Nai Baat Magazine Report
30 مارچ 2021 (23:53) 2021-03-30

عقیل عباس جعفری

شادی کے وقت ریٹا نے ہیرے کی 32 قیراط وزنی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی اور ان ہاتھ کے کنگن اور بالیاں بھی ہیروں کی تھیں۔ ان کے بالوں میں بھی ہیرے کا جڑائو کنگھا آویزاں تھا۔ علی خان بھی زرد رنگ کا ڈبل بریسٹ سوٹ پہنے بہت حسین لگ رہے تھے۔ اس شادی میں مہمانوں کو شیمپین کی چھ سو بوتلیں اور ایک سو بیس پاؤنڈ وزنی کیک پیش کیا گیا۔

ریٹا اس وقت بڑی سکرین کی دیوی تصور کی جاتی تھیں لیکن انھیں یہ جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ علی خان کے پیروکار انھیں بھی ایک دیوتا کا درجہ دیتے تھے۔ اگرچہ ریٹا اداکاری کا سلسلہ بھی جاری رکھنا چاہتی تھیں مگر علی خان اور ان کے لاکھوں پیروکار ذہنی طور پر اس بات کے لیے آمادہ نہ تھے۔ریٹا کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ وہ ایک ایسی دنیا کا حصہ بن چکی ہے جہاں انھیں دیوی کا درجہ تو دیا جا سکتا ہے مگر ایک عام عورت کا نہیں۔ یہ بات بھی ان سے چھپی نہ رہی کہ علی خان ابھی امام نہیں بنے اور ان کے بعد محض اتنی ہی دولت ہے جتنی انھیں اپنے والد کی طرف سے ملی ہوئی ہے۔ریٹا نے پھر علی خان سے طلاق حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیں اور ایک شب، جب علی خان مصر اور ان کے والد ہندوستان میں تھے، وہ اپنی بیٹیوں ریبیکا اور یاسمین کے ہمراہ پیرس سے نکل کر امریکہ پہنچ گئیں۔علی خان ریٹا کو منانے امریکہ پہنچے اور ابتدا میں دنوں کے تعلقات بحال ہونے کے آثار نظر آنے لگے تاہم ریٹا اداکاری کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوئیں اور سنہ 1953 میں یہ شادی طلاق پر ختم ہوئی۔علی خان اور ریٹا ہیورتھ کی طلاق کے بعد بھی شہزادے کے معاشقوں کی داستانیں منظر عام پر آتی رہیں۔ اسی زمانے میں خبر آئی کہ سر آغا خان علی کے بجائے اپنے چھوٹے بیٹے صدرالدین کو اپنا جانشین بنانا چاہتے ہیں، مگر صدرالدین کی شخصیت بھی علی خان سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔

25 مئی 1955 کو سر آغا خان سوم نے اپنی وصیت تیار کی جس کی توثیق 18 جون 1957 کو کی گئی۔ یہ وصیت خفیہ رکھی گئی اور سر آغا خان کی وفات کے اگلے روز 12 جولائی 1957 کو کھولی گئی۔وصیت میں لکھا تھا کہ جانشین کا انتخاب امام کا حق ہے اور وہ اپنے وارثوں میں سے کسی کو بھی چننے کا قطعی اور ناقابل چیلنج حق رکھتے ہیں۔ اسی وصیت میں آغا خان سوم نے اپنے پوتے کریم کو جانشین مقرر کیا اور ان کے تمام پیروکاروں نے ان کی خواہش کی پاسداری کی اور شہزادہ کریم کو اپنا امام تسلیم کر لیا۔اْدھر علی خان کے لیے دنیا بدل چکی تھی۔ جانشینی سے محرومی ان کے لیے شدید صدمے کا باعث تھی اور انھیں کبھی یہ گمان بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کے والد انھیں اپنا جانشین نامزد نہیں کریں گے۔تاہم انھوں نے بہت جلد اپنے آپ کو سنبھالا اور نومبر 1957 میں انھوں نے پاکستان کے صدر اسکندر مرزا سے ملاقات کی، جنھوں نے علی خان کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کے طور پر خدمات سر انجام دینے کی پیشکش کی۔ اس ذمہ داری کا رسمی اعلان چھ فروری 1958 کو کراچی میں شہزادہ کریم آغا خان کی رسم تاج پوشی کی تقریب کے دو ہفتے بعد ہوا۔

ابتدا میں پاکستانی اخبارات نے اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ علی خان کی اس منصب پر تقرری نے اقوام متحدہ جیسے ادارے میں پاکستان کے مفادات کو بیحد فائدہ پہنچایا۔

