Shakeel Amjad Sadiq, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
30 مارچ 2021 (11:23) 2021-03-30

کہتے ہیں کہ سلطنت عمان کے سلطان ’’قابوس بن سعید رحمتہ اللہ علیہ‘‘ کا پروٹوکولز کے بارے میں اپنا خاص نظریہ تھا۔ وہ زندگی بھر کسی شخصیت کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے نہ گئے اور نہ کسی کو کبھی آگے بڑھ کر ریسو کیا تھا۔ان کا خیال تھا کہ یہ تمام تکلفات انسان کی عادات کو خراب کرنے میں ایک پڑاؤ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ایسا کرنے سے انسان کے اندر بلاوجہ غرور،تکبر ، نخوت جیسی برائی جنم لیتی ہے جو انسانی کی قدر اور حیثیت کو مجروح کرنے میں پیش پیش ہوتی ہے مگر ان کی یہ عادت اُس وقت ٹوٹ گئی جب انہوں نے انڈیا کے صدر شنکر دیال شرما کا ہوائی اڈے پر جا کر استقبال کیا۔ 

حکومتی اراکین اور عہدیداران اس بات پر حیران و پریشان تو تھے ہی صحافیوں کے لیے بھی یہ سب کچھ انوکھا اور حیرت و تعجب کا سبب بن گیا تھا۔ 

سلطان قابوس انڈین صدر سے اس کے جہاز میں کرسی پر سے اٹھنے سے پہلے ہی جا کر گلے ملے، اس کے ساتھ ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جہاز سے نیچے اترے،حال احوال دریافت کرتے رہے۔ ان کے ساتھ باتوں میں مگن رہے۔ جب کار کے نزدیک پہنچے تو ڈرائیور کو اتر جانے کا اشارہ کیا، خود جا کر کار کا دروازہ کھولا، مہمان کو اندر بٹھایا اور خود ہی کار چلا کر مہمان کو اپنے محل میں لائے۔ بھرپور خدمت کی۔انتہائی احترام سے محو گفتگو رہے۔ سلطان صاحب تمام گفتگو میں انتہائی مودب رہے۔ 

بعد میں جب صحافیوں نے اس بارے میں سلطان سے سبب پوچھا تو انہوں نے جواباً بتایا: میں ایئرپورٹ پر انڈیا کے صدر کے استقبال کے لیے ہرگز نہیں گیااور نہ ہی انہیں پروٹوکول دینا میرے مقاصد میں شامل تھا۔ میں ایئرپورٹ پر اس وجہ سے گیا ہوں کہ میں نے بچپن میں انڈیا کے شہر پونا کے ایک سکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ جناب شنکر دیال شرما اس وقت میرے استاد ہوا کرتے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے اور زندگی میں آنے والی مشکلات اور مصائب کا کیسے سامنا کرنا ہے۔ اور میں آج تک حتی المقدور کوشش کرتا ہوں کہ جو کچھ اُن سے پڑھا اور سیکھا ہے اسے عملی زندگی میں نافذ کروں۔ 

تو یہ تھی ایک استاد کی قدر و منزلت جو سلطان کے اپنے پروٹوکول نظریات سے انحراف کا سبب بنی تھی۔ آج بھی ایسے عجائب نظر میں آ جاتے ہیں اگر کوئی دیکھنے والا بنے تو… 

کل کی ہی تو بات جب روسی صدر پوتن کو اپنے استقبال میں کھڑے لوگوں کے ہجوم میں اپنی ایک استانی نظر آ گئی۔ پوتن نے سارے گارڈز، حفاظتی عملے اور حفاظتی حصار بالائے طاق رکھ کر سیدھا استانی کو جا کر گلے لگایا اور وہ رو رہی تھی۔ خلقت کے ہجوم میں استانی کو ساتھ لیکر باتیں کرتے اور چلتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ پوتن اپنی استانی کے ساتھ نہیں کسی ملکہ کے پہلو میں چل رہا ہے اور آپ نے اپنی استانی کے ہر ممکن کیا جو وہ کر سکتے تھے۔واضح رہے کہ استاد کی عزت و منزلت اور قدر و قیمت کی ایک تاریخ ہے۔ تاریخ سے ایک ورق اور ملاحظہ کیجیے۔ مامون الرشید چھوٹا سا تھا تو اس کے استاد نے آتے ہی مامون کو بلا وجہ ایک ڈنڈا جڑ دیا۔ مامون نے درد سے بلبلاتے ہوئے استاد سے پوچھا: کیوں مارا ہے مجھے یونہی بلا وجہ؟ استاد نے کہا: چپ، خاموش ہوجا۔ مامون اس بلاوجہ چھڑی مارنے کے بارے میں جب بھی استاد سے پوچھتا تو استاد کہتا: خاموش۔ 

