کالعدم تنظیمیں زیرزمیں چلی گئیں تو ؟
30 مارچ 2019 2019-03-30

اپنی گزشتہ تحریر ”خداپرست ، قوم پرست اور حسن پرست “ سے یہ تحریر بھی پیوستہ ہے، چونکہ میں یہی ثابت کرنا چاہتا ہوں، کہ مودی، نیتن یاہو، یہودی اور ٹرمپ کی نہ تو عادات میں فرق ہے، اور نہ ہی ان کی سرشت میں کوئی تضاد ہے، مثلا ً آج کل ”گولان کی متنازعہ پہاڑیوں کو اپنے دستخط کرکے اسرائیل کو دے دینے کا اعلان کردینا ، یہ تاثر دینا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں ٹرمپ کے باپ کی جاگیر تھی جو اس نے یہودیوں کے حوالے کردی، حالانکہ اس پہ تمام اسلامی ممالک ہی نہیں برطانیہ، روس، فرانس اور چین وغیرہ نے کہا ہے، کہ ٹرمپ کی بیان بازی کے باوجود ہم گولان کی پہاڑیوں کو متنازع ہی سمجھیں گے۔

جبکہ سعودی عرب، نے کہا کہ گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقہ قرار دینا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اور فلسطین کے محمود عباس نے کہا ہے، کہ ٹرمپ کے حکم کی کوئی حیثیت نہیں۔

قارئین ، جس طرح ہم مودی کے مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کی ہلاکتوں سے صرف نظر کرکے اسے ”دہشت گرد “ عالمی طورپر نہیں منوا سکے بلکہ اسی طرح نہ تو اسلامی ممالک اور نہ ہی او آئی سی، اس ضمن میں کوئی بھی کارنامہ سرانجام دے سکی، سوائے اس کے کہ مسلمان اس پہ کفِ افسوس ملتے رہ جائیں اور کیا کرسکتے ہیں۔

جبکہ ہمارا مو¿قف بڑا واضح اور مدلل ہے کہ اس وقت دنیا میں دو قوم پرست حکمران، ہٹلر کے بعد قوم پرستی کے دعویٰ دار بھی ہیں، اور جنگ عظیم کی ہلاکتوں سے بھی زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے ذمہ دار ہیں، عراق، ایران، فلسطین ، شام، پاکستان، اور الجزائر کے نام کے طورپر فی الفور لیے جاسکتے ہیں۔ ٹرمپ، ایک ایسا خبطی، اور متعصب شخص ہے، کہ امریکی چیف جسٹس سے بھی سینگ پھنسانے سے باز نہیں آتا ، خود اس پر روس کے صدر پیوٹن سے سازباز کا الزام ہے، اور اگر واقعی ایسا ہوا، تو کیا کسی امریکی سیاستدان یا عوام میں سے کسی میں اتنی جرا¿ت ہوگی کہ اس پہ غداری کا الزام لگ سکے، جبکہ پیوٹن سے اس بارے میں سوال کیا جاتا ہے، تو وہ ایکسرسائز کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

قارئین کرام، میرا موضوع تو یہ ہے، کہ اقوام متحدہ یعنی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت جن تنظیموں کو دہشت گرد قراردیا گیا ہے، ان میں طالبان (جن کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے امریکی ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں)حتیٰ کہ پاکستان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ، حقانی نیٹ ورک ، فلاح انسانیت ، جن کا تذکرہ میں نے پچھلی قسط میں کیا تھا، اور ان کے کام کی تعریف کی تھی، اس کے علاوہ الرشید ٹرسٹ، اختر ٹرسٹ، جماعت الدعوة ، روشن منی ایکسچینج ، حاجی خیراللہ ، حاجی ستارمنی ایکسچینج، حرکت جہاد اسلامی امہ تعمیر نو، اور راحت لمیٹڈ شامل ہیں۔ ذبیح اللہ صدیق کے بقول حافظ سعید صاحب کی آزادانہ نقل وحرکت پر اب بھی پاکستان کو تنقید کا سامنا ہے۔

دراصل پاکستان کی ان تنظیموں پہ پابندی کے اصرار کے پیچھے امریکہ اور بھارت کا مسلسل دباﺅ اور اصرارہے جبکہ خود بھارت کی دہشت گرد تنظیمیں ، شیو سہنا سمیت بال ٹھاکرے جیسے مستند دہشت گرد کے بیٹے کا بھارت میں مکمل راج ہے تبدیلی کے ساتھ حضرت علامہ اقبال ؒفرماتے ہیں کہ

