لاک ڈائون اور ریلیف پیکیج
30 مارچ 2020 2020-03-30

دو تین رو ز پہلے ورلڈ ہیلتھ آ ر گنا ئز یشن کے ڈا ئریکٹر جنر ل نے انتبا ہ کیا کہ لاک ڈائون کو رونا وائرس کے مسئلہ کا مکمل حل نہیں ہے۔ یہ صر ف اس کے حملہ آور ہو نے کے امکا نا ت کو کم کر تا ہے۔ جب تک اس و باء کی ویکسین کی تیاری نہیں ہو جا تی، اسکا مکمل تدا رک نا ممکن ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ لاک ڈائو ن کو تر ک کر دیا جا ئے۔ تا ہم لا ک ڈا ئون کا ایک انتہا ئی منفی نتیجہ ذ ر ائع آ مد ن کا رْک جا نا ہے۔ ایسے میں حکو مت کا فر ض بنتا ہے کہ وہ متا ثر ہ عوا م کو روزا نہ ضر وریا تِ ز ند گی مہیا کر نے کے لیئے ریلیف کا بند و بست کرے۔ دطنِ عز یز میںحکو متِ وقت نے اسی تناظر میں 980 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب روپے، چھوٹی بڑی صنعتوں اور زراعت کے لیے 100 ارب روپے، یوٹیلٹی سٹورز کے لیے مزید 50 ارب روپے، لاک ڈائون سے نمٹنے کے لیے 100 ارب روپے اور گندم کی سرکاری خریداری کے لیے 280 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ برآمد کنندگان کو فوری 100 ارب روپے ریفنڈ کیے جارہے ہیں۔ملک و قو م کے وسیع تر مفاد میں یہ کہنا صا ئب ہے کہ جہا ں حکومت کی جانب سے ریلیف پیکج کا اعلان عوا م کے لیئے خوش آ ئند اور حو صلہ افزا ہے و ہیں حکو مت سے در خو است ہے کہ وہ اس ریلیف پیکج کا درست استعمال یقینی بنا ئے۔اور عو ام کو اعتما د میں لے کہ اعلان کردہ امداد صرف ضرورت مندوں کو ہی ملے گی۔ ماضی کے بہت سے مواقع کی طرح خورد برد نہیں کرلی جائے گی۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود ڈیڑھ فیصد کم کرنے کا فیصلہ مناسب ہے لیکن اس فیصلے میں قدرے دیر کردی گئی ہے۔ کیونکہ تمام ادارے اور کاروباری سرگرمیاں لاک ڈائون کی وجہ سے معطل ہونے کے باعث سود میں کی گئی اس کمی کا فوری فائدہ نہ اٹھایا نہ جاسکے گا؛ البتہ لاک ڈائون ختم ہونے (اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جلد از جلد وائرس کی تباہ کاریوں سے نجات دلادے تاکہ لاک ڈائون ختم ہوجائے اورمعمولی کی زندگی بحال ہوجائے، آمین) کے بعد ہی اس سے کاروبار اور تجارت کے حوالے سے صورت حال بہتر ہونے کی امید پیدا ہوگی۔ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہی کچھ مزید اقدامات کیے گئے ہیں، جیسے اندرونِ ملک بھی تمام پروازیں 2؍ اپریل تک معطل کردی گئی ہیں جبکہ تمام ٹرینیں بھی 31 مارچ تک بند رہیں گی۔ پٹرول و ڈیزل کے نرخوں میں 15 روپے فی لٹر کمی مناسب فیصلہ ہے؛ تاہم یہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعا ت کے نرخوں میں ہونے والی کمی کے مطابق نہیں، اس سے بہت کم ہے۔ بہرحال حکومت پٹرولیم مصنوعات پر جو ٹیکس اور لیوی حاصل کررہی ہے اس کا کچھ حصہ لاک ڈائون سے متاثر ہونے والے دیہاڑی داروں کے لیے مختص کیا جاسکتا ہے ۔ غریب گھرانوں کے لیے 150 ارب روپے کا اختصاص اچھا فیصلہ ہے۔ لیکن یہ اندازہ لگانے کے لیے ذہن پر بہت زیادہ دینے کی ضرورت نہیں کہ فی گھرانہ تین ہزار روپے ماہانہ بہت کم امداد ہے۔ اس سے تو پانچ افراد پر مشتمل ایک گھرانے کا مہینے بھر کا محض آٹے کا خرچ بھی پورا نہیں ہوگا، چہ جائیکہ ان کی دوسری بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔ اس لیے یہ رقم بڑھا نے پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ غریب گھرانوں کو پریشانی اور مالی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ متمول افراد، خاندانوں اور اداروں کو بھی اس موقع پر آگے آنا چاہیے اور اپنے اردگرد موجود غریب گھرانوں کو راشن فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ جن کے بارے میں انہیں معلوم ہو کہ ان کے افراد خانہ میں کچھ روزانہ دیہاڑی لگا کر اپنا چولہا جلاتے ہیں اور جس روز انہیں کوئی کام نہیں ملتا، ان کا چولہا ٹھنڈا رہتا ہے اور انہیں خالی پیٹ سونا پڑتا ہے۔ یہ ایک انتہا ئی پیچید ہ صو رتِ حا ل ہے۔ اس قدر پیچید ہ اور حو صلہ شکن کہ بڑے بڑے امیر ملکو ں کے لیئے اپنی معیشت کو سنبھا لنا مشکل ہو رہا ہے۔ وہ یو ں کہ آ خر کب تک محفو ظ شد ہ خز انو ں پہ انحصا ر کیا جا ئے۔ لہذ ا وطنِ عز یز میں لا ک ڈ ائون کو کر فیو کی حد تک سخت بنا نے کی بجا ئے ا س میں ایک خاص قسم کی محتا ط انداز میں نر می اختیا ر کی جا ئے۔ کیو نکہ کر فیو کا مطلب ہوگا گھروں سے باہر ہر طرح کی نقل و حرکت پر مکمل بندش، جبکہ ایسا ہوا تو پھر لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کے حصول میں مشکل پیش آئے گی اور بحران شدید تر ہوجائے گا۔ حکو مت کی جانب سے یہ یقین دہانی حوصلہ افزا ہے کہ ملک میں کرفیو لگانے سے پہلے اپنی تیاری کرنا ہوگی، یعنی اگر کرفیو لگایا گیا تو پوری تیاری کے بعد ہی لگایا جائے گا اور یہ کہ کرفیو کی صورت میں رضاکاروں کی مدد حاصل کی جائے گی۔ بتا یا جا رہا ہے کہ جلد رضاکاروں کے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔

بجلی اور گیس کے بلوں کی تین قسطیں کرنے کا فیصلہ بھی مناسب ہے، اس سے صارفین کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔ بدھ کے ر وز لاک ڈائون کا دوسرا دن تھا اور مشاہدے میں آیا کہ اس کی پوری طرح پاس داری کی گئی۔ تمام مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند تھے اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ جو لوگ سڑکوں پر آئے وہ ظاہر ہے کسی مجبوری کے تحت ہی آئے ہوں گے۔ پولیس کو ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنا چاہیے۔ انہیں سرِ عا م سزا دینا مناسب نہیں۔ ان مخصو ص حا لا ت میں جب کہ مغر بی مما لک نے اس و با ء کے پھیلنے کا مکمل طو ر پر ادراک نہ کیا ،وطنِ عزیزکے با رے میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ عوام کو کورونا وائرس سے درپیش خطرے کا پوری طرح ادراک ہوچکا ہے اور وہ اس سلسلے میں پوری طرح تعاون بھی کررہے ہیں۔ بند مارکیٹیں اور سنسان سڑکیں اس کا ثبوت ہیں۔ پہلے روز کی طرح دوسرے دن بھی ملک بھر میں لاک ڈائون کی پاسداری میں نظام زندگی معطل رہا، سڑکیں ویران رہیں اور ان پر پولیس اور فوج کے دستے گشت کرتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ یہا ں اس وبا ء کا پھیلا ئو دیگر مما لک سے بہت کم ہے۔ جہا ں تک بچو ں کی تعلیم میں حر ج کا معا ملہ ہے تو ان کی چھٹیوں کی پہلی میعاد ختم ہونے میں ابھی دو ہفتے باقی ہیں۔ تب تک منگل سے شروع کیے گئے لاک ڈائون کے نتائج و اثرات سامنے آجانا تھے۔ ان نتائج کی بنیاد پر ہی آگے کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے تھا ۔ کیونکہ یہ بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ بہرحال اگر یہ فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو ضروری ہے کہ ان آن لائن تدریس کا کوئی جامع سیٹ اپ بنایا جائے جس کے تحت بچے گھروں میں بیٹھ کر بھی تعلیم کے حصول کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔


ای پیپر