تیسری عالمی جنگ اور کرونا
30 مارچ 2020 (17:26) 2020-03-30

مسعود احمدصدیقی :

ہمارا ملک پاکستان کورونا وائرس سے نمٹنے کےلئے حالت جنگ میں ہے بلکہ دنیا میں ایک طرح سے تیسری عالمی جنگ سی چھڑ گئی ہے ، کورونا سے بچاﺅ کےلئے عوام حکومت کے اقدامات وفیصلوں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں ،یہ بات ہم سب کو ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ کرونا وائرس اس وقت تک آپ کے گھر میں نہیں آئے گاجب تک آپ اسے لینے خود باہرنہیں جائیں گے۔شرعی وقانونی طور پر کورونا کے خلاف حکومت کے فیصلوں پر عمل کرنا چاہیے ،عوام گھر وں میں رہیں بلاجواز گھروں سے نہ نکلیں ،حکومت کی طرف سے صوبہ سندھ کا لاک ڈاﺅن عوام کی جان کا تحفظ اور کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ہے ،کورونا وائرس ایسی وباءہے جس کا علاج مشکل اور یہ وائرس خطرناک وباءہے ،ہمیں کورونا سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ احتیاطی تدابیر سے ختم کرنا ہے ۔

”کورونا وائرس “جان لیوا مرض ہے بدقسمتی سے اس کا علاج دریافت نہیں ہوسکا ۔لیکن کرونا سے مرنے والوں کی دنیا میں تعداد کم اور اس سے خوفزدہ ہوکر مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اوردوسری وجہ ایلوپیتھی میڈیسن سے علاج ہے۔دراصل ایمیونٹی کم ہوتے ہی بیماری جسم پر حاوی ہوجاتی ہے اور اگر ایمیونٹی یعنی قوت مدافعت طاقتورہے توانسان پر کوئی بھی بیماری حملہ آورنہیں ہوسکتی اورجب قوت مدافعت بڑھانی ہے توفروٹس اور کچی سبزیاں کھا لی جائیں اور کوکونٹ پانی پئیں لیکن کولڈ ڈرنک،فاسٹ فوڈ،جنک فوڈ،پراسیس فوڈ،پیک فوڈ بالکل چھوڑ دیں۔اگر صحت ممد انسان بھی خوفزدہ ہوجائے تو وہ مرجائے گا جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ ڈر موت کا بھائی ہے۔ اس وقت اس مرض سے بچنے کے لئے صرف احتیاط ہے مگرہم اورسوشل میڈیاکہ ”یوزر“ سنجیدگی سے اس مرض کو لینے کی بجائے تفریح طبع کے طورپرلے رہے ہیں کوئی اس وائرس کو مذہبی رنگ دے کراس مرض کا مذاق اڑارہاہے کوئی حکومت اس وائرس کو امدادلینے کا ”ٹول“ قراردے رہے ہیں۔ ہمارے سامنے اس مرض کو چائنا کے طورپردیکھنے کی ضرورت ہے جس نے اس مرض کو اہمیت دی اوراحتیاطی تدابیراختیارکیں لاک ڈاﺅن کیا اورآج وہ اس قدرتی وبائی آفت سے نکلنے کے قابل ہوگیا ہے، دوسری جانب اٹلی ہے جواحتیاطی تدابیراختیارکرنے میں ناکام ہوگیا جس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ فوری طورپر ہیلتھ الرٹ پروٹوکول پر عملدرآمدکیاجائے اورسنجیدگی سے ہرشہری اس پرعمل کرئے کہیں ایسا نہ ہوکہ بہت دیر ہوجائے۔ عوام اور حکمران دو حصوں میں بٹے دکھائی دیتے ہیں۔عوام میں ایک طبقہ ایسا ہے جو غیرذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ماسک کا استعمال بھی نہیں کررہے جبکہ زیادہ تر افراد اب حفاظتی اقدامات میں مصروف ہوگئے ہیں ۔حکومت سندھ نے صوبے مےں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے پےش نظر عوام کو گھروں تک محدود کر نے کے لےے پےر23مارچ سے لاک ڈاﺅن کرنے کا اعلان کردیاہے ۔جس کے تحت صوبے کے سارے دفاتر اور اجتماع پر پابندی ہوگی،غیر ضروری طور پر لوگوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم اگر کوئی ضرورت کے مطابق گھر سے نکلے گا تو اس کوقومی شناختی کارڈرکھنا لازمی ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ عوام کی صحت اور زندگی کی خاطر ہر وہ فیصلہ کروں گا جو ضروری ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کریک ڈاﺅن کا فیصلہ ان طبقات کی وجہ سے ہی کیا ہے جو غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات بھی نہیں اپنا رہے بلکہ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کو لینا چاہیئے تھا لیکن وزیراعظم عمران خان اپنی تقریر میں کریک ڈاﺅن سے انکاری تھے اورانکا موقف تھا کہ روزمرہ مزدوری کیلئے نکلنے والا غریب کیسے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرسکے گا۔ممکن ہے کہ وزیراعظم اپنی جگہ درست ہونگے لیکنبعض سیاستدانوں کو جنکا تعلق اپوزیشن سے ہے انہیں ہی نہیں بلکہ عوام کی اکثریت نے بھی وزیر اعظم کی تقریر پر مایوسی کا اظہار کیا،پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تو یہ دیا ہے کہ کرونا وبا سے پیدا مشکل حالات میں ہمیں ہر صورت عوام کی جانوں کا تحفظ کرنا ہے جبکہ وزیراعظم قوم میں مایوسی پھیلارہے ہیں۔عام تاثر تو یہی ہے کہ وزیر اعظم کو یہ سمجھنے کی ضرورت تھی کہ جب عوام گھروں سے نہیں نکلیں گے تو رکشہ ٹیکسی میں کون سفر کرے گایا مزدوروں کو کام کون دے گا۔ کورونا وائرس کے خطرے نے دنیا کو مفلوج کردیا ہے اورہم اٹلی اور چین سے بہتر نہیں۔ پاکستان میں بھی یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اس لئے ملک کے عوام کو ہر ممکن بچانے کے اقدامات کرنے ہونگے۔ وزیراعظم کی جانب سے قوم کو تسلی دے دینا اورصرف یہ کہہ دینا کہ گھبرانا نہیں، یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی۔

