حکومت کس کی، چلا کون رہا ہے
30 مارچ 2019 2019-03-30

پرسوں جمعہ کے روز دو ایسے واقعات ہوئے جن سے پاکستان پر حاوی موجودہ نظامِ سلطنت کے حوالے سے آگاہی اور آنے والے دور کے بارے میں اشارہ ملتا ہے ۔۔۔ ان میں سے ایک غیرمعمولی طور پر شہرت رکھنے والی زیرتعمیر سٹرٹیجک بندرگاہ گوادر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے سنگ بنیاد کی تقریب، معلوم نہیں ماضی قریب کے کتنے سربراہان حکومت کو یکے بعد دیگرے یہ اعزاز حاصل ہو چکا ہے ‘۔۔۔ اس کے بعد بلوچستان میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر کی پہلی اینٹ رکھنے کی رسم بھی منعقد ہوئی۔ جس میں وزیراعظم کے ساتھ وفاقی حکومت کے سینئر ارکان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک تھے۔۔۔ میڈیکل کمپلیکس کی ممکنہ تعمیر کی خاطر متحدہ عرب امارات میں اپنے تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے ضروری رقم کے حصول پر جناب عمران خان نے خصوصی طور پر ملک کے آرمی چیف سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ان کے دم قدم سے اس عمارت کی تعمیر کا آغاز ممکن ہوا ہے ۔۔۔ جبکہ دوسرا واقعہ اسی روز وفاقی حکومت کی جانب سے کا اعلان سامنے آنا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے خصوصی مشیر بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ فاروقی کو جن کا نام مرحومہ بینظیر نے اپنے ممکنہ قاتلوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔۔۔ مرکزی سرکار کا وزیر برائے پارلیمانی امور مقرر کر دیا گیا ہے ۔۔۔ اس پر پیپلز پارٹی کے ترجمان سیخ پا ہیں کہ مشرف عہد کے ایسے جاسوسِ اعظم کو کیوں وفاقی وزیر بنایا گیا ہے ۔۔۔ جس پر بے نظیر مرحومہ کو دوسرے چند افراد سمیت اپنے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا شبہ تھا۔۔۔ لیکن پیپلز پارٹی والوں کا واویلا درخور اعتنا نہیں سمجھا جا رہا ۔۔۔ انہوں نے ایک ایسی شخصیت کو اپنی حکومت کا نائب وزیراعظم مقرر کیا تھا اور جو آج بھی پنجاب مقننہ کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہیں۔۔۔ جن کا نامِ نامی بھی بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ فاروقی جیسے لوگوں کی فہرست میں شامل تھا۔۔۔ مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بریگیڈیئر صاحب موصوف کے شامل کابینہ ہونے کے بعد جنرل (ر) مشرف کا عہد آمریت عمران خان کی سویلین حکومت پر پوری آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہو گیا ہے ۔۔۔ 16 وزراء اور مشیرانِ گرام پہلے ہی چوتھے فوجی ڈکٹیٹر کے ’’عہدِ زرّیں‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فہرست میں چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے قریب ترین ساتھیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو ہر سو مشرف آمریت کے سائے منڈلاتے نظر آئیں گے۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ پچھلی حکومت نے بھی دو ایک ایسے دانوں کو گلے کا ہار بنایا تھا جس کا طعنہ نوازشریف صاحب آج تک سنتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔ لیکن عمران خان کی حکومت کے اندر مشرف کے چنیدہ وزراء کی ایسی بھرمار کر دی گئی ہے کہ منظر دیکھ کر چوتھا فوجی ڈکٹیٹر خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔۔۔ اسے ان کے دم قدم کی بدولت وطن واپسی کی راہیں کشادہ ہوتی نظر آ رہی ہیں۔۔۔ ثقہ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی تقرریوں کے احکام اُن مقامات اولیٰ سے صادر ہوتے ہیں جہاں آج بھی مشرف کے وارثان گرامی اور شاگردان عزیز ترپ کا پتہ ہاتھ میں رکھ کر اقتدارِ حقیقی کی بساط بچھائے ہوئے ہیں۔۔۔ کہا جا رہا ہے کہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ قومی سلامتی امور کے مشیر کے عہدے کے متمنی تھے۔۔۔ مگر عمران خان نے موصوف کو بظاہر تجربہ نہ رکھنے کے باوجود پارلیمانی امور کی وزارت سونپی ہے ۔۔۔ شاید اس لیے کہ بریگیڈیئر صاحب ماضی قریب میں (ق) لیگ جیسی کنگز پارٹی تشکیل دینے کے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔۔۔ شاید آئندہ بھی انہیں ملتے جلتے کام کے لیے مہارت دکھانے کا کہا جائے۔۔۔ عمران حکومت 7 سے 10 مانگے تانگے ارکانِ قومی اسمبلی کے کچے دھاگے کے ساتھ بندھی ہوئی ہے ۔۔۔ جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے ۔۔۔ چنانچہ بریگیڈیئر (ر)اعجاز شاہ ہاتھ کی صفائی کی بدولت انہیں جوڑ کر رکھنے کے کرتب

