نوازشریف کی کامیابی
30 مارچ 2019 2019-03-30

ہوا یہ کہ مقامی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ اپنے اپنے دکھوں اور مسائل کی وجہ سے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف اکٹھی ہو گئیں۔ مقامی ملکی اسٹیبلشمنٹ کے دکھ واضح تھے۔ نوازشریف بطور وزیراعظم ضدی ہے۔ من مانی کرتا ہے۔ ہماری نہیں سنتا۔ بالا دستی کو چیلنج کرتا ہے۔ عزت اور احترام چاہتا ہے۔ اقتدار کے ساتھ اختیار مانگتا ہے۔ پالیسی سازی کو اپنا حق اور دائرہ کار سمجھتا ہے۔ جمہوریت اور ووٹ کے احترام کی بات کرتا ہے۔ اور خود کو حقیقی وزیراعظم سمجھتا ہے۔ خاص طور پر منہ مانگے اور من چاہے پیسے نہیں دیتا۔ بجٹ میں تعین کردہ حصے تک محدود رکھتا ہے۔ اور تو اور دائیں بائیں سے ترقیاتی منصوبوں اور ٹھیکوں سے بھی پیسے کمانے نہیں دیتا۔ اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے آئینی رول تک محدود کرنا چاہتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ

عالمی اسٹیبلشمنٹ کے نوازشریف کے ساتھ اپنے مسائل تھے۔ سب سے بڑا مسئلہ سی پیک کا تھا۔ امریکہ اپنی عالمی پالیسی کے تحت چین کو گھیرنا چاہ رہا تھا۔ اسے محدود رکھنا چاہ رہا تھا۔ اس کے ساتھ تجارتی جنگ میں الجھا ہوا تھا۔ لیکن یہ کیا کہ نوازشریف سی پیک کی شکل میں چین کو گوادر تک لے آیا تھا۔ اسے گرم پانیوں تک رسائی دے دی تھی۔ اس کے نئے تجارتی روٹس کھول رہا تھا۔ ون روڈ ون بیلٹ کے چینی تصور میں اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا۔ اور تو اور روس کو بھی سی پیک کا حصہ بننے کی دعوت دے دی تھی۔ شنگھائی کانفرنس تنظیم کا رکن بن گیا تھا۔ امریکہ سے ہٹ کر وسط ایشیا اور چینی ونڈو کھول رہا تھا۔ وہ پاکستان جو آج تک امریکی مدار کا ایک سیارچہ رہا تھا۔ جس نے ہمیشہ امریکہ پر انحصار کیا تھا۔ آج خود مختار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور اپنی مالی اور معاشی پالیسیاں خود بنا رہا تھا۔ مڈل ایسٹ کا وہ خطہ جس پر بالادستی کے لیے پچھلے پچاس سال میں دو عرب اسرائیل جنگیں لڑی گئیں۔ تین افغان جنگیں ہوئیں۔ دو گلف جنگیں ہوئیں۔ اور جہاں آج بھی شورش چل رہی ہے۔ نوازشریف اس خطے میں چین اور روس کو لا رہا تھا۔

چناچہ مقامی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کا نوازشریف کے خلاف اتحاد ہوا۔ اسے نکالو۔ اور اس کی پالیسیوں کو ریورس گئیر لگاؤ۔ اور اگر نوازشریف مزاحمت کرے تو اسے عبرت کی مثال بنا دو۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے مقامی اسٹیبلشمنٹ کو یقین دلایا۔ ایک دفعہ نوازشریف کی چھٹی ہو گئی۔ تو آپ کے لیے ریالوں اور ڈالروں کے منہ کھول دیے جائیں گے۔ دوسری جانب جس نئے گھوڑے یعنی

عمران خان کو ریس کے لیے تیار کیا گیا۔ اس نے بھی یقین دلایا وہ اپنی کرشماتی شخصیت کی بدولت ملک میں ڈالروں کے انبار لگا دے گا۔ ایک مقام پر ملکی اسٹیبلشمنٹ یہ فیصلہ پہلے ہی کر چکی تھی کہ ملکی سیاست کو پرانے سیاستدانوں سے پاک صاف کر دینا ہے۔ اور اس کے لیے کرپشن ، نیب اور عدلیہ جیسے ہتھیار موجود تھے۔

اس سارے پلان پر حسب پلان عمل ہوا۔ اور نیا سیٹ اپ وجود میں آ گیا۔ فصل کاشت کر دی گئی تھی۔ اب فصل کاٹنے کا وقت تھا۔ اور یہاں سے ہی، شیکسپیئر کی زبان میں، دریافت کا عمل شروع ہوا اور یہ دریافت کا عمل کیا تھا وہ یہ کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ سے دو انتہائی خوفناک غلطیاں ہو گئی ہیں۔ وہ نہ تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پلاننگ کو سمجھ سکے اور نہ عمران خان کی استعداد کو جان سکے۔ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ جس نے ریالوں اور ڈالروں کے پیکجز کا وعدہ کیا تھا۔ اپنی قیمت مانگنے لگی۔ نہ صرف قیمت مانگنے لگی۔ بلکہ اپنی باتیں منوانے کے لیے پاکستان کا مالی اور معاشی بازو بھی مروڑنے لگی۔ تاکہ پاکستان کو اتنا بے دست و پا کر دیا جائے کہ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی شرائط ماننے کو مجبور ہو جائے۔ اور یہ شرائط کیا تھیں۔ سی پیک کا خاتمہ، چین اور روس سے دوری ، چین کے خلاف اتحاد میں شمولیت، بھارت کی بالادستی کو تسلیم کرنا، کشمیر کا من مانا حل پاکستان پر تھوپنا ، اور یمن ، افغانستان اور ایران کے مسائل ، اور ایٹمی پروگرام کو کیپ کرنا۔ چنانچہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج ابھی تک نہیں ملا۔ یو اے ای ادھار تیل دینے کا وعدہ کرکے بدل گیا۔ سعودی پیکج کسی کولڈ سٹوریج میں پڑا ہے۔ یہ مفادات کی سیاست ہے۔ اگر اپ پیسہ چاہتے ہیں تو بیچنے کو کیا ہے ؟ ایک وقت تھا۔ سرد اور گرم جنگوں میں پاکستان امریکہ کی ضرورت بن جاتا تھا۔ لیکن ابھی ایسی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ لینا دینا برابر کا۔

ملکی اسٹیبلشمنٹ بالادستی چاہتی ہے۔ لیکن یہ ملکی مفاد کے خلاف نہیں جا سکتی۔ بھٹو کو پھانسی لگا دی۔ لیکن ایٹم بم بنا لیا۔ اگرچہ بھٹو کو پھانسی لگانے کی قیمت آج تک دی جا رہی ہے۔ اسی طرح سی پیک پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ بھارت اور کشمیر پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ اور ایٹمی پروگرام کیپ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے وعدے اور دباؤ دونوں فارغ دوسری جانب عمران حکومت معیشت میں مکمل ناکام ہو گئی۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے۔ مضبوط معیشت ہی مضبوط ملک کی ضامن ہے۔ اگر پیسہ ہی جنریٹ نہ ہوا۔ تو ملک اور ادارے کی ضروریات کیسے پوری ہوں گی۔

عمران سے ایک غلطی اور ہو گئی ہو۔ وہ یہ سمجھ بیٹھا اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی متبادل نہیں چنانچہ عمران کو رکھنا ان کی مجبوری ہے حالانکہ ملک کے سامنے کوئی ناگزیر نہیں۔

متبادل ہے لیکن صرف نوازشریف رکاوٹ ہے۔ نوازشریف کے خلاف تمام پروپیگنڈہ فیل ہو چکا۔ ڈیل ، ڈھیل اور این آر او کے دعوے ناکام ہو چکے۔ نوازشریف کی خاموشی اور عزم ، حتی کہ مر جانے کی ضد نے اسٹیبلشمنٹ کو بہت کچھ سوچنے اور واپس لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ پنجاب میں ایک اور بھٹو بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ شہبازشریف کا بیانیہ کامیاب نہیں ہوا ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ اور عمران حکومت کی معاشی ناکامی کی شکل میں مقامی اسٹیبلشمنٹ فیل ہوئی ہے۔ قیمت بھی یہ چکائے گی۔ نوازشریف تو کامیاب ہوئے ہیں۔ جسے سیاست سے نکالا جا رہا تھا۔ پوری آب و تاب کے ساتھ سیاست پر چھایا ہے۔ اب جو تبدیلی آئے گی۔ وہ بامعنی اور مفید ہو گی۔


ای پیپر