Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
30 مارچ 2021 (11:30) 2021-03-30

پی ڈی ایم کے گزشتہ اجلاس میں آصف علی زرداری کی تقریر کے ٹیکرز لیک ہوئے ۔ پی ڈی ایم میں جو فیصلے ہوئے وہ کچھ سامنے آئے اور کچھ سامنے آ رہے ہیں اور کچھ آتے رہیں گے۔ میاں صاحب کی تقریریں اور ان میں عسکری قیادت کے اکابرین کے نام لینا سیاست میں ارتعاش پیدا کرتارہا ہے اور اس کی بازگزشت آئندہ برسوں میں آتی رہے گی مگر آصف علی زرداری سے منسوب بیانیہ جس کی قمر زمان کائرہ نے تصدیق بھی کی وہ الفاظ کچھ یوں ہیں کہ’ کمزور ہو چکا ہوں، میرا ایک ہی بیٹا ہے اور میں اسٹیبلشمنٹ سے نہیں لڑ سکتا، مریم بھی بیٹی ہے ہم اس کو جیل میں کیوں بھیجیں وغیر وغیرہ‘۔ حاصل گفتگو بات اتنی ہی ہے کہ ’’کمزور ہو چکا ہوں، میرا ایک ہی بیٹا ہے اور کوئی ہے بھی نہیں لہٰذا اسٹیبلشمنٹ سے نہیں لڑ سکتا‘‘۔ 

وارث شاہ کے مطابق دانشمندکو غور ضرور کرنا چاہیے لہٰذا دانشمند لوگوں کو زرداری صاحب کے اس بیان پر غور کرنا چاہیے اور میاں محمد صاحبؒ کے مطابق یہ بات خاصاں یعنی خاص اہل دانش کے سامنے کرنے والی ہے ، میں نہیں جانتا کہ زرداری صاحب اس بیان کے حوالہ سے دانشوری اور دانشمندی کے کس معیار پر ہیں لیکن جوبیانیہ ہے اگر دانشمند کے لیے اس کو شہیدوں کے قبرستان گڑھی خدا بخش کو سامنے رکھ کر سنا سمجھا اور غور کیاجائے تو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ 

افراد، خاندان یا قبیلے کبھی بھی کسی ادارے کا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن اگر سیاسی جماعتوں کی ہیئت و حیثیت مربوط سیاسی جماعت کی طرح کی ہو تو وہ کسی ادارے سے کم نہیں ہوا کرتی کیونکہ عوام کی قوت کے سامنے کسی ادارے کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی۔ بہرحال میاں محمد نواز شریف نے تینوں حکومتیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھڑ جانے کے نتیجے میں کھوئیں جبکہ پیپلزپارٹی کا تو طرۂ امتیاز ہی یہی رہا ہے۔ کچھ تجزیہ کار قابل نفرت حدتک متعصب ثابت ہوئے ہیں جیسے اگلے روز ایک نامعلوم (شاید ضیاء الدین ) رضا رومی کے پروگرام میں 1970ء کے انتخابات میں جناب بھٹو کو سلیکٹڈ کہہ رہا تھا ۔ بہرحال میاں نواز شریف نے حالیہ مہینوں میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جس طرح عسکری قیادت کو نشانہ بنایا میرے خیال سے آصف علی زرداری کا بیان غور کیا جائے آج نہیں تو کل یہ بیانیہ تاریخ کاحصہ بنے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے متعلق بہت بڑا الزام ثابت ہو گا کہ 14 سال ہنستے ہنستے جیل کاٹنے اور ہر مقدمہ میں بری ہونے والا سرعام کہہ رہا ہے کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے اور میں اب کمزور ہوں لہٰذا میں اسٹیبلشمنٹ سے نہیں لڑ سکتا گویا اس کے پیچھے شہیدوں کا قبرستان ہے جو اسی جدوجہد جواب لڑائی اور دشمنی کی صورت اختیار کر گئی ،کے نتیجے میں آباد ہواہے۔ میرے خیال سے جناب نواز شریف کے دیئے گئے بیانات کے سامنے زرداری صاحب کی معذرت زیادہ گہرا الزام اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے زیادہ نقصان دہ مؤقف ہے۔ 

ابھی اس دھول کی مٹی بیٹھی نہیں تھی کہ سینیٹ میں اپوزیشن رہنما کا قضیہ کھڑا ہو گیا۔ مریم نواز شریف پیپلزپارٹی پر ٹوٹ پڑیں۔ بلال بھٹو استدلال پیش کرتے رہے مگر مولانا فضل الرحمن کے سینیٹرز کا خاموش رہنا سمجھ سے بالا تر ہی نہیں مریم اور بلاول کی توجہ اور پریس کانفرنس کا موضوع ہی نہ بنا۔ آج کی سیاست میں ایکسٹرا کا کردار ادا کرنے والے سراج الحق بھی گیلانی صاحب کو ووٹ دے گئے۔ گیلانی صاحب جو واحد سابق وزیراعظم ہیں جنہوں نے اعتماد کا ووٹ متفقہ طور پر لیا اور سپیکر کے طور پر وقت کی وزیراعظم اور اپنی رہنما کو ناراض کرکے سپیکر کا کردار ادا کیا۔ صدر کو آئینی استثناء حاصل ہے کی بنیاد پر خط نہ لکھنے کی پاداش میں دجالی فیصلے پر وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوئے اس قدر نہیں گر سکتے کہ سینیٹ کے حزب اختلاف کے رہنما کے لیے اصولی مؤقف پر سودے بازی کرتے۔ دراصل چلتے لمحے میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قوتوں میں گوریلا جنگ جاری ہے۔ منافقانہ روش ہتھیار ہے ۔ 18ویں ترمیم میں 58-2-B کے بدلنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا مورچہ ایوان صدر سے عدلیہ، بیورو کریسی، نیب اور بنیاد پرستوں کے دفاتر میں ہے۔ 

