سندھ، ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا کے واقعات
30 مارچ 2019 2019-03-30

سندھ کے شہر ڈہرکی سے دو ہندو لڑکیوں کا مبینہ اغوا اور مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے کا معاملہ اخبارات اورسیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس واقع کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ لڑکیاں کم عمر ہیں۔سندھ میں مسلسل اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں کہ اغوا کو جائز قرار دینے اور شادی کے لئے مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔جس سے نہ مذہب کی اور نہ ملک کی خدمت ہو رہی۔ یہ معاملہ اسلام آباد کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ لیکن اس پر بڑی سیاست بھی کی جارہی ہے۔

سندھ کے محکمہ منصوبہ بندی کے مانیٹرنگ سیل نے مالی سال 2016-17 کے 896منصوبں میں سے 194 کو غیر معیاری اور 127 منصوبوں کو غیرتسلی بخش قرار دیا ہے۔ ان میں صحت، پینے کے پانی، ماہی گیری، سمیت 39 محکموں کی اسکیمیں شامل ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ میگا منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں سندھ کے گیارہ اداروں کو ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جن اداروں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے ان میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی حیدرآباد ،لاڑکانہ، لیاری، سہون ڈویلپمنٹ اتھارٹیز شامل ہیں۔ جے آئی ٹی نے ان محکموں سے پوچھا ہے کہ کس کام کے لئے کن ٹھیکیداروں کو رقومات جاری کی گئیں اور آج ان منصوبوں کا اسٹیٹس کیا ہے؟

کافی عرصے سے سندھی ادبی بورڈ انتظامی اور مالی بحران کا شکار تھا۔ کسی باقاعدہ چیئرمین کا تقرر نہ ہونے کی وجہ سے فیصلہ سازی اور مالی معاملات نمٹائے نہیں جارہے تھے۔ اخبارات اور ادبی حلقوں میں سندھی ادبی بورڈ اور سندھی لینگوئیج اتھارٹی کے معاملات زیر بحث رہے ۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر بحث چلی اور مہم چلائی گئی کہ ادبی بورڈ کا سیکریٹری کسی نوجوان ادیب کو مقرر کیا جائے۔ اس طرح کی مہم پر سنجیدہ حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ادبی بورڈ میں ایسے کونسے

کام ہیں جس کے لئے کسی نوجوان سیکریٹری کی ضرورت ہے؟ دنیا میں جہاں کہیں اچھی شہرت والے ادبی ادارے موجود ہیں وہاں چیئرمین کے انتخاب کے لئے اس طرح کی کوئی شرط لاگو نہیں۔دوئم یہ کہ اس طرح کے ادارے بیروزگاری ختم کرنے اور روزگار مہیا کرنے کے لئے نہیں بنائے جاتے۔ بلکہ ان اداروں کا کام علم وادب کا فروغ ہوتا ہے۔ ابھی یہ مہم اور بحث چل رہی تھی کہ سندھ حکومت خواب خرگوش سے بیدار ہوئی اور اس نے مخدوم سعید الزماں عاطف کو بورڈ کا چیئرمین مقرر کردیا۔ روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ ہمارے ملک میں ادبی بورڈز سے لیکر رائٹرزگلڈ تک علمی اور ادبی ادارے حکومت اور افسر شاہی کی بیجا مداخلت ، حرفت بازی، اور اقربا پروری کی وجہ سے ہمیشہ نقصان میں رہے ہیں۔ دور کیوں جائیں؟ سندھ پبلک سروس کمیشن کا حشر دیکھ لیں جس کے امتحانات کے نتائج کو سپریم کورٹ مسترد کر چکی ہے۔ بعض ممبران کے بچے بھلے اور کوئی ٹیسٹ پاس کرپائیں، لیکن کمیشن کے مقابلے کے امتحانات دھڑادھڑ پاس کر رہے ہیں اور ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں۔اسی طرح سے لینگوئیج اتھارٹی کو دیکھیں ۔ ماضی میں جو شخصیات چیئرمین رہی ہیں ان کی قابلیت کو بھی دیکھیں۔انسائیکلو پیڈیا کا معیار دیکھیں۔ سوانحی ادب کے نام سے نئی بنائی گئی کیٹگری میں دیئے گئے انعامات کی لسٹ دیکھیں، اس پر کوئی تبصرہ رکنے کے بجائے عجب کی نشانیاں ہی لگائی جاسکتی ہیں۔

سندھی ادبی بورڈ کا بجٹ کروڑوں میں ہے، لیکن ادارے کے زیر اہتمام شایع ہونے والے جرائد مہران، سرتیوں اور گل پھل کی سرکیولیشن اتنی کم ہے کہ یہ اعداد و شمار لکھتے ہوئے ہر کوئی شرما جائے۔ ادبی بورڈ اپنے کام اور نتائج کے حوالے سے عالمی معیار کا علمی ادارہ نہ سہی، لیکن اس کے چیئرمین کے عہدے کے لئے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جس طرح سے مہم چلائی گئی اس سے لگتا ہے کہ یہ بڑا عہدہ ہے۔ قبل ازیں اسی خاندان کے مخدوم طالب المولیٰ، مخدوم جمیل الزماں بھی بورڈ کے چیئرمین رہے ہیں۔ اب مخدوم سعیدالزماں کی تقرری کے بعد مخدوم خاندان نے ہیٹ ٹرک حاصل کر لی ہے۔ جو لوگ گدی نشینی کے خلاف ہیں ان سے گزارش ہے کہ یہ کام خلاف قانون نہیں بلکہ عین روایات کے مطابق ہے۔

مخدوم سعیدالزماں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد بورڈ کے ملازمین کے مسائل حل کرنے اور غریب ادیبوں، شاعروں اور محققیں کی کتابیں شائع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بلاشبہ رعایا پروری بڑے خاندانوں کی شان ہے۔ لیکن اس سے ادب میں غریب پروری کی ایک ایسی روایت کی بنیاد پڑ جائے گی جس کے نتائج ادب اور علم کے حوالے سے مثبت نہیں پڑیں گے۔ آج دنیا میں یہ رواج ہے کہ ادبی تصنیف و تالیف کے معاملات قلمکاروں کی مالی حیثیت کے بجائے میرٹ پر طے کئے جاتے ہیں۔ یہاں پر بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس ادویات عوم کی پہنچ سے دور کے عنوان سے لکھتا ہے کہ حال ہی میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق شایع ہونے والی رپورٹ پڑھ کر لگتا ہے کہ لوگ اب بیمار ہونا چھوڑ دیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ عام بخار، بلڈ پریشر، کھانسی کے علاج کی ادویات کی قیمتوں میں بیس سے پچیس فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ سندھ کے دیہی اور شہروں کے پسماندہ علاقوں میں غیر معیاری ادویات کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ملک کے اندر تیار ہونے والی سستی اور غیر معیاری ادویات سستے میڈٰیکل اسٹورز اور ڈرگ ایجنسیوں کے مالکان کی ملی بھگت سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات کے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ یہ ادویات مختلف امراض کے علاج میں موثر ثابت نہیں ہورہی ہیں۔ ڈرگ ریگیولٹری اتھارٹی کے نام سے ادارہ تو قائم ہے لیکن اس کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ معمول بن گیا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اکثر ادویات کی قیمتوں میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی بیمار ہوتا ہے تو نہ اس کو سستی دوا ملتی ہے اور نہ مناسب علاج۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کو اس ضمن میں فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر