سیاست نہیں معیشت بچاؤ
30 مارچ 2019 2019-03-30

پاکستان میں سیاست اپنے اُسی ڈگر پر رواں دواں ہے سیاسی کامیابیاں عوام کے لیے کبھی اچھی خبر لے کر نہیں آئیں۔ ان میں عوام کے لیے خوش ہونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کے بر سر اقتدار آنے پر عوام نے جو خوشیاں منائیں وہ قیمتوں کے طوفان میں ماند پڑ گئیں۔ میاں نواز شریف کی رہائی پر ان کی پارٹی نے راہوں میں پھول بچھا کے بھنگڑے ڈالے مگر اس کا فائدہ عوام کو کچھ نہیں ہوا۔ بلاول بھٹو نے آناً فاناً سندھ میں 25 جلسے کر ڈالے بھوک اور غربت کے ستائے ہوئے عوام ان جلسوں میں محو رقص رہے مگر کسی کو کچھ نہیں ملا اگر کوئی فائدہ ہوا تو آصف زرداری اور فریال تالپور کو ہوا ہو گا کہ ان سے نیب کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی مگر نا چنے والوں کے لیے کچھ نہیں ہے۔

ان حالات میں گزشتہ ہفتے پاکستان سے ایک ایسی خبر آئی کہ اگر اس کے سیاق و سباق پر غور کیا جاتا تو شاید پوری قوم خوشیاں منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آتی پھولوں اور مٹھائی کی دوکانوں پر مال ختم ہو جاتا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اکثریت نے یہ خبر سنی ہی نہیں اگر کسی نے سنی بھی تو اس نے اس کے اثرات پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ یا پھر سیاسی وابستگی والے عوام نے اسے حکومت کا ایک نمائشی حربہ سمجھ کر آگے بڑھ گئے حالانکہ اس خبر میں اتنا کرنٹ ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر اس کی تفصیلات جاننے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مزاج یہ ہو گیا ہے کہ خبر جب تک کسی ایک طبقے کے خلاف نہ ہوتو اسے خبر نہیں سمجھا جاتا یہ خبر چونکہ کسی پارٹی کے خلاف نہیں تھی اور نہ ہی اس سے کوئی سکینڈل بنتا نظر آتا تھا اس لیے یہ عوام کے ساتھ ساتھ میڈیا کے لیے بھی مطلوبہ مرچ مصالحہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر نہیں چل سکی۔

خبر یہ ہے کہ تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے والی امریکی کمپنی Exxon اور اٹلی کی کمپنی ANI نے مشترکہ طور پر پاکستان میں قدرتی توانائی کے ذخیرے تلاش کرنے کے ایک جاری منصوبے میں

کامیابی کا بہت بڑا دعویٰ کیا ہے۔ کراچی کے ساحل سے 230 کلو میٹر اندر ایرانی سمندری حدود کے قریب ultra deep drilling کے دوران پریشر کک (pressure kick ) دریافت کر لی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ سائٹ پر تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کی موجودگی یقینی ہے۔ یہ اتنی بڑی خبر ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو کر دعا کرنی چاہیے کہ یہ خبر درست ہوتاکہ اس خطے کی تقدید بدل جائے۔

آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ پٹرول کی آسمان کو چھوتی قیمتیں ہیں ایک لیٹر پٹرول پر حکومت ہر شخص سے 45 روپے کے قریب ٹیکس وصول کرتی ہے۔ پاکستان کا قیمتی زر مبادلہ امپورٹ پر خرچ ہو جاتا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ امپورٹ بل پٹرول پر خرچ ہوتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے 13 بلیئن ڈالر صرف پٹرول کی امپورٹ پر خرچ کیا اندازے کے مطابق اس سال گزشتہ سال کے مقابلے میں پٹرول کی مقامی ڈیمانڈ میں گزشتہ سال کی نسبت 30 فیصد اضافہ کا امکان ہے۔

