اپریل فول۔۔
30 مارچ 2019 2019-03-30

دوستو،کل یکم اپریل ہے یعنی اپریل فول ۔۔ اپریل فول کیا ہے؟ اس کے بارے میں بہت کم لوگ جاننے کی کوشش کرتے ہیں البتہ مغرب کی دیگر خرافات کی طرح اس کو بھی بڑے خشوع خضوع سے منایا جاتا ہے، جبکہ بہت کم لوگ اس کی تاریخی حقیقت جانتے ہیں۔۔دنیا بھر میں ہر سال اپریل فول ایک تہوار کے طور پر منایا جاتاہے۔ اس دن مہذب کہلوانے والے مغربی قوم جھوٹ بول کر دوسروں کے جذبات سے کھیل کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی یہ تہوار دنیا بھر میں پھیل گئی اور آج اسلامی دنیا میں بھی اس دن کو منا کر جھوٹ بولا جاتا ہے۔انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا نے اس کی تاریخی حیثیت پر مختلف انداز سے روشنی ڈالی ہے کہ 21 مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے کچھ اس طرح تعبیر کیا کہ (معاذاللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کر کے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے (یعنی کبھی سردی ہوجاتی ہے تو کبھی گرمی بڑھ جاتی ہے، موسم کے اس اتار چڑھاؤ کو قدرت کی طرف سے مذاق پر محمول کیا گیا)۔ لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنانا شروع کردیا۔انسائیکلوپیڈیا انٹرنیشنل کے مطابق مغربی ممالک میں یکم اپریل کو عملی مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے۔ اس دن ہر طرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ ہوتی ہے ، اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ اس دن مذاق میں دوسروں کو ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے جو بسا اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔ کل چونکہ یکم اپریل ہوگا اس لئے آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اپریل فول منانے سے اجتناب کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، سنی سنائی کوئی بات یا میسج بغیر تحقیق کے آگے نہ بڑھائیں اور اپریل فول کے نام پر منائی جانے والی تمام خرافات سے خدارا دور رہیں۔۔

ہمارا کالم چونکہ کل نہیں آئے گا اور یہ موضوع بھی دلچسپ ہے اسی لئے آج ہی اس پر بات کرنے کا موڈ ہے۔۔ اپریل فول دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنے اور بیوقوف بنانے کا تہوار ہے۔ اسکا خاص دن اپریل کی پہلی تاریخ ہے۔ یہ یورپ سے شروع ہوا اور اب ساری دنیا میں مقبول ہے۔ 1508 سے 1539 کے ولندیزی اور فرانسیسی ذرائع سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مغربی یورپ کے ان علاقوں میں یہ تہوار تھا۔ برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے شروع میں اس کا عام رواج ہوا۔۔ اپریل فول منانے کے لیے ایک دوست نے دوسرے کو یکم اپریل کو گھر پر کھانے پر بلایا،جب دوست گھر پہنچا تو گھر پہ تالا لگا ہواتھا اور لکھا تھا۔۔بے وقوف بنا دیا ہا ہا ہا ہاِِ۔۔دوست وہاں لکھ کر آگیا۔۔ اچھا ہوا کہ میں آیا ہی نہیں۔۔ہوائی جہاز میں ایک خاتون اپنے بچے کو بیت الخلاء میں چھوڑ کر کہہ گئی کہ پانچ منٹ میں آتی ہوں،مگر بچہ دو منٹ میں ہی باہر نکل آیا اور ماں سے مخالف سمت میں چلا گیا۔اسی دوران ایک خان صاحب بیت الخلاء میں گئے اور اندر سے دروازہ بند کرلیا۔اتنے میں بچے کی ماں واپس آئی اور آواز دے کر پوچھنے لگی۔۔اگر ہو گیا ہو تو دھلادوں اور پینٹ پہنا دوں ؟اندر سے خان صاحب نے مارے خوشی اور حیرت کے کہا۔۔او تیری،اسے کہتے ہیں سروس۔۔۔کس نے کہا مہنگائی ہوگئی ہے ؟200 روپے میں ملتا ہے ایک جیالا۔۔کہتے ہیں اچھے لوگوں کا ساتھ آپ کی اپنی قیمت بڑھا دیتاہے،جیسے نلکے کا پانی دودھ میں مل کے 100 روپے کلو ہو جاتا ہے۔۔باباجی فرماندے نے۔۔اگر لائٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی آپ کے چھت کا پنکھا گھومتارہے !!! تو فورا اپنا بلڈ پریشر چیک کروائے۔۔میاں بیوی ہوٹل میں کھانا کھانے گئے،شوہر نے کھانا شروع کیا تو بیگم نے ٹوکا۔۔آج تم کھانے سے پہلے دعا مانگنا بھول گئے۔۔شوہر نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔یہ ہوٹل ہے بیگم۔ یہاں کے باورچی کو کھانا بنانا آتا ہے۔۔۔