معلوم کیسے ہند کی تقدیر کہ اب تک

بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمیں ہے

قارئین کرام، بس میں یہاں لاکر اپنے دل کی بات کرنا چاہتا تھا، کئی سال پہلے جب سابقہ صوبہ سرحد کے گورنر جناب جنرل فضل حق ، کو شہید کردیا گیا تھا۔ اور لشکر جھنگوی ، اور سپاہ محمد کی باہمی شدید دشمنی، اور شیعہ ، سنی اختلافات کو ہوا دے کر کشتِ وخون کا بازار گرم کردیا گیا، جو ہزارہ (بلوچستان) سے لے کر پورے ملک میں پھیلا دیا گیا، اور یوں لشکر جھنگوی پہ پابندی لگادی گئی ، اس کے سربراہ کو لاہور کی عدالت کے باہر قتل کردیا گیا، میرا قارئین آپ سے ایک سوال ہے کہ کیا پابندی لگنے کے بعد لشکر جھنگوی کی سرگرمیاں، حکومتی کنٹرول میں آگئیں؟ میرے عقل کے مطابق کسی بھی تنظیم پہ پابندی اگر بوقت وجود واجرا¿ لگائی جائے، تو وہ قابلِ عمل ہوتی ہے، وگرنہ اس پہ قابو پانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔

قارئین امریکہ سے لے کر برطانیہ آئرلینڈ تک خفیہ تنظیمیں بھی اپنا وجود رکھتی ہیں مگر گوگل سے لے کر انسٹاگرام وغیرہ تک اس کی معلومات دانستہ اور سوچی سمجھی سازش کے تحت ختم کردی گئی ہیں، مگر خاص طورپر اسلامی ممالک کی تنظیموں کے کوائف آپ کو ہر جگہ مل جائیں گے، اس سے کون انکار کرسکتا ہے، کہ اسرائیل کی تنظیم CACH & KAHANCHAIحماس اور عبداللہ عزائم بولڈ، بھارت کی خود زار، شیوسہنا ، ابوسفیان گروپ، البدر، ایسٹر ترکستان، برٹش آرگنائزیشن ،کورین پیپلزآرمی، مارکسٹ کمیونسٹ پارٹی، روس، مصری اسلامی جہاد یونین جماعت اسلامی ایڈن مجاہدین ، وغیرہ وغیرہ۔

بہرحال میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جس میں کالعدم طرز کی تنظیمیں نہیں، مگر اس کو قابو میں رکھنا، اور ان سے تخریبی نہیں، بلکہ تعمیری کام کرانا حکومت وقت کا کام ہوتا ہے۔ حکومت سے ٹکرلینا اور اسے اپنی کسی نام نہاد ، یا واقعی تعمیری تنظیم لینااتنا آسان نہیں ہوتا، مگر حکومت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ ان سے مثبت کام لے، جو ملک وملت کے فائدے کے لیے ہو، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے اور کسی کی خام خیالی ہے کہ وہ ان تنظیموں کے سربراہوں کو جیل میں ڈال دے، تو یہ عالمی خام خیالی تو ہوسکتی ہے، مگر عملاً ایسا کرنا، بالکل ناممکن ہوتا ہے، جیسے کہ میںنے پہلے عرض کیا ہے، کہ اگر کوئی حکومت، اور آمروجابر سیاسی پارٹی ختم نہیں کرسکتا، تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے، کہ عوام میں مقبول، اور اپنے رفاعی کاموں میں مشہور کسی شخصیت کو پیرانہ سالی میں پابند سلاسل کرلے، کیونکہ سرسید احمد خان، قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، سہیل امان ،نورخان، ایم ایم عالم اور حافظ سعید جیسی شخصیات ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں، اور ان کے تقویٰ کا یہ عالم ہے، کہ نمازوں کی امامت کرانے والے حافظ بقول ترمذی تقویٰ یہ ہے کہ قیامت میں کوئی تمہارا گریبان نہ پکڑے اور مروت یہ ہے کہ تم کسی کا گریبان نہ پکڑو، کیونکہ عاقل وہ ہے جو خدا کے لیے تقویٰ کرے، اور اپنے نفس کا حساب لیتا رہے، مگر چونکہ غیر ملکی امداد لینے کے لیے پاکستان کا بلیک لسٹ سے بچنا ضروری ہے ، لہٰذا یہ کڑوا گھونٹ پینا حکومت کے لیے ضروری ہوجاتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے، کہ اگر کوئی بھی جماعت زیر زمین چلی جائے، تو اس کو کون روک سکتا ہے؟ علامہ اقبال ؒ:

خود دار نہ ہو فقر تو ہے قہر الٰہی

ہو صاحبِ غیرت تو ہے تمہیدِ امیری !


ای پیپر