لیکن میں یہاں یہ بھی کہوں گا کہ شائد وزیراعظم میں ذہن میں کورونا وائرس سے نبٹنے کیلئے کوئی پلان ہو جسے وہ عوام کے سامنے نہ لانا چاہتے ہوں،عمران خان کی نیت پر کسی کو شبہ تو ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ ایک ایماندار انسان ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ایسی ناکام ٹیم کی سپہ سالار ہیں جو انہیں ناقص فیصلے کرنے کے مشورے دیتی ہے جبکہ انکے مقابلے میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کورونا کے خلاف اپنے صوبے کیلئے کامیاب فیصلے لے کراب تک نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان بھر کے عوام کا دل جیت چکے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں صرف سندھ کے عوام ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی بڑی اکثریت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی تعریف کیوں کررہی ہے ،اس لئے کہ انہوں نے صوبہ سندھ کے عوام کے بہتر مفاد میں فیصلے کئے اور کوشش کی کہ کورونا وائرس کے اثرات زیادہ پھیل نہ سکیں،وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج، ٹیسٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے مزدوروں کے لئے کورونا ایمرجنسی فنڈ قائم کردیا ہے۔ملک کے عوام کو اب خالی تسلیوں کی ضرورت نہیں بلکہ کورونا سے بچنے کی ضرورت ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں یکسوئی کے ساتھ فیصلے کرتے ۔سندھ حکومت کے کورونا وائرس کو روکنے کے اقدامات قابل ستائش ہیں،عوام کے ساتھ ملکر انشاءاللہ کورونا وائرس کا خاتمہ کرینگے ،عوام حوصلے بلندرکھیں اور گھروں میں رہ کر حکومت کا ساتھ دیں ،کورونا کے خلاف جنگ میں عوام کو حکومت کے ساتھ ہیں ۔سندھحکومت کے لاک ڈاﺅن کے اعلان سے غریب ومزدور طبقہ یقیناً متاثر ہوگا لیکن یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ایسے افراد کوراشن فراہم کرے۔حکومت کی طرف سے غریبوں کو راشن دینے کےلئے اقدامات کے دعوئے کئے گئے ہیں ان کو فوری عملی جامہ پہنایا جائے۔ تجزیہ کاروں نے لاک ڈاﺅن کے حوالے سے سندھ حکومت کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے اچھا اقدام قرار دیاہے ۔لاک ڈاﺅن کے معاملے پرتجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، وزیراعظم کو لاک ڈاﺅن کے بارے میں وزیراعلی سندھ سے صلاح مشورہ کرنا چاہیے تھا۔افسوس تو یہ ہے کہ کورونا وائرس سے خوف زدہ شہریوں کو مزید خوفزدہ کرنے کیلئے منافع خور اور ذخیرہ اندوز سر گرم ہوگئے ہیں اور اہم ترین اشیاءمہنگی فروخت کررہے ہیں جن پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے،مجھے یقین ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ جب اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں تو وہ گرانفروشوں پر بھی ہاتھ ضرور ڈالیں گے۔میں اپنے اس کالم میں ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل کی اس بات کو دہرانا چاہوں گا جو انہوں نے اتوار کی شب ایک نجی ٹی وی پر دعا سے قبل کہی ۔ انکا کہنا تھا کہ ملک بھر میں وہ مخیر افراد جو استطاعت رکھتے ہوں اور زیادہ سے زیادہ ایسے لوگوں کو راشن پہنچائیں جو سڑک کے کنرے بیٹھ کر روزی کی تلاش میں ہوں، غریب،یتیم اور بیواﺅں کو راشن پہنچائیں تاکہ وہ بھوکے نہ سوسکیں۔۔