20سال کے بعد یہی مامون جب خلیفہ وقت بن بیٹھا تو اسے اپنے ذہن پر نقش وہ بلاوجہ کی مار یاد آ گئی اور اس نے اپنے استاد کو بلوا بھیجا۔ استاد کے آنے پر مامون نے پوچھا: جب میں چھوٹا تھا آپ نے مجھے ایک بار کیوں بلا وجہ مارا تھا؟ استاد نے پوچھا: تو ابھی تک وہ مار نہیں بھولا کیا؟ مامون نے کہا: اللہ کی قسم میں تو کبھی نہ بھولوں گا۔ 

استاد نے مسکراتے ہوئے مامون کو دیکھا اور میں جانتا تھا کہ تو ایک نہ ایک دن مسلمانوں کا خلیفہ بنے گا۔ اور میں نے تجھے جان بوجھ کر بلا سبب پیٹا تھا تاکہ تو یاد رکھ لے کہ ’’مظلوم کبھی نہیں بھولا کرتے‘‘۔ 

استاد نے مامون کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: کبھی کسی پر ظلم نہ کرنا۔ ظلم ایک آگ ہوتی ہے جو مظلوم کے دل میں کبھی نہیں بْجھتی چاہے جتنے بھی سال کیوں نہ گزر جائیں۔دور حاضر کے حکمرانوں کا تو باوا آدم ہی نرالا نکلا۔وفاق کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھیںمگر پنجاب حکومت نے یہ کہہ کر اپنا فرض پورا کر دیا کہ ان کے پاس بجٹ نہیں۔ستم ظریفی کی بات یہ کہ پنجاب حکومت اساتذہ کے علاوہ اپنے من پسند دس محکماجات کی تنخواہیں اپنی مرضی سے بڑھا چکی ہے اور اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے ان کے پاس بجٹ نہیں ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ اس وقت پاکستان میں سب سے پسماندہ طبقہ اساتذہ کا ہے۔ایک استاد وہ راستہ ہے جو ایک طالبعلم کو اس کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ایک سی ایس پی آفیسر پہلی کلاس سے لیکر اپنی اکیڈمی مکمل کرنے تک ایک استاد کا مرہون منت رہتا ہے۔ استاد اسے زندگی گزارنے کے طریقے سے لیکر انسانیت سے محبت تک کا درس دیتا ہے۔استاد اس کی انگلی پکڑ کر زندگی کے پُرخار راستے پر چلنے اورسنبھلنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے مگر وہی سی ایس پی سیکرٹری تعلیم بن کر اپنے اساتذہ اور ان کے مسائل سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ وزیر،  مشیر، سیاستدان  مسند خلافت پر براجمان اپنے اساتذہ جو ان کے محسن و مربی ہوتے ان کے مسائل سے قطع نظر ہو جاتے ہیں۔پولیس والے اپنے ہی اساتذہ پر لاٹھی چارج کرتے ہیں۔ایک استاد اپنی تنخواہ سے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلا سکتا۔ ایک استاد اپنی زندگی میں اچھا گھر نہیں بنا سکتا مگر موجودہ حکومت کے پاس اتنا بجٹ نہیں کہ ان کی تنخواہ میں اضافہ کر سکے۔افسوس صد افسوس مگر وہ وقت دور نہیں ہے۔موجودہ حکومت کو اپنے ظلم کا خمیازہ ضرور بھگتنا پڑے گا۔۔۔بقول میر

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی


ای پیپر