اکبر بادشاہ نے بیربل کو حکم دیاکہ مملکت میں سے پانچ احمق ترین لوگوں کو ایک مہینے میں تلاش کرکے درباراکبری میں پیش کیا جائے۔۔ایک مہینے کی جدوجہد کے بعدبیربل صرف 2 احمقوں کو پیش کرسکا۔۔اکبر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ،اس نے تو 5 احمقوں کو پیش کرنے کا کہا تھا۔۔بیربل نے عرض کی، مہاراج۔۔مجھے ایک ایک کرکے احمقوں کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔۔عالی جاہ کا حکم سرآنکھوں پر،احمقوں کی گنتی پوری کرکے ہی دربارسے جاؤں گا۔۔اس کے بعد بیربل نے پہلا احمق پیش کرتے ہوئے کہا، یہ بہت بڑا احمق ہے ،اس نے بیل گاڑی میں سوار ہونے کے باوجودسامان اپنے سر اٹھایا ہوا تھا۔۔دوسرے احمق کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ۔۔اس شخص کے گھر کی چھت پر بیج پڑے تھے۔ان بیجوں کی وجہ سے چھت پر گھاس اگ آئی، یہ شخص اپنے بیل کو لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر لے جانے کی کوشش کررہا تھا تاکہ بیل چھت پر چڑھ کر گھاس چرلے۔۔اس کے بعدبیربل نے کہا،مہاراج۔۔بطور وزیر مجھے اہم امور سلطنت چلانے تھے،مگر میں نے ایک مہینہ ضائع کیا،اور صرف 2 احمق تلاش کئے۔ اس لئے تیسرا احمق میں خود ہوں ۔۔اس کے بعد بیربل کچھ دیر سانس لینے کو رکا۔۔۔اکبرچلایا،چوتھا احمق کہاں ہے؟ بیربل نے تھوک نگلتے ہوئے کہا،مہاراج جان کی امان پاؤں تو عرض کروں،اجازت ملنے پر بیربل کہنے لگا۔۔آپ بادشاہ وقت ہیں،اور تمام رعایا اور سلطنت کے امور چلانے کے ذمہ دار ہیں،مگر جناب قابل ترین اور اہل افراد کو تلاش کرنے کی بجائے آپ نے احمق ترین لوگوں کو تلاش کرنے میں نہ صرف اپنا وقت برباد کیا،بلکہ سلطنت کے ایک اہم وزیر کا وقت برباد کیا،لہٰذاچوتھے احمق آپ ہیں۔۔اکبربادشا ہ یہ سن کر تلملا کر رہ گیا، بیربل کو کچھ کہہ تو سکتا نہیں کیوں کہ جان کی امان دے دی تھی،اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔اب پانچویں احمق کو پیش کرو۔۔بیربل نے عرض کی۔۔مہاراج،پانچواں احمق یہ انسان ہے جو اس وقت بھی اس لطیفے سے چمٹا ہوا ہے اور اپنا چھٹی کا دن فالتو جگہ ضائع کررہا ہے۔۔حالانکہ سنڈے کو اسے اپنے پورے ہفتے کے رہ جانے والے کام نمٹانے چاہیئے، فیملی کو وقت دینا چاہیئے۔۔لیکن یہ انسان تمام خاندانی امور سے لاپرواہی برت رہا ہے اوراپنا قیمتی وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں کر رہا۔۔اور حد تو یہ ہے ابھی تک ڈھیٹ بن کریہ لطیفہ پڑھتا ہی چلا جا رہاہے۔


ای پیپر