مولانا طارق جمیل کا کہنا بالکل درست ہے کہ کورونا اللہ کی طرف سے امتحان اورچھوٹی سی ناراضگی ہے، مسلمان کورونا وائرس سے اللہ کی پناہ طلب کررہے ہیں،یہ دنیا آئیڈیل نہیں بلکہ امتحان کی جگہ ہے اور ہرکوئی پرچہ دے رہا ہے اس لئے سب کو اللہ کی بارگاہ میں سب سے پہلے توبہ کرنی چاہیئے۔مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ کرونا وائرس دنیا بھر میں وبائی شکل اختیار کرگیاہے، عوام خوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور اللہ سے توبہ استغفار کریں۔ حکومتی ہدایت پرپابندی مناسب ہے، ساتھ میں اللہ کی طرف رجوع کرکے استغفار،توبہ اور وبا کے دورہونےکی دعا کی جائے اور خیرات بھی کی جائے۔مستند ڈاکٹرز سے علاج کروایاجائے اور ان کے ہی مشوروں پر عمل کیا جائے ، خوف پھیلانے کے بجائے احتیاط کا پہلو اختیار کیا جائے ،بڑے اجتماعات پر عائد ہونے والی پابندی پر عمل درآمد کریں اور شادی بھی سادگی سے کریں اور اگر نہیں کرسکتے تو پھر اسے موخر کردیں۔مساجد میں بھی صرف فرض نماز کی حد تک لوگ جمع ہوں اور سنتیں گھر پر ہی ادا کریں،عوام وضو بھی گھر سے کرکے آئیں تاکہ اجتماع کا وقت کم سے کم ہو، ہاتھوں کو بار بار دھونے کا اہتمام کیا جائے۔۔کورونانے ہر شخص کو خوف میں مبتلا کردیا ہے،خدا کے عذاب کو بھولا ہوا ظالم بھی اب اپنی فکر میں مبتلا ہے جبکہ نیک اورمخیرافرادمزید نیکیاں کمانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ملک کی اکثریت غریب ہے وفاقی و صوبائی حکومتوں کا چاہیے کہ وہ اختلافات بھلا کر کورونا کے خلاف سنجیدگی سے اقدامات کریں، بجلی اور گیس کے کم از کم ایک مہینے کے بل معاف کئے جائیں، کریانہ آئٹمز پر فوری طور پر 50 فیصد کمی کی جائے، تاجروں اور مینوفیکچرز کے لیے سبسڈیز دی جائے اور انہیں پابند بھی کیا جائے کہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں پوری اور بروقت دیں۔ وفاقی حکومت عوام کے لیے فوری طور پر بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کرے۔ ،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تو صوبے میں یہ اعلان کردیا ہے کہ گیس اور بجلی کے بل ادا کرنے کی سہولت دینے اور 5ہزار روپے تک بجلی کے بلزکو دس اقساط میں ادا کرنے کی سہولت مہیاکرنے کااعلان کیا ہے اور انکی جانب سے مزید کئی اعلانات کئے گئے ہیں ۔اس وقت ضرورت اس بات کی بھی ہے کہسرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں اور ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملے کو ایمرجنسی کے لیے تیار کرے اور انکی حفاظت کیلئے تمام سہولتیں مہیا کرے خصوصاً نوجوان ڈاکٹرز جو خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں کورونا سے بچاﺅکیلئے خصوصی کٹس مہیا کرے۔ ہمیں اپنے اجتماعی اور انفرادی گناہوں سے اللہ کے حضور توبہ کرنا چاہیے اور کرونا سے لڑنے کے لیے تمام وسائل کو استعمال کرنا چاہیے،اسلامی تعلیمات کے مطابق کورونا وائرس سے بچاو¿ کی تدبیریں اختیار کی جائیں۔یہ تمام باتیں بار بار بتانے کا مقصد یہ کہ لوگ جان جائیں کہ وہ کتنے مشکل وقت میں ہیں اور وہ لاپرواہی کسی بھی طرح افورڈ نہیں کرسکتے۔ہم نے اپنے بزرگوں سے ایک واقعہ سنا تھا یقیناً یہ واقعہ بہت سے لوگوں نے بھی سنا ہوگا لیکن پھر بھی انکی یاددہانی کیلئے میں دوبارہ پیش کرتا ہوں۔

