کرونا وائرس پر بھی سیاست
30 مارچ 2020 2020-03-30

حیرت، افسوس، بد قسمتی، پاکستان میں عذاب خداوندی پر بھی سیاست ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکت خیزیوں نے 3 ارب سے زائد انسانوں کو دہلا دیا ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں تب بھی مر رہے ہیں، اٹلی ہلاکتوں میں چین سے بازی لے گیا۔ 190ممالک متاثر، 30ہزار سے زائد موت کے منہ میں چلے گئے۔ دنیا موت کو بھولے ہوئے تھی۔ والبعث بعد الموت کا عقیدہ کمزور پڑنے لگا تھا ایک ان دیکھے وائرس ، سوئی کے ناکے میں سما جانے والی مخلوق نے موت یاد دلا دی۔ امریکا، برطانیہ، اسپین، اٹلی، ایران، حتیٰ کہ سعودی عرب بند، ڈاکٹر زندگی ہار گئے۔ رب ذوالجلال کی ان گنت نعمتوں کو ٹھکرانے کا نتیجہ، زندگی کے سارے رستے دھندلکوں میں گم، معیشتیں تباہ، ملکوں کو چلانے والے ادارے خود پٹڑی سے اتر گئے۔ پاکستان میں مریضوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ دل دہلائے دیتا ہے، سیاستدان جانے کس مٹی کے بنے ہیں کہ میتوں پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ، انا، ذاتی دشمنی یا پھر احساس کمتری،’’ یہ تین عناصر ہوں تو بنتا ہے سیاستدان‘‘۔ تینوں سے نفرت جنم لیتی ہے۔ کسی ’’بابے‘‘ کا قول ہے کہ ’’محبت کا جذبہ نہایت مضبوط ہے لیکن نفرت کا جذبہ کہیں گہرا اور دیر پا، محبت میں روح کے محض چند حصے مصروف ہوتے ہیں۔مگر نفرت میں روح اور جسم دونوں فنکشنل، سرگرم، متحرک، فعال، نفرت دل میں کچھ اس طرح سما جاتی ہے اور خیالات میں یوں رچ بس جاتی ہے کہ روح اور جسم کا اہم جزو بن کر رہ جاتی ہے۔ اور انسان بے بس ہوجاتا ہے۔

ہم نے دیکھی ہے جن آنکھوں میں سلگتی نفرت

کتنا مشکل ہے ان آنکھوں میں محبت لکھنا

’’اپنے ہی ایک تجزیہ کار‘‘ نے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی سیاست ، مائنڈ سیٹ، رویے سب کرونا زدہ، عذاب الٰہی پر بھی پوائنٹ اسکورنگ، ایسے حالات میں لیڈر کا کام اتفاق رائے سے کوئی متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہوتا ہے۔ یہاں اپنے ذہن منتشر، اتفاق رائے کیسے پیدا ہو، اپوزیشن نے رضا کارانہ طورپر سرنڈر کردیا۔ بلاول بھٹو نے خود تعاون کی پیش کش کی۔ شہباز شریف وطن واپس آگئے۔ آتے ہی اعلان کیا کہ کرونا وائرس پر کوئی سیاست نہیں، سارے وسائل حکومت کے حوالے، مل بیٹھ کر کچھ طے کرلیں۔ جواب ندارد، ’’چوروں ڈاکوئوں‘‘ کے ساتھ کیوں بیٹھیں، چور ڈاکو ابھی صرف ملزم، مجرم ثابت نہیں ہوئے مگر دل میں گرہ پڑ گئی۔ سامنا کرنے سے گریزاں مل بیٹھنے سے انکاری، اسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی پارٹیوں کے رہنمائوں کا ویڈیو لنک اجلاس بلایا مقصد ایک دوسرے کے خیالات معلوم کرنا تھا۔ وزیر اعظم صدر نشین تھے وہ آئے خطاب کیا اور کسی کی شکل دیکھے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔ آئے بھی وہ گئے بھی وہ ختم فسانہ ہوگیا۔ چیپٹر کلوز، منڈوا ختم، ان کے جاتے ہی بلاول بھٹو اور شہباز شریف بھی واک آئوٹ کر گئے۔ لیپ ٹاپ بند، رابطہ منقطع، اتفاق رائے پیداکرنے کی ایک اور کوشش ناکام۔ اسپیکر بے چارے اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۔ جس پارٹی

کے ہیں اس کے لیڈر کا مزاج نہیں ملتا،’’ اپنے‘‘ تجزیہ کار سے اس رویہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے وزیر اعظم کے رویہ کو نا مناسب قرار دیا لیکن ایک فقرے یعنی صرف ایک فقرے کے بعد دونوں اپوزیشن لیڈروں پر برس پڑے وہ بے نقط سنائیں کہ رہے نام اللہ کا، ’’وزیر اعظم چلے گئے تھے اپوزیشن لیڈر کیوں گئے۔ اربوں کھربوں کیا قبر میں لے کر جائیں گے۔ کیا موت یاد نہیں ہے‘‘۔ ایک منٹ میں سانس پھول گئی۔ آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ۔ جیسے دہری دھار کا خنجر چلے‘‘ ان کی باتیں دہری دھار کے خنجر کی مانند تھیں، ذہن کرونا زدہ ہیں کیا کریں، ملکی سیاست میں ڈیڑھ سال بعد بھی مقابلے کی فضا غالب مکالمے کی کوششیں ناکام، سیاستدانوں کی نظریں کرونا وائرس پر نہیں ایک دوسرے پر ہیں۔

