امریکہ، کرونا وائرس کا نیا مرکز
30 مارچ 2020 2020-03-30

کرونا وائرس کا پہلا مرکز چین تھا۔ اس کے بعد اٹلی اور سپین اس کی لپیٹ میں آئے۔ ایران میں بھی یہ وباء تیزی سے پھیلی۔ اس وقت تک اٹلی، فرانس، ایران اور سپین اس وباء سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے اٹلی اب بھی سرفہرست ہے مگر مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے اب امریکہ سب سے آگے ہے۔ امریکہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر وباء کے پھیلائو کی یہ رفتار جاری رہی تو اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ مادی لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی، معاشی اور فوجی طاقت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر یہ دھمکی دیتے ہیں کہ ان کے پاس تمام بموں کی ماں موجود ہے۔ امریکہ کو اپنی فوجی طاقت اور مہلک ہتھیاروں کے پہاڑوں پر بہت ناز ہے۔ امریکہ جدید ہتھیاروں، جنگی طیاروں اور تباہ کن بموں اور میزائلوں پر سالانہ خطیر رقم استعمال کرتا ہے۔ وہ جدید ہتھیار بنانے اور ان کی تباہی کی استعداد میں اضافے پر ہونے والی تحقیق اور ترقی پر بھی خطیر رقم استعمال کرتا ہے۔ اس کے پاس جدید بحری بیڑوں، آبدوزوں، جنگی جہازوں اور میزائلوں کے انبار موجود ہیں مگر دوسری طرف کئی ریاستوں کے ڈاکٹرز اور نرسیں شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز، ادویات، میڈیکل آلات اور ہسپتال کے عملے کیلئے حفاظتی لباس، ماسک اور دیگر اشیاء کی قلت اور کمی ہے۔ اس کمی کے باعث ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی ریاستوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ہسپتالوں کی گنجائش کم پڑ گئی ہے۔ پوری دنیا میں اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے اور کمزور ممالک پر اپنی طاقت آزمانے والا دنیا کا سب طاقتور ملک اس وباء کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ جنگ مسلط کرنے کیلئے ہر وقت تیار نظر آنے والا امریکہ کرونا وائرس کے ساتھ لڑائی کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ امریکی حکمرانوں کے پاس اس وباء سے نمٹنے کیلئے اور پوری تیاری کرنے کیلئے تقریباً 3ماہ کا وقت تھا مگر صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے اس حوالے سے بھرپور تیاری نہیں کی جس کی وجہ سے یہ وباء اس وقت امریکہ میں تیزی سے پھیل رہی

ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو میزائلوں اور بموں کی بارش کر کے کسی بھی ملک کو تباہ کر سکتا ہے مگر اس کے پاس اتنے وینٹی لیٹرز نہیں ہیں کہ تمام مریضوں کو علاج فراہم کر سکے۔ ادویات کی بھی کمی ہے۔ اس طرح ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو سب سے بڑی مشکل یہ درپیش ہے کہ ان کے پاس اپنی حفاظت اور بچائو کے مکمل انتظامات نہیں ہیں۔ ان کے پاس سرجیکل ماسک اور حفاظتی لباس کی کمی ہے۔ اس بحران نے امریکہ کے صحت کے نظام کو بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ کرونا وائرس کے اس بحران نے امریکی حکمران طبقے کی ترجیحات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

جب ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ خود کو محفوظ تصور نہ کرتا ہو اور وہ حفاظتی اقدامات اور سازوسامان سے مطمئن نہ ہو تو صحت کے بحران کے درمیان میں اس سے بڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے جس وقت ڈاکٹروں، نرسوں اور طبق عملے کی پوری توجہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر ہونی چاہئے۔ اگر وہ اپنی حفاظت کے حوالے سے پریشان ہوں گے تو اس کے اثرات ان کی صلاحیت اور استعداد پر پڑتے ہیں۔ کئی ہسپتالوں میں طبی عملے کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔

امریکی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق نیوجرسی کے ڈاکٹر الیگزینڈر سیلرنو نے انہیں بتایا کہ انہوں نے اپنے ہسپتال کیلئے طبی آلات، ماسک اور دیگر سامان بلیک مارکیٹ سے خریدا۔ ان کے مطابق وباء پھیلنے سے پہلے جو سامان 2500 امریکی ڈالر میں ملتا تھا وہ اب 17000 (17ہزار) ڈالر میں ملا یعنی طبی آلات اور ماسک وغیرہ کی قیمت میں 6 گنا سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ سامان اب زیادہ تر بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے اور اس کی منہ مانگی قیمت مانگی جارہی ہے۔

نیویارک کے چند ڈاکٹروں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سامان کی قلت کے باعث وہ ماسک اور دیگر حفاظتی سامان کو ری سائیکل کر کے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ نیویارک کے مائونٹ سینائی ہسپتال کی نرس کے مطابق انہیں اپنا حفاظتی سامان لاکرز میں چھپا کر رکھنا پڑتا ہے تاکہ کوئی یہ سامان استعمال نہ کر سکے۔ اس نرس کے مطابق ماسک مارکیٹ سے غائب ہو چکے ہیں۔

اسی طرح امریکی ریاست مشی گن جو کہ اس وقت امریکہ میں اس وباء کا مرکز ہے اس کے ڈاکٹر کے مطابق انہیں ادویات، وینٹی لیٹرز اور طبی سازوسامان کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ان کے پاس وینٹی لیٹرز کم پڑ جائیں گے اور وہ مزید مریضوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔ مشی گن ریاست کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ (Detroit) کے ایک ڈاکٹر کے مطابق اس وقت صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ اگر فوری طور پر وینٹی لیٹرز نہ ملے تو ہم نئے آنے والے مریضوں کا علاج نہیں کر پائیں گے۔ ہمیں ان کے خاندانوں کو یہ تکلیف دہ اطلاع دینا ہو گی کہ ہم ان کے پیارے مریضوں کو نہیں بچا سکیں گے۔ ہمیں فوری طور پر وینٹی لیٹرز اور ادویات کی ضرورت ہے۔یہ صورتحال دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ملک کی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ امریکی حکمران طبقے کی گزشتہ کئی دہائیوں کی پالیسیاں ہیں۔ مثلاً امریکی صدر ٹرمپ نے سائنس اور بیماریوں کی روک تھام کی تحقیق کرنے والے مراکز کے بجٹ میں کمی کی ۔ امریکہ میں کئی سرکاری ادارے ہیں جو کہ مختلف بیماریوں کے پر تحقیق اور ریسرچ کرتے ہیں مگر جب سے امریکی صدر ٹرمپ اقتدار میں آئے ہیں وہ مسلسل ان اداروں کے بجٹ میں کمی کرتے آرہے ہیں۔ یہ انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ امریکہ میں صحت کا ایک بڑا بحران جنم لے چکا ہے جو ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو نگل سکتا ہے۔


ای پیپر