تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو پھر جائے۔۔۔
30 مارچ 2019 2019-03-30

بھارت میں انتخابات تک کا وقت پاکستان اور بھارتی مسلمانوں پر بھاری رہے گا۔ اپنے ملک کے حالات سنوارنے ، سدھارنے، عوام کی خدمت کی بنیاد پر ووٹ لینے کی بجائے بی جے پی کا سارا مدار سرحد پار جھانک جھانک کر مسائل بھڑکانے پر ہے ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے دو ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرکے نکاح کرنے کے واقعے پر سینہ کوبی شروع کر دی۔ خود ہمارے موم بتی مافیا نے یہاں سے آواز ملائی۔ با وجود کہ پاکستان اقلیتوں کی جنت ہے ، آئے دن کوئی نہ کوئی راگ الاپنا ضروری ہوتا ہے مخصوص طبقے کا۔ لڑکیوں نے عدالت کے رو برو جبراً مسلمان کیے جانے کی واشگاف تردید کی ہے ۔ بہ رضاو رغبت اسلام قبول کر کے نکاح کیا ہے ۔ ہم نے گھبرا سٹپٹا کر فوراً نکاح خواں اور شریک نکاح افراد کو گرفتار کرنے کی پھرتی دکھائی۔ یہی اگر مسلمان ، گھر سے بھاگی لڑکی کا معاملہ ہوتا تو این جی اوز اور حکمران مکمل پشت پناہی کرتے ! ذرا سرحد پار بھی چند مناظر دیکھ لیں۔ ہریانہ، گڑگاؤں میں سامنے آنے والی ویڈیو میں جنونی ہندو ایک مسلمان گھر پر حملہ کر کے، لاٹھیوں بھالوں سے مسلح بری طرح افرادِ خانہ کو پیٹ رہے ہیں۔ ہولی کے موقع پر مذہبی انتہا پسند انہ منظر گلف نیوز ( 23 مارچ) میں شاید محبان بھارت، ہمارے عرب بھائیوں نے بھی دیکھا ہو گا۔ گھر کی عورتیں لڑکیاں اپنے مردوں کو بچانے میں ڈنڈوں کی زد میں چیخ چلا رہی ہیں۔ مدد کو آنے والا کوئی نہیں۔ ایک اور ویڈیو سیکولر بھارت کا حقیقی چہرہ دکھا رہی ہے ۔ اس میں ایک کم عمر لڑکے کو کھمبے سے رسی سے باندھ رکھا ہے گلا گھونٹتے، پیٹتے، شدید تشدد کا نشانہ بناتے اسے جبراً ہندو بنانے اور ’ جے شری رام‘ کہلوانے کا خوفناک منظر ہے ۔ سشما سوراج ک نزدیک کی نظر کمزور ہے ۔ سرحد پار گھوٹکی کی لڑکیاں دکھائی دے گئیں، نہ یہ مذکورہ بالا بھارتی مسلمان پر ٹوٹتی قیامت دکھائی دی نہ جیل میں قید ایک اور پاکستانی کو عملے کے تشدد کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جانے کی خبر ہوئی۔ یہ قبل ازیں شاکر اللہ پر جیل میں تشدد اور محمد اعظم کے جیل میں مارے جانے کے بعد تیسرا واقعہ ہے ۔ ہندو بچیوں کے مسلمان ہونے پر گھگھیا کر خبطی اور وحشت زدہ رد عمل دینے والی ہماری حکومت اپنے شہریوں کے بھارت میں تحفظ کے حوالے سے کہاں ہے ؟ بھارتی مسلمانوں پر تو آپ اُف بھی کہنے کے روا دار نہیں مگر اپنے مظلوم شہری؟ یہ کیا بات ہے کہ ہم پاکستان کی پاکیزہ اسلامی شناخت پر بھی اس درجے شرمندہ دکھائی دیتے ہیں کہ شرمناک فحاشی کی مرتکب اداکارہ ، ماڈل مہوش حیات کو 23 مارچ کو ( اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے عزم کا دن) تمغہ امتیاز پیش کرتے ہیں؟ یہ المناک وڈیو کسی درد مند نے بھیجی جو آنکھیں کھول کر دیکھنا بھی دو بھر ہوئی۔ پاکستان کے جھلملاتے جھنڈے کے چاند تارے میں قومی ترانے پر مہوش حیات، اپنی ہی قبیل کے نوجوانوں کے بیچ نیم برہنہ، چند چیتھڑے ( لباس کے نام پر) پہنے رقص کر رہی ہے ! خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔ اور سالار کارواں ہے میرؐ حجاز اپنا، اس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا۔