دکھانے کے فریضے پر مامور ہوں گے۔

مگر یہ جو بلوچستان میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے وقت ہمارے خان بہادر وزیراعظم کو آرمی چیف کا سپاس گزار ہونا پڑا اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے ۔۔۔ جنرل قمر جاوید باجوہ صرف گوادر کے میڈیکل کمپلیکس کی خاطر دساور سے پیسے لے کر تو نہیں آئے۔۔۔ وزیراعظم صاحب کو اب تک جتنی رقوم بیرونی دوستوں سے ملی ہیں۔۔۔ چین ہو یا سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات تقریباً ساری کی ساری جنرل صاحب کی شخصیت اور اُن کے عہدے کے طلسماتی اور کرشماتی اعجاز کے طفیل ہمارے خزانہ عامرہ میں جمع ہوئی ہیں۔۔۔ ورنہ عمران خان حلف اٹھانے کے بعد پہلے دورے پر سعودی دارالحکومت گئے تو خالی ہاتھ لوٹ آئے تھے۔۔۔ یہ جنرل باجوہ کا اعجاز تھا کہ سعودیوں کے دل نرم پڑ گئے۔۔۔ چین کی جانب سے بھی زیادہ التفات کا مظاہرہ نہ کیا گیا۔۔۔ تاآنکہ آرمی چیف کو بہ نفسِ نفیس ہفتہ بھر کے لیے وہاں قدم رنجاں ہونا پڑا۔۔۔ پھر بند دروازے کھلنا شروع ہوئے۔۔۔ کم و بیش یہی حال متحدہ عرب امارات کا رہا ۔۔۔ دنیاکا شاید ہی کوئی جمہوری ملک ایسی نادر مثال پیش کر سکے کہ اس کے کسی دوست ملک کی جانب سے منتخب صدر یا وزیراعظم سے مالی تعاون کی درخواست پر خاموشی اختیار کر لی گئی مگر کا آئینی لحاظ سے اس کا ماتحت فوجی سربراہ دوست ملکوں کے پاس جاتے ہی ایسی عقدہ کشائی کر دکھائے کہ چھن چھن پیسے گرنا شروع ہو جائیں اور خزانہ عطا شدہ قرضوں کی رقوم سے بھر جائے ۔۔۔ اس کے بعد آپ کشکول لے کر دبئی میں آئی بیٹھی آئی ایم ایف کی سربراہ کے حضور حاضری دینے کے قابل ہو سکیں۔۔۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک سے قرضے کی بڑی بڑی رقوم تو چھ سات ماہ قبل آنا شروع ہو گئی تھیں۔۔۔ وزیراعظم بہادر کو پرسوں جمعہ کے روز بلوچستان میڈیکل کمپلیکس کی تقریب میں جناب آرمی چیف کا باقاعدہ نام لے کر اظہار تشکر کی کیا ضرورت لاحق ہوئی کیا درون مے خانہ ارتعاش کی کوئی لہریں نمودار ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ جناب وزیراعظم نے حفظ ماتقدم کے طو رپر سوراخوں کو بند کیا یا پس پردہ کوئی اور کہانی ہے ۔

