انسانی غلامی کی ڈراؤنی قسم۔ پولیٹیکل ماڈرن سلیوری
30 مارچ 2019 2019-03-30

انسان نے انسان کو غلام بنانے کا سلسلہ تقریباً بارہ ہزار سال پہلے شروع کیا جب کھیتی باڑی شروع ہوئی۔ یہ پتھر کے زمانے کا آخری دور تھا۔ اس کے بعد کانسی اور لوہے کا زمانہ آیا اور گزر گیا۔ تب انسانی تاریخ لکھی جانے لگی۔ صفحہ صفحہ لکھتے لکھتے بارہ ہزار برس بیت گئے اور ہم اکیسویں صدی میں پہنچ گئے۔ انسان نے پتھر سے انفارمیشن ٹیکنالوجی تک کا جادوئی اور جناتی سفر طے کرلیا لیکن انسان کے ہاتھوں انسان کو غلام بنانے کا جرم ختم نہ ہوا۔ انسانی ترقی کے ساتھ انسانی غلامی کی ترقی یافتہ صورتیں سامنے آتی گئیں جسے ’’ ماڈرن سلیوری ‘‘ کہا گیا۔ ماڈرن سلیوری کی تعریف میں انسانی سمگلنگ، جبری مشقت، بچوں سے مزدوری اور زبردستی کی شادیاں وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ماڈرن سلیوری کے ضمن میں انسانی غلامی کی ایک ایسی بری صورت موجود ہے جس کا اصل چہرہ دیکھتے ہی لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ بہت ہی تشویش کی بات یہ ہے کہ لوگوں کو انسانی غلامی کی اِس چڑیل صورت کے بارے میں بتانے کی بجائے اِسے بہت خوبصورت بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ آج کے اِس کالم میں خوشبو میں لپٹی ماڈرن انسانی غلامی کی اِسی منفرد غلاظت کو پہلی بار زیربحث لایا جارہا ہے۔ لوگوں کو غلامی سے نکال کر آزاد اور بااختیار بنانے کے لیے جمہوریت کا نظریہ پیش کیا گیا۔ ابراہم لنکن نے اِس فلسفے کو سادہ ترین زبان میں بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’عام آدمی کے ذریعے عام آدمی کی حکومت عام آدمی کے لیے جمہوریت کہلاتی ہے‘‘۔ بعض مکار گروہوں نے اپنے ممالک میں حکمرانی کے بھینی خوشبو والے مذکورہ فلسفے کو صرف سرورق کے طور پر استعمال کیا اور اندر سے عام آدمی کی حکومت کی مکمل طور پر نفی کی ۔ ایسے مکار گروہوں کا عام آدمی کو حکومتوں کی سربراہی سے دور رکھنے کا مقصد ریاست پر خاندانی تسلط برقرار رکھنا تھا۔ جمہوریت کے خوشنما سرورق کے ساتھ خاندانی تسلط کے بدنما ملاپ کے باعث کوئی آپشن نہ رکھنے والے کروڑوں ووٹروں نے انسانی غلامی کی جدید ترین خفیہ صورت کی حیثیت سے جنم لیا۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کی سربراہی اور اُن کی پالیسیوں پر اختیار اور انتخابات کے ذریعے بننے

