وکلا کو بھی ایک سال کی ہائوس جاب کرنی چاہیے : چیف جسٹس
30 مارچ 2019 (21:57) 2019-03-30

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ڈاکٹر اور وکیل کا پیشہ معاشرے میں سب سے اہم حیثیت رکھتا ہے ،ے کے محروم طبقے کیلئے قانونی جنگ لڑتاہے، ہر قانون کو سمجھنے کیلئے اس کی تاریخ میں جانا نہایت ضروری ہے

ایک   تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اور وکیل کا پیشہ معاشرے میں سب سے اہم حیثیت رکھتا ہے ،وکلاء کی عزت ان کے پیشے سے معاشرے کی خدمت کے باعث ہے ، کسی بھی معاشرے میں وکیل کارتبہ مثالی حیثیت رکھتاہے، وکیل معاشرے کی بہتری کیلئے لڑتاہے،وکیل انفرادی نہیں اجتماعی مفادکاکام کرتاہے،وکیل معاشرے کے محروم طبقے کیلئے قانونی جنگ لڑتاہے۔عدالتوں میں دہشت گردی کا موضوع بہت سرگرم ہے ،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قانون بہت سخت ہے ، ہر قانون کو سمجھنے کیلئے اس کی تاریخ میں جانا نہایت ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر قانون تاریخ کے کسی نہ کسی واقعے کی مناسبت سے بنتاہے، وکیل کیلئے اپنے کیس کی تمام باریکیوں کااحاطہ کرنااشدضروری ہے، وکلاکوتاریخ،ریاضی اورادب پربھی دسترس حاصل کرنی چاہیے، تاریخ کامطالعہ ایک وکیل کے دلائل کومزیدمضبوط بناتاہے۔آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ،قانون کی اصل روح سے آشنائی ہوتو وکیل کے دلائل میں بہت وزن ہوتا ہے ،وکیل کے دلائل ریاضی کی طرح پکے ہونے چاہیءں ، ایک لفظ کے لغت میں 15معنی ہوتے ہیں اور اچھا وکیل ہی ان میں فرق کر سکتا ہے


ای پیپر