آخر شہزادہ علی ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت تھے اور دنیا بھر کے مدبرین ان کی بات توجہ سے سنتے تھے۔ ستمبر 1959 میں شہزادہ علی خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مطابق الجزائر کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی۔ ان کے اس موقف سے فرانس، جہاں کے وہ عملاً شہری تھے، سخت ناراض ہوا۔کچھ عرصہ بعد حکومت پاکستان نے پرنس علی خان کو ارجنٹینا میں پاکستان کا سفیر نامزد کیا مگر اس سے قبل کہ وہ اپنا یہ منصب سنبھالتے، وہ 12 مئی 1960 کو پیرس میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔آغا خان سوم کی وفات کے بعد دنیا بھر میں شہزادہ کریم کی تخت نشینی کی رسومات شروع ہوئیں اور 23 جنوری 1958 کو کراچی میں بھی پرنس کریم آغا خان کی رسم تخت نشینی ادا کی گئی۔ اس طرح شہزادہ کریم آغا خانی یا اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں امام بنے اور آغا خان چہارم کے لقب سے پہچانے جانے لگے۔یہ تقریب نیشنل سٹیڈیم میں منعقد ہوئی جس میں صدر اسکندر مرزا اور وزیراعظم فیروز خان نون نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں شہزادہ کریم آغا خان کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ پیروکار بھی موجود تھے۔

کریم آغا خان 13 دسمبر1936 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جینوا میں پیدا ہوئے تھے۔ کسی مخصوص قطعہ زمین پر تسلط نہ رکھنے کے باوجود وہ ایک ایسے حکمران ثابت ہوئے جو اپنے پیروکاروں کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ان کی ہدایات حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔سن 1969 میں پرنس کریم آغا خان نے ایک انگریز خاتون سے شادی کر لی جن کا اسلامی نام سلیمہ رکھا گیا۔ اس شادی کے مہمانوں میں برطانیہ کی شہزادی مارگریٹ، ہالینڈ کی شہزادی برن ہارڈ اور ایران کے شہزادے اشرف پہلوی بھی شامل تھے۔سلیمہ سے شہزادہ کریم آغا خان کے تین بچے ہوئے: زہرہ آغا خان، رحیم آغا خان اور حسین آغا خان۔ شادی کے 26 سال بعد سنہ 1995 میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ سنہ 1998 میں کریم آغا خان نے دوسری شادی انارا نامی خاتون سے کی جن سے ایک بیٹا علی محمد آغا خان پیدا ہوا، مگر چند سال بعد سنہ 2011 میں ان کی انارا سے بھی طلاق ہو گئی۔

پرنس کریم آغا خان دنیا بھر کے لوگوں کے مالی، علمی اور صحت کے امور میں مدد کرنے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے ہیں۔ انھوں نے منصب امامت سنبھالنے کے بعد آغا خان ڈیولیپمنٹ نیٹ ورک کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور رفاہی کاموں کے ایک طویل سلسلے کا آغاز کیا جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔یہ ادارہ دنیا کے تقریباً 35 ممالک میں غربت اور انسانی زندگی کا معیار بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے۔ آغا خان ڈیولیپمنٹ نیٹ ورک کے ذیلی اداروں میں آغا خان فاؤنڈیشن، آغا خان ہیلتھ سروسز، آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروسز، آغا خان اکنامک سروسز اور آغا خان ایجنسی فار مائیکرو فنانس شامل ہیں جن کی نگرانی شہزادہ کریم آغا خان خود کرتے ہیں۔انھوں نے فن تعمیر کے فروغ کے لیے آغا خان آرکیٹیکچر ایوارڈ کا سلسلہ بھی شروع کیا جس سے دنیا بھر میں اسلامی فن تعمیر کو بڑا فروغ ملا۔ ان کے قائم کردہ ادارے آغا خان فاؤنڈیشن نے کراچی میں ایک بڑا ہسپتال اور میڈیکل یونیورسٹی قائم کی جو ملک میں اپنی طرز کی منفرد درسگاہ ہے۔ اس ہسپتال اور یونیورسٹی کا ڈیزائن امریکہ کی آرکیٹکچرل فرم پیٹی انٹرنیشنل نے تیار کیا تھا۔

آغا خان فاؤنڈیشن نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کی ترقی میں بھی بڑا اہم کردار ادا کیا۔ سن 1980 میں آغا خان فاؤنڈیشن نے اس خطے میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام، آغا خان ہیلتھ سروسز اور دیگر فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی جو آج بھی اس علاقے کی ترقی اور خوش حالی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

آغا خان چہارم کو مختلف ممالک نے متعدد اعزازات اور خطابات سے بھی سرفراز کیا: انھیں 20 ممالک نے اپنے قومی اعزازات سے نوازا ہے اور دنیا کی 19 بہترین یونیورسٹیوں نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔انھیں جو اعزازات عطا ہوئے ہیں ان میں حکومت برطانیہ کی جانب سے ’ہز ہائی نس‘ کا خطاب اور ’نائٹ کمانڈر آف دی برٹش امپائر‘ کا اعزاز، کینیڈا کی اعزازی شہریت، امریکی اکیڈمی برائے آرٹ اینڈ سائنسز کی فیلو شپ اور حکومت پاکستان کی جانب سے نشان امتیاز کا اعزاز شامل ہیں۔

٭٭٭٭٭


ای پیپر