والی حکومتوں کا کنٹرول مسلسل مخصوص خاندانوں کے پاس ہی رہا۔ اِن مخصوص خاندانوں نے سیاست کو پیشے کے طور پر اپنایا اور سیاست کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہوئے اِسے وراثت میں اپنی نئی نسل کو منتقل کیا جس سے کروڑوں ووٹروں کے پاس اس بات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہی کہ وہ انہی مخصوص خاندانوں کو اپنا حکمران چنیں۔ اِس ماڈرن انسانی غلامی کی خفیہ صورت کو ہم پولیٹیکل ماڈرن سلیوری کہہ سکتے ہیں جس کی بہترین مثال پاکستان میں موجود ہے۔ ہمارے ہاں تقریباً سب سیاسی جماعتیں مخصوص خاندانوں کے زیرتسلط ہیں۔ جمہوریت میں کسی بھی شہری کو اگر سیاسی عمل سے روکا جائے تو وہ ناقابل قبول جرم ہوتا ہے۔ جمہوری حقوق کی اسی شق کا فائدہ اٹھا کر ہمارے ہاں مخصوص خاندانوں کے افراد اپنی سیاسی جماعتوں کے براہ راست سربراہ بن کر ڈائریکٹ حکومتی سربراہ بننے کے لیے ماردھاڑ شرو ع کردیتے ہیں۔ پولیٹیکل ماڈرن سلیوری کی تازہ ترین جھلک بلاول کے حالیہ ٹرین مارچ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ پہلی بات یہ کہ نوجوان بلاول براہ راست پارٹی کے سربراہ بن گئے جوکہ جمہوری فلسفے کے قتل کے مترادف ہے۔ جمہوریت میں فرد اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بنیاد پر پہلی سیڑھی سے آخری سیڑھی تک جاتا ہے۔ بلاول اپنے نانا، ماں اور باپ کے نام کے سہارے ایک دم آخری سیڑھی پر پہنچ گئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر کسی فرد میں کوئی غیرمعمولی صلاحیتیں ہوں تو بہت کم ایسا ہوا ہے کہ وہ صلاحیت اُتنے ہی معیار کے ساتھ اُس کی آئندہ نسل میں بھی موجود ہو۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو میں غیرمعمولی صلاحیتیں موجود تھیں تو یہ ضروری نہیں کہ بلاول میں بھی وہی صلاحیتیں موجود ہوں۔ بلاول سیاسی حکمرانی کا سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنایا۔ ان کے مرنے کے بعد اب تک یہ نعرہ کہیں سنائی نہیں دیتا کہ آج بھی قائداعظم زندہ ہے ہر گھر سے قائداعظم نکلے گا۔ اس کی جگہ ’’آج بھی بھٹو زندہ ہے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے جو دراصل جمہوریت کے تحت کروڑوں ووٹروں کو پولیٹیکل غلام بنانے کی بدبخت شکل ہے۔ اگر یہ نعرہ اتنا ہی جمہوری اور فائدے مند ہوتا تو دنیا میں یہ نعرے کیوں نہیں لگتے کہ آج بھی ابراہم لنکن زندہ ہے ہر گھر سے ابراہم لنکن نکلے گا، آج بھی چرچل زندہ ہے ہر گھر سے چرچل نکلے گا، آج بھی ماؤزے تنگ زندہ ہے ہر گھر سے ماؤزے تنگ نکلے گا۔ بلاول کے ٹرین مارچ کے ساتھ ساتھ غریب بچوں کے دوڑنے کی ویڈیو اَپ لوڈ ہوئی تو انسانیت اور اصل جمہوریت شرم سے ڈوب گئی کیونکہ عموماً بیمار اور بھوکے آوارہ کتے گاڑیوں کے ساتھ ساتھ کچھ دور تک ایسے ہی بھونکتے اور بھاگتے جاتے ہیں۔ اگر ان بچوں کو سندھ کے وڈیروں کی مسلسل حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی تعلیم دیتی تو کیا یہ بچے ٹرین کے ساتھ ساتھ دوڑتے؟ بلاول کے ٹرین مارچ کے دوران جس طرح جوان اور بوڑھی غریب عورتیں اور بچے ناچتے دکھائے گئے کیا یہ خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ سندھ کی وہ عوام جو اپنے نوزائیدہ بچوں کو بھوک سے مرنے سے نہیں بچا سکتی، سندھ کی وہ عوام جو غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے کیا وہ عوام بلاول کی صرف صورت دیکھ کر خوشی سے خودبخود جھوم اٹھی ہے؟ کیا یہ ہسٹری اور فلسفے کی تمام کتابوں کی نفی نہیں ہے کہ بھوکا اور غیرمحفوظ انسان سیاسی لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پاگل ہو جائے؟ کیا یہ مذہبی اور سماجی جرم کے زمرے میں نہیں آتا کہ عورتوں کو سرعام نچایا جائے؟ انویسٹی گیٹو جرنلزم کرنے والے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ اِن بھوکی عورتوں اور بچوں کو دیہاڑی کے کتنے پیسے کا لالچ دے کر بلایا گیا یا ان کو سندھی وڈیرے کے خوف کے چابک سے یہاں تک ہانکا گیا؟ وہ بچے جو ٹرین کے ساتھ بھاگ رہے تھے کیا اُن کی زندگی کو کوئی حادثہ پیش نہیں آسکتا تھا؟ کیا بچوں کو اس جان لیوا خطرے سے دوچار کرنے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا؟ دنیا کے مشہور سیاسی فلاسفر اور معیشت دان ایڈم سمتھ نے ہماری جیسی جمہوریت کے حوالے سے کہا تھا کہ ’’یہ ناممکن ہے کہ اِن جمہوری ری پبلکن معاشروں سے غلامی کو ختم کیا جاسکے کیونکہ ایسی جمہوریت میں پارلیمان کے بیشتر رکن اور سیاسی رہنما خود انسانی غلامی کے مالکان ہوتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو سزا نہیں دے سکتے‘‘۔


ای پیپر