علوم انسانی…
30 مارچ 2020 2020-03-30

کہا جاتا ہے کہ صنعتی انقلاب سے قبل زندگی بڑی سادہ اور آسان تھی، رہن سہن کے طریقے روایتی تھے، جہاں خوراک، غذا سادہ تھی وہاں ٹرانسپورٹ کے ذرائع بھی واجبی سے تھے، جنگ وجدل میں بھی اتنی شدت نہ تھی، ماحول بھی صاف تھا، فطرت اپنے پورے جوبن پر تھی، بیماریاں بھی خال خال تھیں، زندگی نے اتنی رفتار نہ پکڑی تھی،عمومی طور پر پہیہ کی ایجاد کے زمانے اور آج کے انفارمیشن دور کو سماجی زندگی میں بڑے انقلابات سے تعبیر کیا جاتا ہے،اسی کا فیض ہے کہ آج کا انسان ایک طرف آ ئسائشوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے تو دوسری طرف بہت سی پریشانیاں بھی اسے لاحق ہیں، صاحبان اقتدار نے اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے ان ادوار سے فائدہ اٹھا کر وہ انداز حرب اختیار کئے جو عالم کے لئے زہر قاتل قرار پائے، آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ یہ زیر استعمال ہیں۔

چیچک جیسی مہلک بیماری کے ہاتھوں ریڈاندین کی لاکھوں کی تعداد میں ہلاکت بھی ان میں سے ایک ہے جو برطانوی جرنیلوں کے ہاتھوں مکاری کے نتیجہ میں ہوئی تھی، امر واقعہ یہ ہے جب برطانیہ، امریکہ پر قبضہ کے لئے بے تاب تھا تب اس نے ریڈانڈین سے ڈیل کی اگر وہ فرانس کی فوج کی حمایت ترک کر دیں تو وہ یہاں سے رخصت ہو جائیں گے، فرانس کو شکست کے بعد انھوں نے لیت ولعل سے کام لیا تو انڈین قبائل نے ان سے مئی1763 میں مذاکرت کئے اس موقع پر برطانوی جرنیلوں کی طرف سے انکو کمبل اورملبوسات پیش کیے جو چیچک کے وائرس سے آلودہ تھے، سادہ قبائل اس تحفے پر ممنون بھی تھے لیکن یہ موت کے پروانے ثابت ہوئے، لاکھوں ریڈانڈین کی اموات نے برطانیہ کی امریکہ پر مسلط ہونے کی راہ ہموار کی تھی۔

مورخین کا خیال ہے 1943-1969تک امریکی سائنسدانوں نے حیاتیاتی ہتھیار بنائے جو حریف علاقہ جات میں لاکھوں انسانوںکو سات خطرناک بیمارویوں میں مبتلا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انکل سام نے 1952میں کوریا جنگ میںپہلی بار حیاتیاتی ہتھیار استعمال کئے جن سے چین اور کوریا میں وبائی امراض پھوٹ پڑیں۔

اس وقت بھی دنیا دفاعی ترقی کے نام پر اسلحہ کی ایسی دوڑ میں شامل ہے جس نے ترقی پذیر ممالک میں بھی خوف کی وہ فضا پیدا کر دی ہے، جہاں تعلیم، صحت کی بجائے قومی آمدن کا بڑا حصہ سامان حرب پر خرچ کرنا لازم قرار دیا جارہاہے، پورا عالم اس وقت بارود کے ڈھیر پربیٹھا دکھائی دیتا ہے،، نت نئے تجربات نے نہ صرف ماحول کو آلودہ کر دیا ہے بلکہ قدرت کے حسین مناظر کو بھی دھندلا دیا ہے، اب تو جنگلی جانور بھی انسانی ترقی سے عاجز ہیں اور کسی پناہ کی تلاش میں ہیں۔ زہریلی گیسوں نے انکا جینا دو بھر کر دیا ہے، آسٹریلیا میں زندہ اونٹوںکا اذیتناک انداز میں خاتمہ کس اخلاقی دائرہ میں آتا ہے۔

