کالی رات اب تو ڈھل جا!
30 مئی 2018 2018-05-30

امیدوں کے ہجوم میں ایک امید یہ بھی ہے کہ اب دکھ پرانے، سب تحلیل ہو جائیں گے۔۔۔ کیونکہ مستقبل کی کہانی میں اگر یہ موجود ہوں گے تو راستے اور راہیں دھندلا جائیں گے۔ منزل کی جستجو میں میں سرگرداں قافلے رک جائیں گے۔۔۔ لہٰذا نظر آتا ہے کہ جو بھی حکمران ہوں گے وہ انسانی الم و مصائب کو ختم نہ بھی کر سکیں کم ضرور کریں گے۔۔۔؟
یہ کام۔۔۔ کلی اختیارات کے مالکوں کے لیے بہت آسان ہو گا۔۔۔ مگر خیال یہ بھی ہے کہ اگر ساٹھ روزہ اختیارات والوں کے دل میں ترس و رحم پیدا ہو جاتا ہے جس کا قوی امکان ہے تو وہ بھی ایسا کر گزریں گے۔۔۔ بلکہ انہیں کرنا چاہیے کہ عوام کی پرچی سے حاکم بننے والے کی راہ میں اکثر کچھ رکاوٹیں بھی ہوتی ہیں لہٰذا وہ آئے گا تو مصلحت کو شی کا شکار ہو سکتا ہے۔۔۔ لازمی ہے کہ عبوری دور والے ان مشکلات و مسائل کو ادھیڑ کر رکھ دیں جنہوں نے عوام پاکستان کو ’’ساہواں دی سولی‘‘ پر لٹکا رکھا ہے وہ سی بھی کرتے ہیں تو انہیں اور اذیت پہنچتی ہے لہٰذا وہ التجا کرتے ہیں کہ انہیں سینہ زوروں، قبضہ گیروں، کمیشن خوروں، ملاوٹیوں، رشوت خوروں، ستم گروں، ملکی سطح کے عیاروں ، دھوکا بازوں اور انسانی اعضاء کے خریداروں سے نجات دلا دیں۔۔۔! ویسے یہ آئین بھی کیا ہے جو وقت پر عام انتخابات کرانے کا تو پابند ہے تا کہ ایک منتخب حکومت قائم
ہو سکے جو عوام کی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کی زندگیوں میں رس گھولے انہیں سریلی وشیریں نغموں سے مسحور کرے ۔ مراد اس سے یہ کہ وہ ہر تکلیف سے محفوظ ہو جائیں ۔ قہقہے بکھیرتے ہوئے اپنا سفر حیات مکمل کریں مگر ایسا ہوتا نہیں وہ مزید عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کی پرچی سے اقتدار میں آنے والے لوگ انہیں پریشان کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔۔۔ ان کے ساتھ سچی اور دل کی بات نہیں کرتے انہیں بیوقوف بناتے ہیں۔۔۔ ان کا پیسا ہڑپ کر جاتے ہیں بیرون ملک بھجوا کر اپنے لیے محل تعمیر کر لیتے ہیں بڑے بڑے کاروباری مراکز بنا لیتے ہیں۔۔۔ عیش ہی عیش ہوتا ہے ان کی زندگی میں۔۔۔ لہٰذا کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ چند روز کے لیے بننے والے ’’حکمران‘‘ کچھ کر دکھائیں؟
دیکھیے! مخلوق خدا بڑی دکھی ہے زخم خوردہ ہے ابھی تک ان کے زخموں میں ٹیسیں اٹھ رہی ہیں۔۔۔ اکہتر برس میں انہوں نے سکھ دیکھا ہی نہیں۔۔۔ ایک سے ایک بڑھ کر حکومت آئی۔۔۔ اب جو گئی ہے اس نے توات مچا دی!
نجانے اس کے حق میں کچھ لوگ کیوں متحرک ہیں کیوں اس کے لیے اپنی سانسیں بے ترتیب کیے ہوئے ہیں۔۔۔ کہ جس نے ملکی خزانہ لوٹ کھایا اپنے چند طاقتور ساتھیوں کو بھی خوب پیٹ بھر کھلایا اب وہ ’’آ پھر‘‘ گئے ہیں دندنا رہے ہیں ان کی خیر خواہی کے لیے دوڑے پھر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہی دوبارہ آئے۔۔۔ مگر خلق کی آواز دوسری ہے وہ کہہ رہی ہے کہ اب اسے نہیں آنا چاہیے ۔۔۔ کیونکہ انہوں نے ان کے دور میں ایک پل بھی سکون سے نہیں گزارا۔۔۔ خوف ہی خوف تھا جدھر دیکھتے!
اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔ ہر سمت!
