کھیل
30 مئی 2018 2018-05-30



ان دنوں عوام کے ساتھ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کی وجہ سے لوگوں نے زندگی کی کھوج لگانے کی کوشش بند کر دی ہے اب محض موت کے انتظار میں زندگی کے دن بسر کرتے جا رہے ہیں ۔امید نے پوری طرح دم توڑ دیا ہے ۔کہنے کو توجمہوری حکومت ہے لیکن حقیقت میں انڈر مارشل لاء کا نظام رائج ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں پر دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات آئے روز کا معمول ہے ڈسٹرکٹ اوکاڑا میں انسانی حقوق کے ایک نمائندے پر مقدمہ نمبر127/15اس کا واضح ثبوت ہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان تین سالوں میں اس مقدمہ کو سماعت کیلئے کسی عدالت میں نہیں بھیجا گیا پراسیکیوشن برانچ سے لے کر علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت تک کسی نے اس بات کا نوٹس لینا گوارہ نہیں کیا کہ اس مقدمہ کو عدالت میں سماعت کیلئے کیوں نہیں بھیجا گیا ۔اسطرح کے
مقدمات ملک بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں پر درج ہونا روزمرہ کا معمول ہے ۔اس نوعیت کے جھوٹے مقدمات درج کر کے معاشرے کو حبس میں رکھنے کی سازش ہے تا کہ نوکر شاہی کا دبدبہ قائم رہے شعور کو سر اٹھانے سے پہلے ہی کچلنے کی پالیسی پر گامزن ہیں جہاں اسطرح کی صورتحال کا سامنا ہوتو پھر اندھیرے بڑھنے سے کون روک سکتا ہے آئے دنوں ایک ادارے کی جانب سے احتساب کا نوٹس اور دوسرے ادارے کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس اس کا عکاس ہیں ۔دوسروں کا احتساب کرنے والوں کا بھی کسی دوسرے کو حق حاصل ہونے چاہیے نوکر شاہی ، فوج اور عدلیہ سب کے اپنے اپنے قانون ہیں جمہوری عمل کی نشونما روکنے کیلئے ہمیشہ عوام کے سورج کی کرنوں سے دور رکھا گیا جس کی وجہ سے تیسری دنیا کے ممالک میں جمہوری عمل محض ایک دھوکہ ہے اقتداران طبقون کی جھولی میں گوشہ نشین ہے جن کے پاس دولت کے انبار ہیں جن کا عوام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی جڑیں ہیں جن کے کلی طور پر طبقاتی مفادات اور راستے عوام سے جدا جدا ہیں ۔یہی طبقہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد ایک منصوبہ بندی کے تحت نو آبادیاتی نظام اور اس کے اداروں کو متحرک رکھ کر نا صرف عوام کا استحصال کر رہا ہے بلکہ نو آبادیاتی دور کے مضبوط اداروں فوج اور نوکر شاہی کو مزید مضبوط کرنے کا عمل ایک تسلسل سے جاری و ساری رکھے ہوئے ہے جس کی ایک چھوٹی سے جھلک یہ ہے کہ ایک اخباری خبر کے مطابق دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے جہلم کے ایک شہری کو بذریعہ ٹیلیفون دھمکیاں دینے کے جرم میں 13سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے جس پر فرد جرم یہ عائد کی گئی ہے کہ اس نے ایک بیوروکریٹ ریٹائرڈ کیپٹن کو جو اس وقت محکمہ پولیس کے اہم عہدہ پر فائز ہے اس کو بذریعہ ٹیلیفون دھمکیاں دی تھیں حیرت کی بات ہے کہ ٹیلیفون پر دھمکیاں دینے کی 13سال سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ نہ کبھی سننے میں آیا اور نہ کبھی دیکھنے میں آیا یہ صرف اور صرف طبقاتی مفادات کی ایک مثال ہے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کیس کے فیصلے کی مثال پوری عدالتی تاریخ میں نہیں ملتی بھٹو صاحب کو بشمول 109/113اعانت جرم میں سزائے موت دی گئی تھی اور اب جہلم کے ایک شہری کو فون کرنے کے جرم میں 13سال قیدطبقاتی مفادات کی ایک جھلک ہے اور دراصل چاکر اور نوکر شاہی دونوں ادارے ہی طبقاتی مفادات کے روح رواں ہے دونوں کی حاکمیت اسی بدولت آج تک قائم ہے طبقاتی مفادات کا خاتمہ میں دراصل ان کو اپنی موت نظر آتی ہے اس وجہ سے آج تک ملک میں طبقاتی مفادات کے خلاف کوئی تحریر پنپنے نہیں دی بالخصوص بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد تو طبقاتی مفادات کے خلاف سوچ بھی دم توڑ گئی اور طبقاتی مفادات کے خلاف جدوجہد کرنے والے گمنام ہو گئے جس کی وجہ سے طبقاتی مفادات کی نشاندہی کا عمل آگے نہ بڑھ سکا فوج اور نوکر شاہی ایک عام شہری دو طبقات میں مکمل طور پر بٹ گئے ایک طبقے کے پاس طاقت اور اقتدار ہے اور دوسرے طبقے کے پاس محرومیوں اور خوف کے سوا کچھ نہیں ہے جس کی وجہ سے دوسرے درجے کے لوگ رفتہ رفتہ حکومتی طبقہ میں شامل ہونے کیلئے جوق در جوق غلامی کو قبول کرتے گئے اور دوسرے طبقے کی طاقت میں یوں روز بروز کمی واقع ہوتی چلی گئی یہی وجہ ہے کہ آج وہ مکمل طور پر سیاسی و تاریخی عمل سے دور ہو چکے ہیں ہماری اشرافیہ جس میں عسکری ادارے نوکر شاہی، جاگیردار اور سرمایہ دار شامل ہیں ان سب نے باہمی گٹھجوڑ کر کے اکثریتی طبقہ جس میں ہمارے جیسے لوگ شامل ہیں معاشی اور سماجی طور پر کچل کر رکھ دیا ہے۔ ماضی میں یونانی مفکرین اور فلسفیوں نے غلاموں کو عام انسانوں سے مختلف قرار دیا تھا تا کہ لوگوں کے اندر غلاموں کیلئے ہمدردی کے جذبات پیدا نہ ہوں اور ان کے
ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اسے فطری سمجھ کر قبول کر لیا جائے اس طبقاتی تقسیم کی وجہ سے معاشرے میں یہ نظریہ فروغ پا گیا کہ ذہنی اور جسمانی محنت دونوں ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور دونوں الگ الگ طبقوں کے لیے مخصوص ہے اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی طرز کے نظریے کے تحت قدیم ہندوستان میں برہمنوں نے بھی ذات پات کی تقسیم کی اور انی بالا دستی قائم کی برہمنوں کی بالا دستی کے خلاف بدھ مت نے آواز اٹھائی جس کی وجہ سے کھشتریوں کی بالا دستی قائم ہو گئی انگریز کی باقیات نے ان سب اسباب کو مد نظر رکھتے ہوئے طبقاتی تقسیم اور طبقاتی مفادات کو اپنی عملی ترجیحات میں شامل کر کے اپنا تسلط قائم کر لیا جس وجہ سے طبقات مفادات کا کھیل تواتر سے جاری وساری ہے اسی روش کی بناء پر ایک طبقہ یہ خدشات ظاہر کر رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں ہونے والے الیکشن سلیکشن میں تبدیل ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔


ای پیپر