ہمارے قومی ترانے کی جڑ بنیاد اس ملّی ترانے میں ہے جو علّامہ نے پاکستان کا خواب آنکھوں میں سجا کر ترانہ ہندی کا متبادل ہمیں دیا تھا۔ پاکستان کی وجہ وجود، امت کا گلِ سر سبد ! دو قومی نظریے کی بنیاد پر 23 مارچ کی قرار داد کا دن۔ اور ایک فاحشہ کو ان الفاظ کے ساتھ تمغہ امتیاز دیاگیا کہ ، غیر معمولی کارکردگی کی بنا پر آپ کو صدر ’ اسلامی‘ جمہوریہ پاکستان تمغہ امتیاز کا اعزاز دے رہے ہیں۔ یہ ہے ’ ریاست مدینہ‘ اور ’

تبدیلی‘ کے عنوانات کی حقیقت۔ یہ پے در پے پاکستان کی شناخت پر حملے ہیں۔ مولانا سمیع الحق ؒ کا بہیمانہ قتل ہو، مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ہو یا جھنڈے اور ’ سایہ خدائے ذوالجلال‘ والے ترانے پر حملہ ! پس پردہ ہاتھ ایک ہی ہے ۔ نائن الیون کے بعد ضابطے سے پاکستان کو اسلامی شناخت سے محروم کرنے والا ہاتھ۔ جب سوشل میڈیا پر مہوش حیات پر تنقید اور اس اقدام پر شدید رد عمل آیا تو اس عورت نے جواباً کہا : ’ ہم ایسی انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں جو گلیمر سے بھر پور ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اپنی اقدار کو بھلا دیا ہے ‘ ۔ اقدار کا مطلب نہ جاننے والی جسے ’ گلیمر ‘ کہ رہی ہے ۔ یہ ابلیسی دجالی فریبِ نظر، اخلاق و کردار کے جنازے کا نام ہے جس پر وہ رقصاں ہے ۔ امریکہ کے قدموں میں جا پڑنے کے بعد ہماری حیات بخش صنعتیں، معاشی خود کفالت کے سارے سامان لٹ گئے۔ گیس بجلی صنعتیں ٹھپ ہو گئیں۔ بھارت پانی پی گیا ہمارے دریاؤں کا۔ زراعت بانجھ ہو گئی۔ باقی صرف، فلمی صنعت ، بچی جو دو قومی نظریے کے تابوت کا آخری کیل ثابت ہوئی۔ کچھ ہفتے پہلے تو بھارتی جہازوں کے گرائے جانے پر ولولہ انگیز ترانے نشر ہو رہے تھے۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ۔ اور اب۔؟ مہوش کا جو ناچ ہے وہ قوم کی ممات ہے ؟! ایک طرف نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعے میں ان کی پوری قوم نے مغرب کے 18 سال کے مسلمانوں کے قرضے چکا دیئے۔ درندہ صفت قاتل کے مقابل ان کی پوری قوم مسلمان خاندانوں کے پس پشت دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن میں ملکہ سبا کی جھلک اور نجاشی کی پشت پناہی ہویدا تھی۔ انہوں نے غیر معمولی جرات و کردار کا مظاہرہ کیا۔ ان کی پارلیمنٹ میں تلاوت قرآن چل رہی ہے : ’ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔۔۔ الخ ( البقرہ 153-157- ) یہ وہ آیات ہیں جن سے گریز کرتے ہم نے 18 سال 49 کافر ممالک کے ساتھ مل کر جنگ لڑی اور ہمارے دبنے جھکنے نے ٹارنٹ جیسے درندے پلنے دیئے۔ یہ اللہ کی چال ہے کہ کرائسٹ چرچ میں مسجد کے شہداء نے پوری دنیا پر بالعموم اور نیوزی لینڈ پر بالخصوص حجت تمام کر دی۔ روح کے اندر اتر جانے والی اذان سنوا دی۔ صبر، نماز اور شہادت کے بے بہا تصورات اور عمل کو اجاگر کر دیا۔ سکارف سے لڑتے ، جرمانے عائد کرتے یورپ تو ادھ موأ ہو گیا تھا۔ نیوزی لینڈ نے تمام شعائر اللہ کو احترام دیا۔ ( پروردگار اعلیٰ ترین قبولیت عطا فرما کر اس سر زمین کو ایمان سے منور کر دے ! ) ان کی خواتین، وزیر اعظم سمیت سکارف اوڑھ کر کھڑی ہو گئیں۔ برہنگی کی ذلت کے بر عکس حیا کی اوڑھنی کا وقار انہوں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا، اسے پوری محبت سے عزت دی! آنکھوں میں آنسو بھر کر نیوزی لینڈ کی خاتون بڑا سا سکارف اوڑھے وجہ بیان کر رہی تھی۔ ’ یہ میں نے اسلیے اوڑھا ہے تاکہ اگر کوئی ایسی جرات کرے تو وہ فرق ہی نہ کر سکے مسلم میں اور مجھ میں ! ‘ مسلمانوں پر جان نچھاور کرنے پر آمادہ اس خاتون کو اللہ ایمان عطا کرے۔جب نیوزی لینڈ اشکبار تھا اور تلاوت کر رہا تھا ہم پی ایس ایل میں 9 پاکستانیوں سمیت شہداء کے لیے دعا نہیں ، 2 منٹ کی خاموشی کے بعد راگ موسیقی رنگ رلیوں میں مصروف تھے! ہمارے لیے یاد دہانی کو یہ آیات کافی ہیں۔ ان کے طرز عمل اور اپنے اسلام سے فرار کی راہیں تلاش کرتے، اسلام کی ہر علامت خود سے کھرچ ڈالنے کی دیوانگی میں مبتلا ہونے والوں کے لیے، ’ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ( تو پھر جائے ) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہو گا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے ، اللہ فراخ دست ( وسیع ذرائع کا مالک) اور علیم ہے ۔‘ (المائدۃ54- ) ایک طرف ہمارے اسلام پر معذرت خواہانہ رویے پوری دنیا کے آگے سال کے بارہ مہینے۔ دوسری طرف ان کے ہاں گینگ کے بظاہر زور آور ممبر اپنی پوری قوت اور غیظ و غضب لیے، مسلمانوں کی مساجد کے تحفظ کا عزم کیے حاضر! کفار پر سخت ! مومنوں پر نرم! صفیں تو بن رہی ہیں لشکر دجال اور اسکے ہم نواؤں کی۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ادھر اسرائیل غزہ پر بلا روک ٹوک بمباری کر کے 24 گھنٹے میں 30 گھر تباہ اور 500 جزوی برباد کر چکا ہے ۔ امریکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے انتخابات میں گرتے گراف کو ( کرپشن اور قومی خزانے پر عیاشی کے الزامات ) سنبھالا دینے کے لیے گولان کی پہاڑیوں پر قبضے کو جواز بخش رہا ہے ۔ جس سے عرب دنیا میں بے چینی فطری ہے ۔ یہ ہے مغربی جمہوریت۔ بھارت میں مودی جنگ کی آگ بھڑکا کر ووٹوں کا طلبگار اور اسرائیل میں نیتن یاہو، جنگی سیاست سے انتخابات جیتنے کا عزم باندھے ! امتِ مسلمہ پارہ پارہ اور ہم کشکول بدست!

جن کو اپنی خبر نہیں ہوتی

ہم انہیں سربراہ رکھتے ہیں


ای پیپر