حلالہ
30 مارچ 2019 2019-03-30

پرانا قصہ ہے انگریز دور کا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دو نیم خود مختار قبیلوں کے درمیان کسی معاملے پر ٹھن گئی، ایک قبیلہ جنگجو قسم کا تھا جبکہ دوسرے کو رقبے اور افرادی قوت میں برتری حاصل تھی، دونوں کے درمیان چھوٹی موٹی جھڑپوں کا سلسلہ چلتا رہتا، لیکن ایک روز کمزور قبیلے کے سردار نے جنگجو قبیلے کا بندہ مار ڈالا۔ معاملہ پولیس سے ہوتا ہوا عدالت جا پہنچا، انگریز جج بڑا سخت تھا، کوئی وکیل قاتل قبیلے کا کیس لینے کیلئے تیار نہ تھا۔ آخر ایک سیانے وکیل نے کیس لڑنے کی حامی بھر لی، معززین قبیلہ نے منہ مانگی فیس ادا کرتے وقت واضح کردیا کہ مقدمہ ہار گئے تو سمجھو جان ہار گئے۔ عدالت میں ساری سماعت انگریزی میں ہوتی، دونوں قبائل کے کسی فرد کے پلے کچھ نہ پڑتا، وکیل باہر آکر اپنے موکل کو جو روئیداد سناتے انہیں یقین کرنا پڑتا۔ معاملہ صاف تھا، چند سماعتوں کے بعد ہی انگریز جج نے قاتل کو سزائے موت سنا دی۔ قاتل قبیلے کا وکیل فاتحانہ انداز میں باہر آیا، قبیلے کے معززین کو اکٹھا کیا، اور انہیں بتایا،

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

تمام گواہ اور ثبوت خلاف تھے، آپ کے سردار کو شہید ہونا پڑے گا۔

اتنا سننا تھا کہ قبیلے کے قائمقام سردار نے بندوق نکال لی، وکیل نے فوری پینترا بدلا، بولا، "میں نے آپ کے قبیلے کی عزت پر آنچ نہیں آنے دی، جج نے حکم دیا تھا، قاتل کو پھانسی دینے سے پہلے اس کی مونچھ مونڈھ دی جائے، میں نے آپ کے غیور قبیلے اور مونچھ کے ایسے اوصاف گنوائے کہ جج قائل ہوگیا، اور باعزت پھانسی دینے کا حکم سنادیا۔" وکیل کی دلیل سن کر قبیلے والوں نے اس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

ن لیگ کے سربراہ میاں نوازشریف کو چھ ہفتوں کیلئے طبی بنیادوں پر ضمانت ملی، ن لیگ فتح کے جذبے سے سرشار ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا شمار ملک کے چند مثبت سوچ رکھنے والے معاملہ فہم سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے، لیکن عدالتی فیصلے کے بعد جب وہ میڈیا کے سامنے آئے تو نجانے پارٹی لائن تھی یا واقعی اسے بڑی کامیابی سمھ رہے تھے، انہوں نے پارٹی کے روائتی انداز میں حکومت کو خوب لتاڑا، بقول ان کے "عدالت میں وزیراعظم عمران خان اور انکے ڈیڑھ درجن چمچوں کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا۔" جبکہ عدالت نے واضح ریمارکس دئیے، درخواست کے ساتھ لگائی گئی میڈیکل رپورٹس میں نوازشریف کی حالت کو تشویشناک قرار نہیں دیا گیا، ان رپورٹس کے مطابق نوازشریف کو علاج کی ضرورت ہے اور علاج جیل میں رہتے ہوئے بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم خواجہ حارث کی جانب سے ہمدردانہ غور کی اپیل پر عدالت نے ضمانت دیدی۔ جو چھ ہفتوں بعد ختم ہوجائے گی، ممکن ہے اس میں ایک دو بار توسیع بھی کردی جائے، لیکن مونچھ بچانے کا فائدہ؟ بیماری ثابت کر دینا کتنی بڑی فتح ہے؟ کیا تاحیات نااہلی ختم ہوگئی؟ کیا نوازشریف طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرکے سیاسی طور پر سرگرم ہو سکتے ہیں؟ کیا کسی پارٹی اجلاس میں اعلانیہ

فیصلے کرسکتے ہیں؟ خاندان والوں اور کارکنوں سے تو جیل میں بھی ملاقات ہورہی تھی، ہاں سابق حکمران جماعت کا سربراہ جتنی دیر جیل میں رہے گا، حکومت شدید دباؤ میں رہے گی، علاج میں کوتاہی جیسی غلطی کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتی، خدانخواستہ جیل میں نوازشریف کو کچھ ہوا تو اس کے بعد جو ہوگا یقیناً ملک کیلئے اچھا نہیں ہوگا۔

