اب بھی وقت ہے
30 مارچ 2020 2020-03-30

ہزاروں اورلاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اوراربوں چلتے پھرتے انسانوں کو سفیدکپڑے میں لپیٹ کراسی انسان نے اپنے ہاتھوں سے اس مٹی کے حوالے کئے ۔وہ جن کے ہاتھوں میں یہ انسان پلے بڑھے۔ جن کے بغیراس نے کبھی کھاناکھانابھی گوارہ نہ کیا۔ان پربھی اس انسان نے نہ صرف قبرکے تختے رکھے بلکہ ایک نہیں ہزارباران حسین وجمیل چہروں پراپنے ہاتھوں سے مٹی بھی ڈالی۔دادا،دادی ،نانا،نانی،ماں ،باپ ،چچا،چچی اوربہن بھائیوں سمیت نہ جانے کتنے لوگ ایسے آئے جواس انسان کے سامنے آنکھیں بندکرکے اس مٹی میں مٹی ہوگئے۔پھرجس رب نے اس انسان کودنیامیں بھیجااس رب نے بھی بھیجنے سے پہلے ہی اس انسان کوواضح طورپریہ بتایاکہ زندگی 5سوسال کی بھی کیوں نہ ہو۔آخرایک دن آپ نے واپس پلٹ کرآناہی ہے۔ دنیامیں آتے ہوئے جس طرح انسان کی کوئی مرضی نہیں اسی طرح دنیاسے جانے میں بھی انسان کی مرضی کاکوئی عمل دخل نہیں ۔انسان راضی ہویاناراض ۔چاہت ہویانہ۔دونوں صورتوں میں انسان نے اپنے رب کے حکم سے ا سی طرح خالی ہاتھ اس دنیاسے واپس جاناہے جس طرح یہ انسان خالی ہاتھ اس دنیامیں آیاتھا۔اوراس اچانک اورخالی ہاتھ واپس جانے کااس انسان کے پاس کوئی خبر،کوئی اطلاع اورکوئی ٹائم ٹیبل بھی نہیں ۔یہ صرف اورصرف اس عظیم رب کی مرضی ہے کہ وہ کس ٹائم اورکس دن اس انسان کواپنے پاس بلاتاہے۔اس اٹل حقیقت سے نہ صرف ہم مسلمان خوب واقف ہیںبلکہ ہندو،یہودی اورعیسائیوں سمیت دنیاجہان کے ہرانسان کوبھی یہ پتہ اورخبرہے کہ اس نے ایک نہ ایک دن واپس جاناہی ہے لیکن اس کے باوجودہمیں اپنے سروں پرموت کی لٹکتی اس تلوار کی اتنی فکر نہیں جتنا آج ہمیںکروناکاخوف ہے ۔کروناکسی کومارے یانہ ۔۔؟لیکن موت سے تونہ کوئی پہلے بچاہے اورنہ ہی اب کسی کے پاس اس سے بچنے کی کوئی امیدیاکوئی راستہ ہے۔وہ جو اکڑ کر کہتا تھا کہ۔۔ اناربکم الاعلی۔۔ میںسب سے بڑارب ہوں۔اسی موت نے جب رب کے حکم سے اسے دبوچ لیاتوپھرنہ صرف مغرب سے مشرق اورشمال سے جنوب تک پوری دنیانے اس کی چیخیں سنیں بلکہ پروردگارعالم نے اس کے ڈھانچے کوقیامت تک کے انسانوں کے لئے عبرت کاایک مرکز بھی بنادیا ۔کروناکے بارے میں توپھربھی یہ کہاجاتاہے کہ یہ زیادہ تربچوں یابڑے عمرکے افرادپرزیادہ اٹیک کرتاہے مگرموت کے لئے توبچہ،جوان،مرد،خواتین ،مسلم غیرمسلم اوربوڑھے سب برابر ہے۔ موت کا فرشتہ جب آتا ہے تو وہ پھر نہ چھوٹا دیکھتا ہے اورنہ ہی بڑا۔اس کے قریب تو پھر امیر، غریب،بادشاہ اور فقیرمیں بھی کوئی تفریق نہیں ۔کروناسے لرزنے اورکانپنے والے آج یہ سمجھ رہے ہیں

