معافی نامہ!
30 مارچ 2021 2021-03-30

آج شب برات ہے، اِس مبارک موقع پر ہرسال دوستوں اور عزیزوں کے مختلف ذرائع سے خصوصاً آپکے موبائل فون پر بے شمار مسیجز آنا شروع ہوجاتے ہیں جس میں لوگ عموماً یہ عرض کرتے ہیں ”میں نے زندگی میں آپ کو کبھی ہرٹ کیاہو، آپ کی دِل آزاری کی ہو، مجھے معاف فرمادیں“....یہ روایتی سا بنا بنایا ایک مسیج ہوتا ہے جو لوگ اب شاید فیشن کے طورپر ایک دوسرے کو فارورڈ کردیتے ہیں، اِس قسم کے مسیجز کا عمومی تاثر یہ ہوتا ہے نہ مسیج کرنے والا سچے دل سے کسی سے معافی مانگ رہا ہوتا ہے، نہ یہ مسیج پڑھنے والا معاف کرنے کا ہلکا سا خیال بھی دل میں لاتا ہے،....مگر یہ اچھی روایت ہے، تھوڑے بہت لوگ بھی اِس قسم کے مسیجز پڑھ کر ایک دوسرے کو معاف کردیں یہ یقیناً اچھا عمل ہے .... اپنی کسی غلطی پر دوسروں سے معافی ”بڑے لوگ“ مانگتے ہیں۔ چھوٹے لوگ صرف سازش کرتے ہیں، بدلہ لیتے ہیں، منافقت کرتے ہیں، حسد کرتے ہیں، یہ سب کام وہ آسانی سے کرلیتے ہیں، اور حقیقی معنوں میں سب سے آسان کام جو معاف کرنے کا ہوتا ہے اُسے انتہائی مشکل سمجھتے ہیں، معافی مانگنے والا بڑاانسان ہوتا ہے اور اُس سے بھی بڑاانسان وہ ہوتا ہے جو دل سے کسی کو معاف کردے، زبانی معاف کرنے میں یا دل سے معاف کرنے میں وہی فرق ہوتا ہے جو زبانی معافی مانگنے یا دل سے معافی مانگنے میں ہوتا ہے، دِلوں کے بھید تو اللہ ہی جانتا ہے، پر جیسی نیت سے آپ معافی مانگ رہے ہوتے ہیں ویسی ہی نیت سے آپ کو معافی مِل بھی رہی ہوتی ہے، .... میں جب کسی سے معافی مانگتا ہوں سب سے پہلے یہ ارادہ کرتا ہوں جس غلطی پر معافی مانگی ہے اُسے دہرایا نہ جائے، کیونکہ بار بار معاف کرنا صرف رب کی شان ہے، بندے کا کام باربار غلطیاں کرنا ہے، اور ہم کسی کی ایک غلطی تو معاف کرسکتے ہیں، وہ اگر بار بار غلطیاں کرے اُنہیں معاف کرنے کے لیے جو دِل اور جگرہ چاہیے ، بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے، اور جن کے پاس ہوتا ہے وہ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں، ”کوئی معاف کرتا نہیں ہے خطائیں.... بارہادیکھا ہے خطا کرکے“....کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے محترم وعزیز بھائی رﺅف کلاسرا کی فیس بُک پر ایک پوسٹ دیکھی۔ اُنہوں نے فرمایا تھا ”آپ کا کوئی دوست آپ سے کسی وجہ سے روٹھ گیا ہو ،اُسے منانے میں دیر نہ کریں اُسے ”آئی ایم سوری“ کا ایک مسیج کردیں“....میں نے ایسے ہی کیا، چند دوست جو مجھ سے ناراض تھے اُنہیں ”آئی ایم سوری“ کا مسیج کردیا، بے شمار دوستوں کا جوابی مسیج یا کال آگئی، اُنہوں نے میرے ”آئی ایم سوری“ کو دل وجان سے قبول کرلیا، یہ یقیناً اُن کی عظمت تھی، میری کم ظرفی یہ تھی میں نے یہ مسیج اُنہیں دیر سے کیا۔ رﺅف کلاسرا ہدایت نہ فرماتے یہ مسیج ابھی بھی میں اُنہیں شاید نہ کرتا، کچھ دوست ایسے بھی تھے جن کا جوابی مسیج نہیں آیا ، میں نے اُنہیں کال کرلی۔ سو بے شمار دوستوں کو میں نے راضی کرلیا، کچھ دوست اِس کے باوجود رہ گئے، مجھے پتہ تھا میں نے اِس قدر ”چولیں“ ماری ہوئی ہیں، اُن کی اس قدر دِل آزاری ہوئی، ہوئی ہے، یا وہ میری کسی تحریر یا جُملے سے اس قدر ناراض ہیں، وہ صرف ”آئی ایم سوری“ کہنے سے راضی نہیں ہوں گے، مجھے خود اُن کی خدمت میں حاضر ہونا پڑے گا۔ اور حاضر ہونا بھی چاہیے، کسی دوست یا کسی انسان کی ناراضگی اُس کے بعد کیسے برقرار رہ سکتی ہے جب رسول اللہ نے فرمایا ہو”آپ کا کوئی بدترین دشمن بھی چل کر آپ کے دروازے پر آجائے اُسے معاف فرمادیں“ .... میں آج روزے کی حالت میں حلفاً عرض کرتا ہوں میں نے آج تک کسی کے خلاف سازش نہیں کی، کسی سے انتقام لینے کی گھٹیاحدتک نہیں گیا، اِس حوالے سے میرے کسی دوست کو میرے خلاف کسی نے بھڑکایا میں اُس کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں، میرا زیادہ سے زیادہ انتقام یہ ہوتا ہے کسی کے خلاف دوچار جملے یا ایک دوکالمز لکھ دیئے، میں اِسے بھی اپنا ”چھوٹاپن“ سمجھتا ہوں، مگر موجودہ صحافت نے میری جو تربیت کی ہے، اُس کے مطابق کسی کی کسی غلطی یا زیادتی کو درگزر یا نظرانداز کرنے کے ”بڑے پن“ کا مظاہرہ کم ہی مجھ سے ہوتا ہے، سو جب تک اُس کے خلاف ایک آدھ کالم، یا دوچارجُملے لکھ کر بھڑاس نہ نکال لُوں، چین نہیں آتا، میں نے اِس حوالے سے بہت لڑائیاں لڑیں۔ بہت لوگوں کو ناراض کیا، بہت لوگوں کو دُشمن بنایا۔ کچھ ایسے دوست بھی بدترین دُشمن بن گئے جن کے حق میں کئی کئی کالمز میں نے لکھے پر بے ضررسا اِک جُملہ بھی اپنے خلاف وہ برداشت کرسکے، وہ ایسے بھڑکے اُن کی آگ ٹھنڈی ہونے کا نام نہیں لے رہی، .... مجھے یہ آگ اب ہرحال میں بجھانی ہے، زندگی اب رہ کتنی گئی ہے؟۔ کورونا نے جو حالات پیدا کردیئے ہیں، اُن کے بعد بھی کوئی حسد نہیں چھوڑتا، دشمنی نہیں چھوڑتا، بغض نہیں چھوڑتا، سازش اور منافقت نہیں چھوڑتا، خصوصاً کسی کو معاف نہیں کرتا یا اپنی غلطیوں پر کسی سے معافی نہیں مانگتا، اپنے رب کے اِس حکم پر عمل نہیں کرتا”تم میرے بندوں کو معاف کرو، میں تمہیں معاف کروں گا“، میرے نزدیک وہ شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا،....مجھے اِس موقع پر اپنے چٹے ان پڑھ والدمحترم کا اِک قول یاد آرہا ہے، وہ بہت زور دے کر فرماتے تھے، ”اپنی غلطیوں پر دوسروں سے معافی مانگنے میں شرم محسوس نہ کیا کرو، نہ دیر کیا کرو، البتہ تم اگر دوسروں سے توقع رکھو وہ اپنی غلطیوں پر زبانی طورپر تم سے معافی مانگیں تمہارے پاس آکر ہاتھ جوڑیں ، یا تمہارے پاﺅں میں گریں، اِس تکبر سے بچا کرو، تمہاری یہ توقع اصل میں دوسروں سے بدلہ لینے کے مترادف ہی ہے۔ تمہارا بڑاپن تو یہ ہے تم دوسروں کو دل ہی دل میں معاف کردیا کرو، یہ نوبت ہی نہ آئے وہ باقاعدہ طورپر آکرتم سے معافی مانگیں ہاتھ جوڑیں یا تمہارے پاﺅں میں گریں، ....وہ فرماتے تھے ”دِل ہی دِل میں کسی کو معاف کرنا اصل میں ”خیرات“ کی وہ قسم ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ”تم ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ کو اِس کی خبر نہ ہو“ .... اتنے عظیم والدین نے میری تربیت کی، پر المیہ یہ ہوا جو تربیت اِس ”بدلہ پسند معاشرے“ نے میری کی وہ والدین کی تربیت پیچھے چھوڑ گئی، میرے اساتذہ بھی بڑے عظیم تھے، وہ بھی اِسی طرح کے سبق دیتے تھے، ”بدلہ پسند معاشرے “ کی تربیت، میرے اساتذہ کی اِس عظیم تربیت کو بھی کھاگئی ۔   (جاری ہے)


ای پیپر