مغرب اور یورپ میں جب صنعتی ترقی جڑپکڑرہی تھی اس وقت علمی، ادبی ،فکری میدان میں نئی تحرکیں وہاں جنم لے رہی تھیں، پاپائیت کے ستائے عوام میںنئے انسانی علوم توجہ کا مرکز تھے، ان دنوں کولمبیاء یونیورسٹی کے پروفیسرمورٹیمر ایڈلر نے تعلیمی نصاب کی بابت ایک فلاسفی پیش کی ، وہ تعلیمی اداروںمیں ایسا نصاب پڑھائے جانے کے حامی ہیں جو پورے عالم کے لئے ایک جیسا اور ابدی ہو، ہر زمانے کے افراد کے لئے مفید بھی، جس کا مقصد زندگی کی تیاری ہو،جس میں اصولوں کو فوقیت دی جائے،اعداوشمار میں نہ الجھا جائے،یہ نصاب فطری اصول پر مبنی ہو، اخلاقی اقدار پر ہی انسانی ترقی ان کا مقصود ہے، اس کو پڑھانے کے لئے وہ بڑی کتب کے انتخاب کی سفارش کرتے ہیں، اس سے مراد الہامی اور بڑے مشاہیر کی کتب تھیں ، تعلیم میں اس فلاسفی کو prennialism کا نام دیا جاتا ہے،وہ اس کے ذریعہ سے نسل نو میں ان اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کو لازم قرار دیتے ہیں جو کسی بھی سماج کے لئے ناگزیر ہے،آج بھی یہ فلاسفی زیر تربیت اساتذہ کو پڑھائی جاتی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سائنسی ترقی عہد حاضر کی ضرورت ہے فی زمانہ اسکی ایجادات نے انسانی زندگی کو سہل بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،بیشتر شعبہ جات میں اسکی خدمات سے کسی کو مفر نہیں مگر اس کی وساطت سے سامان حرب نے نہ صرف living things کے لئے بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے بلکہ ماحول کو انتہائی آلودہ کر کے انسان کو بھی غیر محفوظ کر دیا ہے،اس ماحول میں اس کے لئے سانس لینا محال ہو گیا ہے، ریاستی حفاظت کے نام پر ان علوم کو فوقیت دی گئی جو دنیا میں تباہی لانے کا سبب ہیں ،وہ تمام علوم جو انسانی فلاح کے لئے رقم ہوئے نظر انداز کئے گئے۔

دنیا کی غالب آبادی اس وقت بھی مذہب سے رغبت رکھتی ہے اور سائنس پر یقین بھی، مگر انسان مخالف ایجادات نے سائنسی علوم پر انگلی اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے، بھوک سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تمام موذی بیمارویوں سے کہیں زیادہ ہے، اصلاح احوال کی بجائے، اس سے مجرمانہ غفلت برتی جاتی ہے،کسی وائرل انفیکشن کے پھیلائو پر پورا عالم حرکت میں آجاتا ہے، بعض ناقدین اس سرگرمی کو بھی ترقی یافتہ ممالک کی کارستانی سمجھتے ہیں اور اسے مفاداتی تجارت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں،کیونکہ ادویات کا کاروبار روز برز عالمی سطح پر اولیت اختیار کر رہا ہے۔اس کا فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جو ان علوم پر دسترس رکھتے ہیں۔

اس سے بھی مفر نہیں کہ انسان اور بیماری کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اور ماضی میں بہت سی وبائی امراض کی شہادت بھی ملتی ہے لیکن اپنے اپنے مفادات کے نام پرانسانوں کو اسکی تجربہ گاہ بنانے کی اجازت تو کوئی قانون نہیں دیتا، لیبارٹری میں کسی کی غفلت کی سزا پوری انسانیت ہی کو کیوں دی جائے؟

اس قادر مطلق نے کائنات کی تخلیق پر ہی اکتفاء نہیں کیا اس کو مسخر کرنے کے لئے راہنماء اصول بھی وضع کئے ہیں،انبیاء کرام، الہامی کتابوں،صحیفوں کے ذریعہ انسان کی بھر پور راہنمائی فرمائی ہے، تمام انسانی علوم انہی سے ماخوذ ہیں،بدقسمتی سے ان سے صرف نظر کر کے مادی ترقی کو اہمیت دے کر وہ تمام اخلاقی قواعدوضوابط ہوا میں اڑا دئے گئے جن سے انسانی ترقی اور فلاح کاوجود ممکن تھا، عہد قدیم کو تو رکھیں ایک طرف فی زمانہ جن کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہے، انسانوں پر بم گرانے کی ابتداء انکے ہاتھوں انجام پائی، انسانی، جمہوری حقوق کا درس دینے والوں نے ریڈایڈین کو کمبل اور ملبوسات دے کر وبائی مرض کی ابتدا کی تھی۔ فطرت کے خلاف قانون سازی، معاشی ،سماجی، عدالتی ناانصافی نت نئے سانحات کو جنم دے رہی ہے۔

محسن انسانیت نے انسانی زندگی کو کعبہ پر فوقیت دے کرانسانی احترام کی وہ ابدی مثال قائم کی ہے ۔جس کے سامنے آج کے انسانی حقوق کے علمبرداد بالکل بونے نظر آتے ہیں۔


ای پیپر