انصاف کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔۔ ہر بڑے عہدے پر اس کا میر منشی تھا ابھی بھی ہے۔۔۔ جس نے عوام کو قابو
کرنے کے لیے کئی طرح کے حربے اختیار کیے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں ہراساں کیا۔۔۔ یرغمال بنایا اب وہ دور واپس نہ آئے۔۔۔ یہی دعا ہے اکثریت کی، ڈرے ہوئے ہیں لوگ، ان کے جسموں میں جیسے جاں نہ ہو وہ کانپ کانپ جاتے ہیں۔۔۔ تبسم ان کے ہونٹوں پر ہے جنہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔۔۔ اپنی استعداد کے مطابق قومی خزانہ ہتھیایا جس کا بس بجلی چوری کرنے اور کرانے پر چلا اس نے چلایا۔۔۔ ٹیکس بچانا چاہا تو بچایا۔۔۔ کم تولنا اس کا مطمع نظر ٹھہرا تو اس پر عمل کیا۔۔۔ غرض مرضی کا دور گزرا ہے پچھلا۔۔۔ انہیں میسر تھی ہر طرح کی آزادی شاید یہی وجہ ہے کہ اب وہ چیخ رہے ہیں دہائی دے رہے ہیں کہ میاں دے نعرے بجنے چاہئیں۔۔۔؟ مگر نہیں ہم ایک نئے، بالکل نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔۔۔ سائنس ترقی کر گئی ہے۔۔۔ مسائل نے اپنی شکلیں بدل لی ہیں۔۔۔ امراض وہ نہیں ہیں جو آج سے بیس تیس برس پہلے ہوا کرتے تھے کہ ملیریا کی دو تین دوائیں مخصوص تھیں اب وہ ملیریا ہے نہ وہ دوائیں ٹائیفائیڈ بھی وہ نہیں کہ اب اس پر چار پانچ دوائیں مل کر قابو پاتی ہیں تعلیم کا معیار بھی ویسا نہیں جو مدتوں پہلے ہوا کرتا تھا۔۔۔ نصاب تبدیل ہو گئے، معمولات میں بدلاؤ آگیا۔۔۔ مزاج وہ نہیں رہے جس میں تحمل ، ٹھہراؤ اور نظم تھا۔۔۔ اب تو اکتاہٹ، بیزاری اور بے چینی ہے لہٰذا پلٹنا مشکل اور اگر کسی ’’انہونی‘‘ سے وہ آجاتے ہیں تو پھر یہ ہجوم امیدوں کا بپھر جائے گا نفرتوں کے الاؤ دہک اٹھیں گے۔۔۔ سینوں میں انتقام کے طوفان برپا ہو جائیں گے۔۔۔ یہ منظر موجود جس میں ایک نئی سویر کے طلوع ہونے کی ہلکی سی جھلک دکھائی دی ہے ایک بار پھر تاریکیوں میں چھپ جائے گا۔۔۔ یہ حقیقت ہے عوامی جذبات قطعی مختلف ہیں انہیں ایک طرف بڑے بڑے منصوبوں میں ان کے جیون کی خوشحال تصویر دکھائی جا رہی ہے تو دوسری جانب جب وہ اس تصویر کے رنگ بکھیرنے والے دیکھیں گے تو وہ پھٹ پڑیں گے۔ اور کہیں گے کہ یہ آئین و قانون صرف انتخابات کے لیے ہیں ان میں ان کے لیے کچھ نہیں ان کی غربت، افلاس، معاش تعلیم صحت اور انصاف کے لیے کوئی شق موجود نہیں اگر ہے تو پھر آج تک اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔۔۔ کیوں حکمران ان کے حقوق کا تحفظ نہ کر سکے۔۔۔ کیوں وہ اکہتر برس تک زندگی کے اس تپتے صحرا میں آبلہ پا رہے۔۔۔؟
کسی کے پاس اس کا جواب نہیں کیونکہ وہ لوگوں کو انسان سمجھتے نہیں تھے آج تک نہیں سمجھ رہے وہ تو کہتے ہیں کہ یہ ڈنگر ہیں حشرارت الارض ہیں ان کے احساسات و احتیاجات کیا ہو سکتے ہیں اور پھر ان کی ضرورتوں کو پورا کران کی ذمہ داری نہیں کہ وہ تو اعلیٰ مخلوق ہے جو دوسرے کے لیے نہیں فقط اپنے لیے سوچتی ہے اور جیتی ہے اور اس کا تمام وسائل پر پورا حق ہے مگر یہ حشرات الارض اب دھیمی دھیمی آواز میں کچھ کہنا شروع ہو گئے ہیں جنہیں قابل توجہ ہونا چاہیے۔۔۔ مگر طاقت کے نشے میں چور اہل اختیار ذرہ بھر اہمیت دینے کو تیار نہیں۔۔۔ باوجود اس کے کہ باد سموم نے ان کی جانب رخ کر لیا ہے ان کے سرخ جسیموں تک کی گنتی کا آغاز ہو چکا۔۔۔ روشنیاں بکھرنے لگیں۔۔۔ شبنم کے قطروں نے ڈھلکنا سیکھ لیا۔۔۔ عطر بیز فضاؤں میں پرندے اٹھکیلیاں کرنے لگے۔۔۔ تتلیاں بھی اڑتے ہوئے دور تک جانے لگیں۔۔۔ اور فاختائیں بھی تہنیوں پر بیٹھ کر نغمہ زن ہو گئیں! یہ ابھرنے والا سہانہ خواب آ گیں منظر بتا رہا ہے کہ سپنے دیکھنے والے مایوس نہ ہوں کہ اب سمندر میں ہلچل ہے سکوت نہیں۔۔۔!
خدا کرے ایسا ہی ہو۔۔۔ عوام ناکام نہ ہوں طاقتوروں کے دل دھک دھک دھڑکنیں لگیں کہ اب انہیں ہر صورت خزاں رسیدہ آنکھوں میں بہار کے رنگ بھرنے ہیں انہیں ان کا احترام و عزت لوٹانے ہیں راہزنوں اور ٹھگوں کو کالے پانیوں میں چھوڑ آنا ہے۔۔۔ بس یہ آخری بار ہے کہ عوام کو امن و خوشحالی کی پگڈنڈیوں پر چلنے کی آس ہے۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی خواہشوں کا چراغ گل ہو جائے۔۔۔ کالی رات اب تو ڈھل جا !


ای پیپر