کرونا وائرس :پاکستانی نوجوان نے حل نکال لیا
30 مارچ 2020 (16:59) 2020-03-30

لاہور : پاکستانی نوجوان نے کرونا وائر س سے لڑنے کا حل نکا لیا ،لاک ڈائون کے بعد نوجوان نے گھر پر بھی اپنا وقت ضائع نہ کیا اور زیادہ وقت اس خطرناک مرض سے نمٹنے کی تیاری میں لگایا ۔

محمد علی نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سینٹھیٹک اینٹی جینز کی تیاری کے لیے مصنوعی ذہانت کے ایک ایڈوانس طریقے ڈیپ لرننگ تکنیک کا استعمال کیا، پہلے پہل انھوں نے مصنوعی ذہانت کے طریقے سے کورونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری پر توجہ دی لیکن پھر ایسے اینٹی باڈیز کی تلاش شروع کردی جو انسان کے نظام تنفس کو کورونا وائرس کے حملے سے بچاسکیں اور متاثرہ افراد کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرکے کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکیں۔

محمد علی 40لاکھ مالیکیولز اور کمپاؤنڈز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا جو کورونا وائرس کے علاج میں معاون ثابت ہوسکیں او ر ان سے کارگر ترین اینٹی باڈیز بنائے جاسکیں جو کرونا کے وائرس سے چپک کر اسے انسانی نظام تنفس میں پنجے گاڑھنے سے روک سکیں، چار روز تک جاری رہنے والی تحقیق کا مرکز کورونا وائرس پر خار پشت porcupine جیسے کانٹے دار بناوٹ تھی جو انسانی جسم میں داخل ہوکر پروٹین بنانے والے بلاکس سے چپک جاتے ہیں۔

محمد علی شاہ کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے جراثیم کو انسانی جسم یا نظام تنفس میں پروٹین بلاکس سے چپکنے سے بچانے کے لیے ایک ایسی ویکسین کا تیار ہونا ضروری ہے جو جنیاتی مواد کے ذریعے انسانی جسم کے خلیات کو کرونا کے وائرس سے پزل گیم کی طرح لڑنا سکھائے یعنی ویکسین کے جرثومے انسانی خلیوں کو کورونا کے ہر وائرس کے حساب سے اینٹی باڈیز کی ایک ایسی شکل بنائے جو وائرس سے لپٹ کر اس کے کانٹوں کو انسانی خلیوں میں پیوست ہونے سے روک سکیں۔


ای پیپر