ہماری مقتدر قوتوں کی روایت چلی آ رہی ہے ۔۔۔ وہ جس کسی کو بھی اقتدار کا لباس فاخرہ پہنا کر بڑی سج دھج کر سامنے لاتی ہیں۔۔۔ تو اس کا متبادل بھی تیاررکھتی ہیں۔۔۔ تجربہ کرتی ہیں ناکام ہوتا ہے تو نیا گبھرو تیار ہوتا ہے ۔۔۔ پاکستان کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ آج کا مسئلہ یہ ہے دفاع اور خارجہ پالیسی کے معاملات خالصتاً ان کی دسترس میں ہیں۔۔۔ عمران خان کا مقرر کردہ وزیر دفاع پرویز خٹک ہر چند ہے کہ نہیں ہے ، کی تصویر بنا ہوا ہے ۔۔۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی البتہ خوب بولتا ہے ۔۔۔ ترجمانی کا حق بھی ادا کرتا ہے مگر یہ خیالات اُوپر والوں کے ہوتے ہیں۔۔۔ شاہ صاحب صرف انہیں زبان کے لبادے سے آراستہ کرتے ہیں۔۔۔ وہ پیپلزپارٹی کے ایک سابقہ دور میں بھی یہ فریضہ ادا کر چکے ہیں۔۔۔ تب بھی حقیقی صاحبان اقتدار کے نمائندے سمجھے جاتے تھے مگر یہ جو ملک کے معاشی اور مالیاتی حالات ہیں۔۔۔ ان میں ہمارے خان بہادر کو اپنی اور اپنے ساتھیوں کے ہنر کا مظاہرہ کرنے کی قدرے آزادی حاصل ہے اور اس میدان میں انہیں ایک کے بعد دوسری بڑی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔۔۔ کل کلاں ان کی حکومت ڈانواں ڈول ہوئی تو شاید اس سبب ہی کی بنا پر عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنا کر گھر روانہ کی جائے گی۔ افراط زر زوروں پر ہے ، بے روزگاری بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔۔۔ بیرون ملک سے سرمایہ کاری آ نہیں رہی۔۔۔ برآمدات میں اضافہ نہیں ہو پا رہا ۔۔۔ پچھلی حکومتوں کے جاری پروگراموں کو نیا غلاف پہنا کر اپنے کارنامے کے طور پر پیش کرنے کا دھندا جاری ہے ۔۔۔ صفائی کا مرکز سمجھے جانے والے شہروں میں گندگی کے ڈھیر لگنے شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ خان بہادر جن پچاس بلکہ اس سے بھی زیادہ مرغوں کوجیلوں میں پھینک دینے کی بڑھکیں مارتے تھے انہیں ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے ضمانتیں مل رہی ہیں۔۔۔بیورو کریسی قابو میں نہیں آ رہی پنجاب پولیس میں افراتفری کا سامان ہے ۔۔۔ 2018ء کی انتخابی مہم کے دوران بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے جن عم زاد بھائیوں نے محکمہ زراعت کے نام سے شہرت پائی تھی اور جنوبی پنجاب کا علیحدہ صوبہ بنانے کا چکمہ دے کر اس خطے میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک کو توڑ کے رکھ دیا تھا۔۔۔ اس سارے عمل کے سرخیل خسرور بختیار صاحب کی ’امانت اور دیانت‘ اور اس کی کوکھ سے پھوٹنے والی جو کہانیاں زبان زد عام ہونا شروع ہو گئی ہیں۔۔۔ ان ساری باتوں کو ملا کر جو تصویر ابھرتی ہے اس پر آپ ٹی وی کے پروگراموں پر آ کر جیسے بھی سنہری فریم چڑھا کر لوگوں کے سامنے رکھیں وہ زیادہ دیر تک بکنے والی نہیں۔۔۔ ملک اور عوام جس معاشی پراگندگی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اس کا رخ موڑ کر رکھ دینا آپ کے بس کی بات معلوم نہیں ہوتی۔۔۔ مقتدر قوتوں کے لیے اس میں جیسا کہ ان کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے ۔۔۔ تشویش کم اطمینان کا پہلو زیادہ ہے کہ اگلے گھوڑے کے لیے میدان تیار ہو رہا ہے ۔۔۔ نئے نعرے دے کر لوگوں کو ان کے پیچھے لگادینا چنداں کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔ صاحبان نظر کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف بڑے بھائی کے ساتھ وفاداری کا رسہ توڑ دیتے جس کی انہیں بار بار ترغیب دی گئی تو آج وزارتِ عظمیٰ کی سیج پر فرد کش ہوتے۔۔۔ کل کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ غالباً وہ یہی امر ہمارے خان بہادر کو پریشان کیے جا رہا ہے ۔۔۔ شہباز شریف قابو نہ آئے تو کوئی اور سہی۔ لہٰذا وہ آرمی چیف کی نوازشات کا سر عام ذکر کرنے پر مجبور ہیں۔


ای پیپر