اعلیٰ درجے کے خوشامدی کی تلاش ۔۔۔؟؟
30 مارچ 2019 2019-03-30

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

مجھے خوشامد کرنے والوں سے محبت ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں یہ خوشامد کرنے والے ’’تمام‘‘ انسان نہیں ہوتے ویسے یہ ’’خاص‘‘ بھی نہیں ہوتے ۔۔۔ ؟؟!!! پچھلے دنوں اِک رن مرید نے مجھ سے رابطہ کیا ’’اور عرض‘‘ کی ۔۔۔ حضور والا ہم بھی خوشامدوں کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیںیا نہیں ۔۔۔ ؟؟!!! (آپ یہاں پر تصور نہ کریں کہ ہم بھی رن مریدوں کی صف میں کھڑے ہیں؟!!)

آپ حیران نہ ہوں ۔۔۔ ’’رن مرید‘‘ درجے میں خالص خوشامدی سے ’’نہیں بچے‘‘ کے درجے پر فائز ہیں کیونکہ ’’رن مرید‘‘ نے صرف بیوی کی خوشامد کا بیڑہ اٹھا رکھا ہوتا ہے، ہر دم بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔۔۔ بیوی جتنی بھی ظالم ہو اُس نے بہر حال رن مرید کو آخر کار اپنے ’’پیروں کے نیچے چھپا‘‘ ہی لینا ہوتا ہے (اخلاقیات بھی تو کوئی چیز ہے؟) ویسے یہ ’’رن مریدی‘‘ بھی اِک عرصہ تک چلتی ہے اُس کے بعد مرد کے اندر سے اکھڑ قسم کا نہایت بدتمیز مرد باہر نکل آتا ہے اور عورت بیچاری منہ دیکھتی رہ جاتی ہے اور مرد ۔۔۔ کے طور پر کہنے لگتا ہے ۔۔۔ ’’آخر اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت بھی تو دے رکھی ہے ۔۔۔؟؟‘‘ یہ وہ مردانہ ہتھیا ر ہے جس کا مقابلہ کسی ۔۔۔ یا تلوار سے ہونا ممکن نہیں ۔۔۔؟؟

ایک آدمی جو جوانی میں رن مرید رہا تھا اور بیوی کی فرمانبرداری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ۔۔۔ بڑھاپے میں پہنچا تو ایک دن اِک بچپن کا دوست کھانے پر آیا ۔۔۔ وہ یعنی سابقہ رن مرید ۔۔۔ بیوی کو ہر بات پر ’’جانو‘‘ کہہ کر محبت سے پکارتا ۔۔۔ جانو یہ پکڑو ۔۔۔ جانو یہ دیکھو ۔۔۔ جانو یہ کھاؤ ۔۔۔ یہ پہنو جانو ۔۔۔؟؟!!!

بچپن کے دوست نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔ ارے بھائی اب تو یہ خوشامد یا رن مریدی سے کنارہ کشی اختیار کو لو ۔۔۔ کیا جانو ۔۔۔ جانو لگا رکھی ہے تم نے ۔۔۔؟!!

دوسرے نے مسکراتے ہوئے ۔۔۔ پہلے کے کان میں آہستہ سے کہا ۔۔۔ ’’اصل میں گھبراؤ مت بتاتا چلوں کہ میں بیوی کا نام بھول چکا ہوں اِس لئے ’’جانو ۔۔۔ جانو ‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں ۔۔۔

ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ ۔۔۔ رن مرید صرف اِک عدد یا کہیں کہیں دو عدد بیویوں کے تا بعداری کا فریضہ سر انجام دیتا ہے جبکہ خوشامدی عادت سے مجبور، ہر اک کی خوشامد کرنا ہوتی ہے ۔۔۔ ہمارے دوست جن کے ہاں جب بھی ہم گئے۔ اُنہوں نے کھانا اصرار کر کے کھلایا اور آپ سن کر خوش ہوں گے کہ ہر بار ہمیں کھانے میں ’’ساگ‘‘ ہی پیش کیا گیا ۔۔۔ کیونکہ ہماری بھابھی صاحبہ کے ابو جان کے ۔۔۔ گاؤں میں ’’ساگ کے باغ‘‘ ہیں ۔۔۔ بھا بھی صاحبہ کے ساتھ ساتھ سسر صاحب کو بھی خوش کر ڈالتے ہیں ۔۔۔ اِک ۔۔۔ یعنی اپنی رن مریدی کا فریضہ بھی سرانجام دے ڈالا اور سسر صاحب کی خوشامد بھی لگے ہاتھ کر ڈالی ۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ جب بھی اُس کے اصرار پر کھانا کھایا ۔۔۔ دو تین دن پیٹ میں ’’گڑ گڑ گڑ گڑ‘‘ ہوتی رہی اور ہم ’’ساگ‘‘ کے فیض و برکات اور ساگ کی موجودہ صدی میں اہمیت و افادیت پر لیکچر بھی سنتے رہے ۔۔۔ حالانکہ درپردہ اِک رن مرید خوش آمدی اپنی عادت پوری کر رہا تھا۔

گاؤں میں اِک خوشامدی ہمارے دوست خاصے بڑے زمیندار ہیں لیکن گائے بھینس کے لئے چارہ ( پٹھے) لانے کے لئے انہوں حسب دستور گدھا گاڑی بھی رکھی ہوتی ہے۔ نئے ماڈل کی کالے رنگ کی کرولا کے ساتھ اُن کی ’’کھوتی‘‘ بھی بندھی ہوتی ہے۔ اِک دن ہم نے دیکھا موصوف گدھا گاڑی پر چارہ (پٹھے) لاد کے کھوتی ریڑھی پر گاؤں کی طرف آرہے تھے۔ جانور نے ذرا سستی کا مظاہرہ کیا اور کچی سڑک پر آگے جانے سے انکار کر دیا ۔۔۔ انہوں نے وہاں بھی خوشامد کا دامن نہیں چھوڑا اور آہستہ سے اُس کے کان کے پاس منہ کر کے بولے ۔۔۔؟!

’’چل میری بہن ۔۔۔ جلدی سے گاؤں لے جا ۔۔۔ یہ لاہور سے آئے ہوئے تماش بین قسم کے لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔ گاؤں میں کھوتی بھی اِن کی بات نہیں مانتی ۔۔۔؟!! چل شاباش جلدی چل ۔۔۔ چل میری بہن شاباش‘‘ ۔۔۔ جس کی خوشامد ہو رہی ہوتی ہے ۔۔۔ اُس کی گردن میں سریا کیوں نہ آئے ۔۔۔؟؟!! لوگ یعنی خوشامدیوں کاغول جس کے گرد ہوگا ۔۔۔ وہ اپنی اوقات تو پھر دکھائے گا ناں ۔۔۔؟؟!!!

فواد چوہدری کسی گاؤں میں گئے ۔۔۔ گاؤں والوں نے خوب آؤ بھگت کی ۔۔۔ فواد نے کہا ’’آپ کے کچھ مسائل ہوں تو ہمیں بتائیے‘‘؟ ۔۔۔ گاؤں کے بھولے بھالے لوگوں نے کہا کہ ’’ہمارے دو مسائل ہیں ۔۔۔ ایک تو یہ کہ ہمارے گاؤں میں ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے‘‘ ۔۔۔؟

فواد مسکرائے ۔۔۔ کرتے کی جیب سے اپنا موبائل نکالا ۔۔۔ کسی سے بات کی اور گاؤں والوں سے کہا کہ ’’آپ کا یہ مسئلہ ہو گیا ہے ۔۔۔ ہماری بات ہو گئی ہے اوپر ۔۔۔ جلد ہی گاؤں میں ڈاکٹر آ جائے گا ۔۔۔؟!

گاؤں والوں نے فواد جی کو دیکھا ۔۔۔ کہا کچھ نہیں۔۔۔؟

فواد جی نے پھر کہا کہ آپ ہمیں اپنا دوسرا مسئلہ بتائیں ۔۔۔؟

گاؤں والوں نے دھیرے سے کہا ۔۔۔ ’’ہمارا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس گاؤں میں کسی موبائل فون کا نیٹ ورک نہیں‘‘ ۔۔۔!


ای پیپر