سیاست میں کیا بے وفائی....؟
30 مارچ 2021 2021-03-30

سیاسی مصلحت کا کمبل جگہ جگہ سے خستہ ہوچکا اور اختلافات پھوٹ پھوٹ کر باہر نکلنا شروع ہوچکے....Un naturalاتحاد یا کسی مقصد کے تحت گٹھ جوڑ مدت مقاصد، نکتہ¿ ہدف اور منزل مقصود تلک پہنچنے سے قبل بھی قطع بریدہوجایا کرتا ہے کہ بے انداز احتیاط ، دانشمندی اور وضع داری کا جو معیار چاہئے وہ ہمارے ناتجربہ کار سیاست دانوں کے ہاں عدم ہے رہ گئی ایمانداری وفاداری اور خلوص کی توقع تو ویسے ہی عنقا ہے....

وفا اب محض شاعری کے بچے کھچے موضوعات میں سے ایک ہے اور بہت ہی دل والے کنگلے لوگوں کا شیوہ ہے کھربوں روپے اکٹھے کرنے والوں کو پہلے وفا ہی کو تج کر وعدہ خلافی کرنا پڑتی ہے اور یہ وعدہ خلافی ان کی اپنی ہی ذات سے ہوتی ہے۔ 

انسان جب تلک اپنی ذات کو روند کر انتہائی امیر وکبیر نہیں ہوجاتا اپنا سوداہی کرتا چلا جاتا ہے، ہم سب اس لیے نہیں امیر ہوتے کہ ہمارے اصول زیادہ امیر ہوتے ہیں غربت پر ناز کرنے والے ہم نے اپنی آنکھوں سے سارا بچپن دیکھے ہیں۔ 

دبئی پلٹ معاشرہ جب تک رائج نہ ہوا تھا ڈاکیے، استاد اور پرانی خادمہ کی عزت تھی، اب تو لوگوں نے ماﺅں کو ایدھی، چھیپااور سارم صاحب کے ہاں اس کثیر تعداد میں پٹخاہے کہ محاورے (پنجابی کے) کھل کر سمجھ میں آگئے ”ڈھووں دشمن“ یعنی وہ دشمن جسے خود جنم دیا جائے .... 

فراز صاحب نے کیا خوب کہا ہے :

اس قدر کون نبھاتا ہے تعلق اپنا 

اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

یہ ”تعلق“بھی دشمنی کا ہے جو دشمنی محبت کی آڑ میں کی جاتی ہے اُس کا جواب نہیں (سواد ہی آجاتا ہے) بہرطور سیاست دان اس ”روگ“ سے دورہی ہیں وفا وبے وفائی کو تج کرہی رستہ بناتے ہیں۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بالکل چھوٹی سی گیم ہوئی ہے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بناتے ہوئے میاں نواز شریف کا دل نہ دھڑکتا یہ کیسے ممکن ہے؟ لہٰذا عین ایک رات پہلے اپنے پسندیدہ موضوع پر تقریر ”کھڑکا“ دی اگلے دن ووٹوں کے رخ پھر گئے کہ یوسف مشترکہ امیدوارتھے زرداری نہ سمجھتے یہ کہاں لکھا ہے انہوں نے استعفوں کے موضوع پر نواز شریف واپسی کی شرط رکھ کر مسلم لیگ ن کے مو¿قف سے دوری اور حکومتی مو¿قف کو اشارہ دے دیا لہٰذا یوسف اپوزیشن لیڈر کے طورپر منتخب ہوگئے اب یہاں کیا ذکر گل وبلبل کا اور بے وفائی کا سادہ سی سیاسی چالیں ہیں یہ تو ہمہ وقت چوہے بلی کا کھیل ہے، لہٰذاشاعرانہ اصطلاحات سے گریز کیا جائے کہ یہ چاک گریباں خالی ہاتھ لوگوں کا اثاثہ ہے۔ 