کہ اگریہ کروناسے بچ گئے توپھرموت سے بھی یہ بچ جائیں گے مگرایساباالکل بھی نہیں۔کروناسے بچناضروراوریقینناً ممکن ہے مگرموت سے کنارہ کرناکسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ بڑے بڑے بادشاہ اورشہزادے اس سے نہیں بچے آج کے یہ انسان پھرکس باغ کی مولی ہیں کہ یہ موت سے بچ جائیں گے۔۔؟جس چیزکی وجہ سے ہمیں ڈرنا،لرزنااورکانپناچاہیئے تھااس کی توہمیں فکرنہیں لیکن کروناکے ہاتھوں آج ہم سب کھیلونابن گئے ہیں ۔کروناکے خوف اوردہشت کی وجہ سے آج ملکوں کے ملک،شہروں کے شہر،بازاروں کے بازار،گائوں کے گائوں اورگلی محلوں سے لیکرگھروں کے گھرتک بندہوگئے ہیں مگرجس موت کی ہمیں ہروقت اورہرلمحے فکرکرنی چاہیئے تھی اس موت کوہم نے بھلادیاہے۔ہمیں اللہ کاخوف اورموت کی فکرہوتی توآج ہماری یہ حالت کبھی نہ ہوتی۔کوئی مانے یانہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم سے بڑے سرکش اورظالم اورکوئی نہیں۔ہم سے تو وہ جانورہزاردرجے بہترہیں جوکم ازکم اپنے آپ پرتوظلم نہیں کرتے۔قدرتی آفات ،آزمائش ،وباء اوروقتی امتحانوں کے ذریعے رحیم وکریم رب ہمیں راہ راست پرآنے کے باربارمواقع دے رہے ہیں مگرافسوس ہم ہرگزرتے لمحے اوروقت کے ساتھ راستے سے مزیدبھٹکتے جا رہے ہیں ۔ 2005کاقیامت خیززلزلہ بھی ہمیں راہ راست پرلانے اورسدھرنے کے لئے رب کی طرف سے ایک وارننگ کے طورپرآیاتھامگرآج کی طرح اس وقت بھی ہم راہ راست پرآنے اورسدھرنے کی بجائے خراب سے خراب تر ہوئے۔ اس طرح کے آزمائش، وباء، آفات اور وقتی امتحانوں کے دوران وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ انسان اپنے گناہوں،جرائم اورظلم وستم پرشرمندہ ہوکرنہ صرف سچے دل سے توبہ کریں بلکہ روٹھے ہوئے رب کوراضی اوراس سے رجوع کاسلسلہ بھی پھر تواتر کے ساتھ جاری رکھیں۔ 2005 کا قیامت خیززلزلہ ہویاآج کروناوائرس کی یہ وباء ۔آزمائش ،وباء اور امتحان کے ایسے مواقع پرہم بحیثیت قوم ہمیشہ اجتماعی طورپرتوبہ اوررجوع الی اللہ سے محروم یا پھر خود دور رہے۔ ایسے مواقع پرلوگ روٹھے رب کوراضی کرنے کے راستے تلاش کرتے ہیں مگرایک ہم ہیں کہ ایسے مواقع پربھی ہماری نظریں دوسری کی جیبوں، چہروں اور ہاتھوں پر ہوتی ہیں۔ دوسر اانسان کتنا مجبور ہے۔۔؟ اسے کتنا لوٹنا ہے۔۔؟ کہاں لوٹنا ہے۔۔؟ ہماری سوچ۔فکراورنظرآج تک ان جملوں سے آگے کبھی نہیں بڑھی۔کروناوائرس کی وجہ سے آج جب دنیاکوجان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ہمیں اس موقع پربھی شکارکیلئے لاچاراورمجبورانسانوں کی تلاش ہے۔ میت کے سرہانے کھڑے ہوکرمگرمچھ کے آنسوبہانے اورمردے کوکندھادینے کاکام توہم فرض جان کر پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں مگرکسی زندہ کوسہارادینے کاطریقہ ہمیں نہ کبھی پہلے آیانہ آئندہ آنے کی کوئی امیدہے۔