کچھ عرصہ پرانی ایک سازشی تھیوری کی بات کرتے ہیں، جس کے مطابق کہا جاتا ہے دھرنے کے دنوں میں مفاہمت کے شہنشاہ نے نوازشریف کو مزاحمت کیلئے ایک باکمال تجویز دی تھی، زرداری صاحب اپنی دیرینہ حسرت کی تکمیل چاہتے تھے، جسے عمران خان نے 30 اکتوبر 2011ء کے تاریخی جلسے میں چند جملے ادا کرکے نامراد کردیا تھا۔ "انہیں" خوش کرنے کیلئے رہی سہی کسر نوازشریف نے کالا کوٹ پہن کر صدر مملکت کے خلاف عدالت میں پیش ہو کر پوری کردی تھی۔ بہرحال تھیوری کے مطابق میاں صاحب نے تجویز پر عمل کرنے کی حامی بھر لی، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے عوامی ردعمل کی پرواہ کئے بغیر حکومت کی کھل کر حمایت کی، اور دھرنا ناکام ہوگیا، لیکن اسکا خاتمہ ایک ایسے سانحہ کے بعد ہوا جس کے فوری بعد حکومت کیلئے کوئی بڑا سیاسی ایڈونچر کرنا ممکن نہ رہا، اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، دہشتگردوں کو فوری انجام تک پہچانے کیلئے خصوصی فوجی عدالتیں قائم کردی گئیں۔ جس پر سابق صدر نے تاریخی تبصرہ کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سیاستدان بھی کل کو ان ہی عدالتوں میں کھڑے ہوں۔ خیر چھ ماہ گزر گئے، میاں صاحب "تجویز" پر عمل کرنے کی ہمت نہیں جتا پا رہے تھے، آخر مفاہمت کے شہنشاہ نے پہل کی اور پشاور میں دھواں دار خطاب کے دوران اینٹ سے اینٹ بجانے کا دبنگ اعلان کر دیا، آصف زرداری کے دیرینہ دوست اور اس وقت وزیر دفاع خواجہ آصف نے فوری طور پر دو ٹوک الفاظ میں مذمت کردی، پھر چند روز بعد ایسا وقت بھی آیا کہ وزیراعظم نے آصف زرداری کو ملاقات کیلئے وقت دینے سے ہی انکار کردیا۔ شکست خوردہ آصف زرداری نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی۔ ایک سال بعد ہی نوازشریف پانامہ لیکس کے بھنور میں ایسے الجھے کہ حکومت کی ناؤ بری طرح ڈولنے لگی، انہیں پھر پیپلز پارٹی کی یاد ستانے لگی، تو آصف زرداری نے اپنی "تجویز" یاد دلائی، نوازشریف نے اس بار پکا عمل کرنے کا یقین دلایا، لیکن تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا تھا، تین اور تیس سال کی خدمت کا فرق واضح کرنے کا وقت گزر چکا تھا، کپتان کے ترکش میں تیروں کا ڈھیر تھا اور کمان اسکے ہاتھ میں تھی۔

سازشی تھیوری کے مطابق شادی سے پہلے کے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی پر میاں صاحب کو تین طلاقیں ہونے میں تین سال لگے، دو سال عدت میں گزرے، اب دوسرے جیون ساتھی نے دوسرا جیون ساتھی چن لیا، زندگی ہنسی خوشی بسر ہورہی، لیکن میاں صاحب کو وہ بیتے دن یاد ہیں، وہ پلچھن یاد ہیں، وہ موسم تو نجانے کیا ہوا، جانے کہاں کھو گیا، سمے سب لے گیا، بس یادیں باقی، اور یادوں سے مجبور میاں صاحب حلالہ چاہتے ہیں۔

نئی سازشی تھیوری کے مطابق ڈیل بذریعہ ڈھیل کی باتیں ہو رہی ہیں، نوازشریف کی ضمانت اور شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج ہونے جیسی پیشرفت کو معاملات طے پانے کی جانب پیش قدمی قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق جیون ساتھی کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں، حلالے کے فضائل بیان کئے جا رہے ہیں، لیکن کیا واقعی حلالہ ہونے جا رہا ہے؟

میڈیکل میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، "Keep alive"، عارضہ قلب میں مبتلا مریض کا مرض جب بہت بڑھ جائے، تو انجام کو زیادہ سے زیادہ موخر رکھنے کیلئے ڈاکٹر مختلف طریقہ علاج اپناتا ہے، مریض کی امید کو زندہ رکھتا ہے، اسے اچھا وقت آنے کے سپنے دکھاتا ہے، لہو گرم رکھنے کیلئے سرابوں کے پیچھے دوڑاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے جہاں امید دم توڑ گئی، مریض دم توڑ گیا، جہاں خواب بے تعبیر ہو گئے، مرض لاعلاج ہو گیا، جہاں سرابوں کی حقیقت کھل گئی، دو قدم چلنے کی سکت نہیں رہتی۔ بادی النظر میں نوازشریف اور مسلم لیگ نواز کے ساتھ یہی کچھ ہورہا ہے۔

ہاں اگر نئی سازشی تھیوری درست ہے، (جس کا فی الحال بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آ رہا) اور واقعی حلالہ ہونے جا رہا ہے تو قوم عمران خان کی صورت میں ایک نیا نوازشریف پلس دیکھنے کیلئے تیار رہے۔


ای پیپر