد ریاست قائم کرنے اور پاکستان کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر دیا۔ انگریز سرکار نے یہ مطالبہ مستردکر دیا۔میرزالی خان نے پاکستان کو قبول نہیں کیا اور پاکستان پر حملے شروع کر دیے۔1950 میں میرزالی خان نے پشتونستان کے نام سے ایک آزادریاست کے قیام کا اعلان کر دیا اور میرزالی خان کو پشتونستان اسمبلی کا صدر منتخب کر لیا گیا لیکن اس اسمبلی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ میرزالی خان جب تک زندہ رہا یہ پاکستان سے الحاق کے مخالف رہا۔ لیکن جرگوں میں میرزالی خان کے غلط فیصلوں کی بدولت قبائیل کے سرداروں میں اس کی مقبولیت کم ہو گئی۔آزادی کے بعد پاکستانی حکومت نے بھی فاٹا کو کنٹرول کرنے کے لیے ایف سی آر کے قانون کو معمولی ردوبدل کے ساتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ سالوں تک فاٹا پاکستانیوں کے لیے علاقہ غیر رہا۔ سوویت یونین کیخلاف جنگ میں یہ علاقہ مجاہدین کی جنت بنا۔ جنگ کے بعد یہاں کے لوگ تنہا ہو گئے۔ جہاد کی عمارت تعمیر ہوتی رہی اور 9/11 حملوں کے بعد طالبان نے افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے افغانستان زمینی رابطے کے لیے فاٹا کا استعمال کیا۔ 2004 میں امریکی امداد سے اسی ہزار پاکستانی افواج فاٹا میں داخل ہوئیں۔ طالبان اور القاعدہ کو ختم کرنے کے لیے گوریلا وار حکمت عملی اپنائی گئی لیکن شدید مزاحمت اور پاکستانی شہروں میں خودکش حملوں نے ضرب عضب کے نام سے پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی آپریشن شروع کیا اور فاٹا کو طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے پاک کر دیاگیا۔لیکن فاٹا میں ہمیشہ کے لیے امن قائم کرنے کے لیے ریاستی نظام کی موجودگی اور مضبوطی وقت کی اہم ضرورت تھی۔ کئی مرتبہ کوشش کی گئی لیکن قبائیلی سرداروں کی مخالفت کی وجہ سے معاملہ کھٹائی میں پڑتا رہا۔ حکومت اور فوج نے قبائیلیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے متحدہ جدوجہد کی۔ کو شیش رنگ لائیں اور جنوری 2017 میں پاکستانی حکومت نے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بنانے اور ایف سی آر جیسے کالے قانون کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے۔ حکومتی اتحادی جے یو آئی ف کے مولانا فضل الرحمان اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزائی نے انضمام کی مخالفت کی۔ لیکن باقی تمام سیاسی پارٹیوں اور فاٹا قبائیل کے سرداروں نے انضمام کی حمایت کی۔ فاٹا ریفامز کمیٹی نے انضمام کے لیے اپنی سفارشات پیش کیں جن میں انتظامی ڈھانچے، عدالتی نظام، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو زیر بحث لایا گیا۔
18دسمبر، 2017 کو نیشنل ایمپلیمنٹیشن آف فاٹا ریفارمز نے وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں فاٹا کے خیبرپختونخوا انضمام کی توثیق کی اور 2018 کے الیکشن میں فاٹا کو خیبرپختونخوا اسمبلی سے تائیس ممبر منتخب کروانے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ این آئی سی کمیٹی نے باقاعدہ عدالتی نظام کے نفاذ تک ایف سی آر قانون کی متنازع شکوں کو ختم کرنے اور کولونیکل ایرا ریگولیشن کو نافذ کرنیکا فیصلہ کیا۔سیاسی اور فوجی قیادت کی کاوشیں رنگ لائیں اور 24 مئی 2018 کو فاٹا کاخیبر پختونخواہ انضمام کا بل پاکستان کی قومی اسمبلی سے منظور ہو گیا۔229 ارکان اسمبلی نے اس کے حق میں اور صرف ایک رکن اسمبلی داوار کنڈی نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ داوار کنڈی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزائی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور اسمبلی سے واک آوٹ کیا۔25 مئی کو یہ بل سینٹ میں پیش کیا گیا۔ سینٹ سے منظوری کے لیے 69 ووٹ درکار تھے جہاں 71 نے اس کے حق میں اور 5 نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ 27 مئی کوکے پی کے اسمبلی نے فاٹا انضمام کا بل منظور کر لیا۔ بل کی حمایت میں92 اور مخالفت میں 7 ووٹ ڈالے گئے اور ا ن تمام مراحل کو عبور کرنے کے بعد فاٹا کی غیر آئینی زمین آئینی ہو گئی ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر