محکمہ پولیس عوام دوست رویئے اپنائے
30 مئی 2018 2018-05-30

وطن عزیز کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر صوبائی اور وفاقی حکومت کا سربراہ اس امر کی یقین دہانی کرانا نہیں بھولتا کہ ’’ عوام کو ہر صورت امن و سکون کا ماحول اور فضا مہیا کرنا ہماری ذمہ داری ہے ‘‘یہ اعلیٰ ترین حکمران شخصیات اس امر پر بھی زور دیتی رہی ہیں کہ’’ پولیس عوام کی نگاہ میں اپنا امیج بحال کرنے پر پوری توجہ دے‘‘ حکمران کل کے ہوں یا آج کے ،اُنہیں اس امر کا ہمیشہ احساس رہا ہے کہ ’’ عوام اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں‘‘ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے تو ایک بار پولیس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ’’ عوام چوری کے کسی واقعہ کی ایف آئی آر بھی خوف کی وجہ سے درج کرانے تھانے نہیں جاتے‘‘ یہ امر خوش آئند ہے کہ پنجاب حکومت کے موجودہ سربراہ میاں شہباز شریف دس برسوں سے محکمہ پولیس کی اصلاح کیلئے بہت سی مفید اور خوب صورت کوششیں کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں پنجاب پولیس کو صوبائی حکومت نے جو مراعات و سہولیات دی ہیں ، انہیں لائق رشک قرار دیا جا سکتاہے۔ یہ سہولیات کسی دوسرے محکمے کے ملازمین کو حاصل نہیں۔
ماضی میں بعض حلقوں میں ایک تصور یہ بھی پایا جاتا تھا کہ پولیس میں بدعنوانی ، بے ضابطگی اور رشوت ستانی کی بڑی وجہ پولیس ملازمین کی تنخواہوں کاکم ہونا ہے۔گزشتہ 15 برسوں کا ریکارڈ گواہ ہے کہ منتخب اور غیر منتخب حکومتوں کے ہر دور میں پولیس ملازمین کی تنخواہوں اورمراعات میں ایک تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ محکمہ پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر کسی شہری کو کوئی اعتراض نہیں لیکن عام شہری اس کا مثبت ردعمل پولیس کے رویوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہے۔ اس کا مشاہدہ اسے یہی بتا تا ہے کہ سہولیات اورمراعات میں بیش بہا اضافے کے باوجودمحکمہ پولیس میںآج بھی رشوت ستانی کی گرم بازاری ہے۔عالم یہ ہے کہ تھانوں اور چوکیوں میں متعینہ محررکسی شے یا شہری کی گمشدگی کی اطلاعی درخواست بھی’’ بلافیس‘‘وصول نہیں کرتے۔ وزیراعلیٰ پنجاب متعدد بار اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ پولیس کلچر تبدیل کرناچاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ وہ کسی صوبے کے پہلے ایسے سربراہ نہیں ہیں جو اس قسم کے امید افزاء بیانات دے رہے ہیں۔ماضی میں بھی مختلف وفاقی اور صوبائی سربراہان حکومت پولیس کا قبلہ درست کرنے کیلئے اسی سے ملتے جلتے آہنی اقدامات کرنے کا عزم کرتے رہے ہیں۔
حالات کا جائزہ لینے کے بعد ایک غیر جانبدار مبصر یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید محکمہ پولیس ایک ناقابل تسخیر جن ہے ٗ جسے کوئی طاقتور ترین حکمران بھی نظم کی بوتل میں بند کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔اربابِ حکومت بھی کئی بار محکمہ پولیس کی کارکردگی کو عوام دوست بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان کی نیک خواہشات کے باوجود عالم یہ ہے کہ آج بھی یہ’’ شکوہ ‘‘ موجود ہے کہ ’’ عوام اور پولیس کے مابین اعتمادکا رشتہ ختم ہو چکاہے‘‘ سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس رشتے کو بحال کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ وہ کونسی قوت ہے جو عوام کے ہاں پائے جا نے والے اس تاثر اور احساس کو زائل کرے کہ ’’ پولیس عوام دوست ادارہ نہیں ہے‘‘۔
یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ محکمہ پولیس ہویادیگر سرکاری محکمے ان کے قیام کی بنیادی غرض و غایت کیا ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ تمام ریاستی اداروں اور محکموں کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور رہنمائی کرنا ہے؟ کیا محکمہ پولیس سمیت دیگر ریاستی ادارے اور محکمے اپنے اس فطری کردار کو کماحقہ ادا کررہے ہیں؟ اس سوال کا جواب یقیناً اثبات میں نہیں ہے۔ آخر وہ دور کب آئے گا جب ایک مظلوم تھانے کی عمارت میں داخل ہوتے ہوئے اپنی جان، مال اور آبرو کو محفوظ تصور کرے گا؟ کیایہ سچ نہیں کہ سادہ لوح معصوم شہری جونہی کسی تھانے کی حدود(الاماشاء اللہ) میں قدم رکھتاہے ، اس کی جان، مال اور آبرو تینوں معرض خطر میں پڑجاتے ہیں۔ ہونا تویہ چاہئے کہ پولیس کو ہر شہری اپنی جان ،مال اور آبرو کا محافظ جانے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ وطن عزیز کی بااختیار اورمقتدر ترین شخصیات بھی محکمہ پولیس کا قبلہ درست کرنے میں ناکام رہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اوپر سے نیچے تک محکمہ پولیس کے اہلکاران و افسران ایک بیجا قسم کے احساس برتری میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے محکمے کی بالادستی کا سکہ جمانے اور لوہا منوانے کے لیے ہرغیر انسانی ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت کے ارتکاب کو اپنا استحقاق گردانتے ہیں۔ محکمہ پولیس کی اعلیٰ بیوروکریسی کو اس صورت حالات کی اصلاح کیلئے اپنے تئیں مساعی بروئے کار لاناچاہئیں۔ محکمہ میں موجود اعلیٰ افسران مقابلے کے اعلیٰ امتحانات کو پاس کرنے کے بعد اس محکمے میں خدمات کیلئے منتخب کئے جاتے ہیں۔ بلاشبہ پولیس بیوروکریسی معاشرے اور مملکت کے ذہین ترین افراد پر مشتمل ہے، لیکن عام آدمی کیلئے یہ بات آج بھی ناقابل فہم ہے کہ اپنی تمام تر قابلیتوں، اہلیتوں اور ذہانتوں کے باوجود وہ اپنے ماتحتوں کے درشت اور نامناسب غیر اخلاقی رویوں کی اصلاح کرنے سے کیونکر قاصر رہے ہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’کان نمک ‘‘میں پہنچ کر ہر کوئی نمک بن جاتا ہے؟ بہتر ہوگا کہ ملک اور عوام کے وسیع تر اور بہتر مفاد میں اپنی سابقہ ناپسندیدہ روش کو یکدم ترک کر کے اپنے ماتحتوں کو عوام دوست رویوں کو اپنانے پر آمادہ کریں۔


ای پیپر