اگر پاکستان سے تیل نکل آتا ہے تو ماہرین کے مطابق اس آئیل فیلڈ میں تیل کا ذخیرہ اتنا زیادہ ہے کہ پاکستان کو باہر سے پٹرول امپورٹ کرنے کی نہ صرف ضرورت نہیں رہے گی بلکہ چائنہ کو زائد از ضرورت پٹرول بر�آمد کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ ذخائر 50 سے 100 سال تک کی ضروریات کے لیے کافی ہوں گے ۔ اللہ کرے کہ یہ خبر سچ ہو جائے اور اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو پاکستان بہت جلد امیر ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا ۔ ہمارا امپورٹ بل برائے پٹرول زیرو ہو جائے گا اور عوام کے لیے تیل کی قیمت آدھی سے بھی کم رہ جائے گی اس سے سب سے زیادہ فائدہ انڈسٹری کو ہوگا اور ہماری ایکسپورٹ کئی گنا بڑھ جائے گی۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پراجیکٹ پر تیزی سے کام کیا جائے جس کے لیے کافی بجٹ درکار ہو گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان بطور ایک خود مختار ملک کے اگر امریکی کمپنی Exxon سے مطمئن نہیں ہے تو یہ ٹھیکہ کسی روسی کمپنی کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ پہلے بات تو یہ ہے کہ Exxon کمپنی کا شمار دنیا کی با اعتماد اور معتبر کمپنیوں میں ہوتا ہے یہ کمپنی اپنی پیشہ ورانہ مہارت میں ایک نام ہے لہٰذا ان کی ابتدائی Finding غلط نہیں ہو سکتی اب یہ ملک کی سیاسی قیادت پر منحصر ہے کہ اس پراجیکٹ کو عملی شکل کتنے عرصے میں دی جا سکتی ہے۔

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ تھر کول پراجیکٹ نے پہلی بار کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا کام شروع کر دیا ہے اور ابتدائی طور پر 350 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں آنا شروع ہو گئی ہے جو ایک سال تک 1000 میگا واٹ تک ہو جائے گی۔ اگر تھر کول پراجیکٹ میں توسیع کا کام جاری رہتا ہے تو اگلے 5 سالوں میں ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ دوسری جانب دیامر بھاشا ڈیم پر ڈیسکون کمپنی اور ایک چینی کمپنی کو ڈیم بنانے کا ٹھیکہ دی دیا گیا ہے۔ جہاں پانی سے بجلی پیدا کرنے سے ملک میں سستی بجلی کا حصول ممکن ہو گا۔ پاکستان کے لیے آنے والے چند سال نہایت اہم ہیں اور جس طرح کی مثبت خبریں آ رہی ہیں یہ قوی امید ہے کہ اگر موجودہ حکومت اپنے 5 سال پورے کرتی ہے تو مذکورہ مدت کے اختتام پر پاکستان کا معاشی منظر نامہ خاصا تبدیل ہو چکا ہوگا۔

قوم کو یہ باور کرنے کی ضرورت ہے کہ معاشی آسودگی نہ تو نیب کی کارروائی سے حاصل ہو گی اور نہ ہی لانگ مارچ یا احتجاجی مارچ سے کام چلے گا ۔ عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے معاشی محاذ پر جب تک کام نہیں ہو گا کچھ نہیں بدلے گا۔ ماضی میں حکومتیں معاشی طور پر صرف یہ کرتی تھیں کہ ایک رنگ باز قسم کا وزیر خزانہ بٹھا دیا جا تا تھا جس کا سب سے بڑا ٹاسک اعدادوشمار میں جعلسازی کرنا ہوتا تھا۔ جھوٹ تین قسم کے ہوتے ہیں ایک جھوٹ دوسرا سفید جھوٹ اور تیسرا اعداد و شمار ۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ قوم سے جھوٹ بولنے کی بجائے رزلٹ دیا جائے۔


ای پیپر