کسی کو خیال نہیں کہ کرونا وائرس رکنے میں نہیں آرہا روز بروز مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دعائوں کا نتیجہ ہے کہ اموات کم ہیں اللہ اپنا کرم کرے، ہزاروں کی اسکیننگ کی جا رہی ہے۔ تعداد میں کمی نہیں آرہی، کرونا پھیل رہا ہے کرونا پھیل گیا ہے۔ وفاق اور صوبوں میں اتفاق نہیں، اپنے اپنے طور پر وائرس کو دبوچنے میں مصروف

ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ دوڑ میں سب سے آگے ۔ بزدار پلس ان کے پیچھے، وفاق سب سے پیچھے، ہر صوبہ میں متاثرین بسوں میں بھر کر آرہے ہیں۔ لائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم لانے والوں کے حامی اسکیننگ، اسکریننگ، مثبت رزلٹ پر قرنطینہ کی تن تنہا زندگی۔ پاکستانی یار باش، میلوں ٹھیلوں کے رسیا، لاک ڈائون کے باوجود کبڈی کے مقابلے، وائرس کبڈی کبڈی کرتے ہوئے سرایت کر گیا۔ کرکٹ کے میچ، لوگ کھابوں کے شوقین، پارکوں اور پکنک پوائنٹس پر ہلا گلا کرنے کے عادی، قرنطینہ میں منہ پر ماسک چڑھائے بیڈ پر لیٹے ڈاکٹروں کا انتظار الگ بوریت، لاہور میں تو ایک مریض، واجاں ماریاں بلایا کئی بار میں ۔کسے نے میری واج نہ سنی۔ (کئی بار نرسوں ڈاکٹروں کو بلایا کسی نے میری آواز نہ سنی) گیت گاتے ہوئے جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ اسپتال والوں نے کہا موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی۔ دل کا حال جانتے ہیں سینے سے نکال کر ہاتھ پر رکھ لیتے ہیں۔ کرونا وائرس نے دل پر حملہ کیا ہوگا، دل نا تواں ہار گیا۔ اللہ کی مرضی، تحقیقات سے کیا ہوگا، پہلے کچھ ہوا ہے کہ اب ہوگا، ساری تحقیقات آگے جا کر ہوں گی۔ مریض وینٹی لیٹر کے لیے چیختا رہا اور ہمیشہ کے لیے چپ ہوگیا۔ مسیحا قوم کے محسن، سب کو مودبانہ سلام بلکہ سلوٹ۔ موت کا سارا ملبہ سابق حکومتوں پر، اسپتالوں کے انتظامات بہتر کیوں نہ بنائے، ذہن کی سطح پر کرونا نہیں اپوزیشن چمٹی ہوئی ہے۔انسانیت مشکل میں ہم سیاست سیاست کھیل رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں۔ سابق وزیر اعظم کا بھولے سے بھی خیال آجائے تو نیند غائب، رات بھر ڈرائونے خواب آتے رہتے ہیں۔ پارٹی لیڈر وزیر اعظم بن کر ایک پارٹی کا نہیں پوری قوم کا لیڈر ہوتا ہے۔ پوری قوم ایک پارٹی نہیں 243 پارٹیوں کا مجموعہ ہے پھر نفرت، انا اور خود پرستی کا کیا جواز، بد قسمتی کہ وزیر اعظم نے انتخابات سے پہلے ہی اپوزیشن لیڈروں اور اپنے بیچ فاصلے اتنے بڑھا لیے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد بھی خلیج پاٹی نہ جاسکی۔ حفیظ ہوشیار پوری نے کہا تھا ’’دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی۔ اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے‘‘ باہم مشورے کیسے ہوں ڈیڑھ سال چوروں، ڈاکوئوں کو این آر او دینے نہ دینے کے مخمصے میں گزر گیا۔ کسی بندہ گستاخ نے کہا تھا۔

تماشا کرنے والے سوچتے ہیں

تماشا بے تحاشہ ہوگیا ہے

کرونا 22 کروڑ عوام کا رونا بن گیا ہے۔ سچ پوچھیے تو کرونا وائرس ہمارا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے پائوں پھیلا رہا ہے کہ عجیب قوم ہے جو مجھے بھگانے کے لیے بھی متحد نہیں ہو پائی۔ سو بات کی ایک بات، ملک پر جب بھی کوئی آفت آئی تو سیاستدانوں کی جانب سے اتحاد کی کال دی گئی۔ جب سیاستدان اور قوم متحد ہوئی تو بحمدللہ کامیابی نے قدم چومے، 1965ء کی پاک بھارت جنگ سے لے کر اب تک نصف صدی کے دوران اتحاد ’’معجزے‘‘ دکھاتا رہا قسم اللہ کی اتنی تقسیم، باہمی نفرت، دشمنی گزشتہ 70 سالوں میں نہیں دیکھی۔ حالانکہ دنیا کو تباہ کرنے والا وائرس پائوں پسارے موجود ہے اور موجود حالات میں معمولی سی غفلت سے بے قابو ہوسکتا ہے۔ تقریریں بہت ہوچکیں مشکل کی اس گھڑی میں اکٹھے بیٹھ کر (تین فٹ فاصلے سے سہی) یکساں پالیسی بنالی جائے، کاش ہم بھی چین کی طرح اپنی تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں۔


ای پیپر