مگر وزیر اعظم نہیں مانتے…؟
30 مارچ 2020 2020-03-30

وزیراعظم نے ملک میں مکمل لاک ڈائون کی تجویز مسترد کر دی تھی جس پر چوبیس گھنٹے بعد ہی یوٹرن لے لیاگیا اور ملک میں چھ اپریل تک لاک ڈائون کردیا گیا ،کون سی قوتیں تھیں کہ جن کے سامنے کپتان کو ’’سر ‘‘جھکانا پڑا،ورنہ تو وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے، اس کے بعد تبدیلی سرکار نے گھر گھر کھانا پہنچانے کے لئے کرونا ریلیف ٹائیگرز فورس قائم کردی وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ کھانے پینے کی قلت نہیں ہونی چاہیے انہیں کیا پتہ بھوک کیا ہوتی ہے روٹی کی قدر تو بھوکا ہی جانتا ہے اور جس کو روز سرکاری خرچے سے مرغ مسلم ملیں اور ڈکار بھی نہ مارے اس کے منہ سے ایسی بات جچتی نہیں اگر بھو ک پیاس دیکھنی ہے تو پھر کسی دن فقیروں کے بھیس میں نکلیں تو وزیر اعظم کو پتہ چلے کہ غربت کیا ہوتی ہے مگر وزیر اعظم نہیں مانتے کہ صورتحال کیا ہے وزیر اعظم مثال دیتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے ملک میں 2 ہزار ارب ڈالر کا ریلیف پیکج دیا اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ پاکستان کی ساری ٹیکس وصولی صرف 45 ارب ڈالر ہے اب بتائیے اس میں عوام کا کیا قصورہے۔

صحافیوں کے سوال پر ایک نئی منطق جھاڑ ڈالی کہ کرونا فنڈ کے ذریعے ڈیلی ویجز اور بے روز گاروں کی مدد کی جائے گی، ان سے کوئی پوچھے کہ لاکھوں محنت کش بیروز گار ہو چکے اور ان کے گھروں میں فاقے ہیں اور جناب ابھی تک منصوبے ہی بنا رہے ہیں لاہور شہر کے بارے میں مثال ہے کہ یہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا آپ داتا دربار چلے جائیں دن ہو یا رات آندھی ہو یا طوفان وہاں ہر وقت لنگر تقسیم ہو تا رہتا ہے اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ لاہورمیں کوئی بھو کا نہیں سوتا مگر اختیاطی تدابیر کے تحت اسے بھی تالے لگا دئیے گئے ورنہ آدھا لاہور تو درباروں پہ ہی پلتا ہے عمران خان نہیں مانتے توآج درباروں کو کھولنے کا اعلان کریں دیکھیں لنگر کی کس طرح وہاں فراوانی ہو تی ہے دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ پس رہا ہے کب ٹائیگر فورس بنے گی کب سروے ہوگا اور کب ان کے گھروں میں دو نوالے روٹی کے پہنچیں گے؟تب تک کئی جانیں بھوک وپیاس سے مر چکی ہونگی اسی طرح جیسے تھر میں روزانہ اموات ہوتی ہیں جہاں روٹی ہے نہ پانی ادویات نہ تعلیم،سندھ حکومت روزانہ دعوے کرتی ہے ریلیف دینے کے اگر وزیر اعظم اس سچ کو مان لیں تویہ ان کا بڑا پن ہو گا مگر وہ تو آج بھی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اورشریف برادران کے پیچھے پڑے ہیں کہ وہ ملک سے بھاگ گئے۔

کیوں بھاگنے دیا ان کو، عمران خان تو احتساب سب کا کا نعرہ لیکر آئے تھے کہاں گیا وہ نعرہ اگر ساری ن لیگ چور ہے تو نیب کیوں نہیں ثبوت دے سکا جس کی وجہ سے سارے لیگی جیلوں سے باہر ہیں ،رانا ثنا اللہ منشیات کیس میں پکڑا گیا ویڈیو تک سامنے لے آئے تو پھر کیوں انہیں چھوڑا گیا اب سارا مدعا عدالتوں پرڈالا جائے گا جبکہ عدالتوں کا کام ثبوتوں پرفیصلے کرنا ہوتے ہیں مفروضوں پر نہیں ،ایسے لگتا ہے جیسے حکومت انتقام میں اندھی ہو چکی ہے ورنہ تو اب تک کئی مگر مچھ سلاخوں کے پیچھے ہوتے؟