ایک شہر میں سیلاب کا خطرہ ہوا حکومت نے عوام سے شہر خالی کرنے کو کہا مگر ایک بڑھیا جو خدا پر یقین رکھتی تھی اس نے شہر چھوڑنے سے انکارکردیا۔شہرمیں آہستہ آہستہ پانی جمع ہونے لگا،بڑھیاگھر کی چھت پر چڑھ گئی نہ کشتی میں بیٹھی اورنہ ہی آنے والے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئی اورآخرکار ڈوب گئی۔مرنے کے بعد خدا سے بڑھیا نے کہا کہ میرے رب میرا آپ پر اعتماد تھا لیکن آپ نے مجھے بچایا ہی نہیں۔خدا نے کہا کہاے بڑھیا میں نے اعلان کروایا ،کشتی بھیجی،ہیلی کاپٹر بھیجا لیکن تم نے کوئی ذریعہ بھی نہ اپنا یا اورڈوب گئیں۔۔اب ذرا سوچیئے کہ جولوگ چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ احتیاط کریں تو یہ سب اللہ کی دی ہوئی مہلت ہے۔خدارا اپنے آپ کواوراپنے ارد گردموجود لوگوں کی جان بچائیں اورحکومتی احکامات اوراعلانات کوسنجیدہ لیں۔

٭٭٭


ای پیپر