اب رہ گئی سیاست تو یہ بھی محبت کی طرح دونہیں تین اطراف کا قصہ ہے گئے وقتوں میں ایک مرتبہ محبت کے لیے لکھا تھا کہ محبت دونہیں تین لوگوں کا مسئلہ ہے تو کافی ”رولا“ پڑا حالانکہ دولوگوں میں محبت پرسکون ندی کی طرح بہتے بہتے بوریت کی ریت بن جاتی ہے اگر اس ندی میں کوئی کنکر تلاطم نہ پیدا کرے شک وسوسہ، وہم اور رقابت محبت کو ہوادیتے ہیںبلکہ آکسیجن کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ 

وطن عزیز کی سیاست بھی آج کل تیسری فورس کی موجودگی سے رنگین ہوئی چاہتی ہے آج کل تو اولادوں کی آمیزش سے پورا متنجن بنی پڑی ہے اوپر سے کروناحدہی ہوگئی پروین شاکر نے کہا تھا کہ کالم رونق کی طرف لے جاتا ہے اور شاعری تنہائی کی طرف بعینہہ سیاست رونق کی طرف کھینچے ہے تو کرونا تنہائی کی طرف گزشتہ دنوں لاہورہی میں ایک ضروری عزیز کے ہاں شادی اٹینڈ کرنا پڑی پورے ہتھیاروں سے لیس ہوکر گئے ترس آیا بیوٹی پارلرز سے تیار شدہ چہروں کو ماسک میں چھپا دیکھ کر دس ہزار کا میک اپ پانچ روپے کے ماسک نے چھپا دیا تمام تر احتیاطیں دھری کی دھری رہ گئیں جب اندرون شہر کی رہائشیں بارات کھلکھلاتی اٹھلاتی گلے ملتی ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ بناماسک واحتیاطی تدابیر رونق افروز ہوئی ان لوگوں نے آتشبازی روشنی رقص اور لڈیاں ڈالیں ہماری فیملی کو وہ لوگ کونے میں سکڑاسمٹا دیکھ کر حیرت انگیز نظروں سے دیکھ رہے تھے ہم نے گھبرا کر ماسک ڈبل کرلئے میری بھانجی کہنے لگی خالہ لگتا ہے یہ باراتی کسی ایسے ملک سے آئے ہیں جہاں کرونا نہیں کوئی کہہ رہا تھا ساﺅتھ افریقہ سے آئے ہیں مگر حقیقت حال یہ ہے کہ واقعی لاہوریوں کو کوئی پروا نہیں پھر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کچھ کہہ دیا تو قیامت آجائے گی دیگر شہروں میں بھی ایسی ہی ایک کان سے سن کر دوسرے سے اُڑا دینے والی مخلوق ہے ایک تو ہم طبعاًلاپروا ہیں دوسرے کسی کی سنتے نہیں تیسرے ہمارے پی ڈی ایم کے جلسے میں بھی شاید اب کمی آئے.... لانگ مارچ کا تو کوئی امکان اس وقت نہیں پارلیمانی طاقت ویسے ہی بٹی ہوئی ہے اب وزیراعظم کرونا سے نکل کر دیکھیں لاکھوں مکانات اور کروڑ نوکریوں سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا کرتے ہیں کہ لوگوں کی توجہ بلاول اور مریم نواز سے ہٹی تو خان صاحب کی طرف ہوجائے گی کچھ عرصہ تو کرونا بھی سیاست کو سہارا دے گا۔ 

مہنگائی کا مدعا گلے پڑسکتا ہے پچھلے دوبرس میں لوگ بری طرح کچلے گئے ہیں اب کے بھی مہنگائی لوڈشیڈنگ اور جھوٹے وعدوں کے ستائے عوام رمضان کے روزے رکھیں گے عید ڈرڈر کر منائیں گے گزشتہ عید کی طرح .... اپنی کتاب خاموشیاں سے شعر یاد آگئے :

ترے وعدوں کی دنیا نے کہیں کا بھی نہیں رکھا 

مرے دل کی تمنانے جہاں میں تھی وہیں رکھا 

اسے دنیا کے کاموں سے کبھی فرصت نہیں ملتی 

مجھے جس کے خیالوں نے کبھی فارغ نہیں رکھا


ای پیپر