آج جب دنیابے سہارا،مجبوراورلاچارانسانوں کوکندھااورسہارادینے کیلئے آگے بڑھ رہی ہے۔مشکل کی اس گھڑی اورعالمی امتحان کے موقع پربھی ہمیں مجبور،لاچاراوربے سہاراانسانوں کو لوٹنے سے فرصت نہیں۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے ،عیدین اوردیگراسلامی تہواروں کے موقع پرتولوٹ مارکے نئے نئے ریکارڈقائم کرنے کی عادت ہماری پرانی بہت پرانی تھی مگراب قدرتی آفات ،آزمائش ،وباء اوروقتی امتحانوں کے دوران بھی لوٹ مارکوہم نے اپنی زندگیوں کاایک مستقل حصہ بنالیاہے۔دس روپے کے ماسک کو200اوراٹھ سوروپے کے آٹے کو1500میں فروخت کرنایہ ہماری اسی لوٹ مارکاایک حصہ ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے اس وقت جہاں ایک طرف پورے ملک میں لاک ڈائون کاسماں ہے۔ وہیں دوسری طرف ہاتھوں میں تسبیح پکڑنے اور چہروں پر محراب سجانے والے ہم جیسے پکے اور ٹکے مسلمانوں نے لوٹ مار کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ کالے کافر تو آج مجبور اور لاچار انسانوں کا سہارا بننے کی کوشش اور فکر کر رہے ہیں مگرہم سفیدمسلمان مجبوروں کاخون چوسنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ مجبور، لاچار اورغریب انسانوں کواپناشکاربنانے والے ہم مسلمان کیاسمجھ رہے ہیں کہ کروناسے بچ کرہم موت سے بھی بچ جائیں گے۔۔؟ نہیں ہرگز نہیں۔ کرونا سے ایک نہیں ہزار بار بھی ہم بچ جائیں پھربھی موت سے ہم کبھی نہیں بچ سکتے۔ کرونا تو نئی ایجادہے لیکن موت سے ہمارارشتہ اورتعلق پرانابلکہ بہت پراناہے۔دنیاکی ہرچیزسے چھٹکارااورخلاصی ممکن ہے مگرموت سے بچنے کی کوئی سبیل نہیں۔کروناوائرس کی وجہ سے خانہ کعبہ کاطواف رک چکا،بیت اللہ کے دروازوں سمیت اس وقت تمام درانسانوں پربندہوچکے ہیں لیکن ایک دراب بھی کھلاہے۔وہ درجب بندہوتاہے تو پھر انسان کے پاس سوائے افسوس،ذلت اوررسوائی کے کچھ نہیں بچتا۔اس وقت پھرانسان ہائے ہائے اوراللہ اللہ توکرتاہے لیکن پھرہاتھ کچھ نہیں آتا۔اس وقت پھررونے ،چیخنے اورچلانے کابھی کوئی فائدہ پھرنہیں ہوتا۔آج سارے در اگر بند ہو چکے توکوئی مسئلہ نہیں ۔اللہ نے چاہا۔زندگی رہی تویہ سارے دروازے پھرسے کھل جائیں گے لیکن وہ ایک دراگربندہواتوپھران سارے دروازوں کے کھلنے کابھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم سب سچے دل سے توبہ کرکے اپنے رحیم وکریم رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔اللہ نہ کرے وہ دربھی اگر بند ہو گیا تو پھر ہمارے پاس بھی فرغون کی طرح ہاتھ ملنے اورافسوس کرنے کے کوئی چارہ نہیں رہے گا۔اس لئے اس وقت کوغنیمت سمجھ کراس سے فائدہ اٹھایاجائے۔کہیں ایسانہ ہوکہ یہ دربھی بندہوجائے۔


ای پیپر