جناب پرویز صالح جن کا سیاست میں 50 سالہ تجربہ ہے اور عوامی حق حکمرانی کی خاطر درجنوں بار جیل ، شاہی قلعہ ، گھر میں نظر بند ہو چکے ہیں کا مشورہ انتہائی بروقت اور موزوں ترین ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو نئی نسل کے سیاسی رہنما اور نمائندے ہیں۔ عوامی حق حکمرانی کے نعرے سے نکلے ہیں ان کو معمولی باتوں پر اختلافات کی وجہ سے اپنے مقاصد سے انحراف نہیں کرنا چاہیے وگرنہ عوام بھی مایوس ہوں گے۔مزید کہا کہ 73 سال بعد ملک آج بھی وہیں کھڑا ہے جب کہ بعد میں بننے اور آزاد ہونے والے ممالک ایشین ٹائیگر بن گئے۔ پرویز صالح نے زور دیا کہ وہ ساؤتھ افریقہ کی طرح قومی مفاہمت اور ٹروتھ کمیشن کا قیام ضروری سمجھتے ہیں۔ آئندہ کے سفر کے لیے سچائی اور مفاہمت کو بنیاد بنانا ہو گا۔ پرویز صالح کی ذاتی رائے میں بوڑھی ہوتی ہوئی نسل نئی نسل کو دنیا اور وقت سے ہم آہنگ پاکستان دینے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ اب ہماری امید نئی نسل ہے جس کو ہمارے بوئے ہوئے کانٹے چگنے پر مامور نہیں کرنا چاہیے لہٰذا قومی مفاہمت اور سچائی کمیشن میں سچ کو باہر اور جھوٹ کو دفن کر کے اپنے ماضی کی سچی تصویر تاریخ اور عوام کے سپرد کرنا ہو گی۔ مفاہمت اور سچ کی بنیاد پر نئی نسل کو دنیا اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر چلنے کے لیے اپنی اہلیت کو بروئے کار لانا ہو گا نہ کہ وہ داغ دار ماضی میں الجھ کر ایک نئی بورھی نسل بن جائیں اور ملک وہیں کھڑا ر ہے بلکہ مزید بربادی میں دھکیل دیا جائے۔جبکہ میرے مطابق یہ سب باتیں اپنی جگہ کیا اسٹیبلشمنٹ ، حکومت، اپوزیشن ، سول سوسائٹی، سوشل میڈیا ، عدلیہ، انتظامیہ، پارلیمنٹ جن کاکھاتے ہیں یعنی عوام کا بھی کوئی وارث ہے کہ نہیں۔ 1740 ارب روپے کا حالیہ ٹیکہ اس مایوس اور تھکی ہوئی قوم سے اس کی ہڈیوں کا چرغہ بنا کر وہ بھی آئی ایم ایف کی غلامی میں وصول کرنا کہاں کی ٹیپو سلطانی ہے۔ کوئی ہے جو وطن عزیز کا سوچے، کوئی ہے جو عوام کا سوچے، بیروزگاری ، مہنگائی، دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ، لاقانونیت، سی پیک کی فریزنگ ، گوادر کا غیر اعلانیہ حکم امتناعی، وطن عزیز کی خارجہ پالیسی (ایران ایک فون کال پر اپنی پالیسی نہیں بدلتا، چین )، اندرونی پالیسی، تعلیمی پالیسی، صحت پالیسی، اقتدار اعلیٰ سب کا سب گروی رکھ دیا گیا۔ وہ وقت آن کھڑا ہے کہ پولیس، سول سرونٹ حتیٰ کہ فوج کو دینے کے لیے تنخواہوں کے پیسے نہیں ہوں گے۔ 

پٹھ پوے اوہ سونا جیہڑا کناں نو توڑے (وہ سونا آگ کی بھٹی میں پھینک دو جو کانوں کو توڑ دے) 

ایسی حکمرانی ایسے ہائبرڈ نظام پر لعنت ہے جس میں لوگ مرجائیں کوئی سننے والا نہ ہو اور تمام سٹیک ہولڈر صرف اور صرف سیاست سیاست اور اقتدار اقتدار کھیل رہے ہوں ۔ حصول اقتدار اور ذاتی مفادات کی گوریلا جنگ جو حکمران طبقات میں جاری ہے نہ جانے کس انجام میں مبتلا کر دے۔اللہ خیر کرے۔


ای پیپر