وزیر اعظم نے ماہانہ ریلیف پیکج تین ہزار اکٹھا کر کے بارہ بارہ ہزار غریب خاندانوں کو دینے کا اعلان کردیا ہے اس سے کیا ہو گا ایسے ریلیف کو تو لات مارنے کو دل کرتا ہے انہیں کوئی بتائے کہ سرکارایک ایک کمرے والے کوچار چار ہزاربجلی کابل آجاتا ہے ہزار پندرہ سوگیس بل کا آگیاپانی کا بل بھی ان کے پیچھے پیچھے ہوگا اب بتایا جائے کہ تین ہزار میں گنجی دھوئے گی کیا اور نہائے گی کیا؟ اس سے تو بہتر تھا کہ چار ما ہ کے یوٹیلٹی بلز معاف کردئیے جاتے؟

لیکن ان کے گرد وزیروں مشیروں کا نا اہل ٹولہ براجمان ہے جو مفت مشوروں کی آڑ میں ملک کا ستیا ناس کر رہا ہے اور وزیر اعظم ان کے بیچ بیٹھ کر واہ واہ کی گردان سنتے ہیں،مان جائیے کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ورنہ چاند چڑھتا ہر کوئی دیکھتا ہے اور حکومتی چاند کو چڑھے ہوئے دو سال ہونے کے قریب ہیں کسی کو کوئی ریلیف نہیں ملا سوائے دعوئوں کے؟ وزیراعظم بضد ہیں کہ ہم یہ کر رہے ہیں ہم وہ کر رہے ہیں سابقہ حکومتیں بھی یہی کہتے اقتدار کے مزے لوٹتے گھروں کو چلی گئیں کم کچھ موجودہ حکومت بھی نہیں کر رہی کیونکہ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ملکی قرضوںمیں 600ار ب رو پے کا اضافہ ہو ا ہے پی ٹی آئی حکو مت ڈا لر کے بلند ترین سطح پر جا نے کی رو ک تھا م کیلئے کو ئی قد م نہ اٹھا سکی، پٹرول ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،سبزیوں کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں،پھل غریبوں کی پہنچ سے دور ہو گئے وزیراعظم پھر بھی اس سچ کو نہیں مانتے ۔

تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے لئے حکومت کے پاس ابھی بھی بہت زیادہ گنجائش تھی اور ہے، دوماہ پہلے انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرول71ڈالرفی بیرل تھا، اب انٹرنیشنل مارکیٹ میں 23سے 24ڈالر فی بیرل کی کم سطح پر ہے، حکومت کے پاس اس میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے،اپنے منافع کو بالائے پشت رکھتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 15روپے سے زیادہ کمی کی جا سکتی تھی، اس وقت پاکستان میں کاروبار ی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں، لیکن بینکوںکے مارک اپ کا میٹر ویسے ہی چل رہا ہے، جب تک ملک میں کاروباری سرگرمیاں بحال نہیں ہوتیں اس وقت تک انڈسٹری اور کارو باری قرضوں اور اس وقت تک کا بینکوں کے قرضوںکا مارک اپ وصول نہ کیا جائے اور مارک اپ کوسنگل ڈیجٹ پر لایا جائے جس سے اس مشکل گھڑی میں عوام کو ریلیف ملے گا اور مہنگائی میں بہت زیادہ کمی آئے گی ،وزیراعظم یہ بھی نہیں مانتے کہ کرونا سے بچائو کیلئے ہسپتالوں میں ابھی تک کوئی انتظام نہیں، اشیا ء ضروریہ سو فیصد مہنگی ہو چکیں ہیں اس کا تجربہ کرنا ہو تو کسی دکاندار کے پاس جائیں تو انہیں معلوم ہو کہ تین ہزار ماہانہ میں کس کا گزارہ ہو گاحکومتی پیکیج لولی پاپ کے سوا کچھ نہیں۔


ای پیپر