پاکستان کی سیکنڈ سٹرائیک صلاحیت: ایک اور پیش رفت
30 مارچ 2018

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے 29مارچ2018ء کو سب میرین کروز میزائل بابر کا ایک اور کامیاب تجربہ کیا۔ سب میرین کروز میزائل بابر 450 کلومیٹر تک ہر قسم کے وار ہیڈ کو ہدف پرپھینک سکتا ہے۔ میزائل کو مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ میزائل نے کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔ کروز میزائل بابر کو زیر آب ایک متحرک پلیٹ فارم سے داغا گیا جس کے ساتھ ہی پاکستان نے ’’جوابی ایٹمی حملے سیکنڈ سٹرائیک ‘‘ کی صلاحیت کو بھی مزید مستحکم بنالیا ہے۔ میزائل جدید گائیڈنس اور نیوی گیشن کی خصوصیات کا حامل ہے۔ میزائل کی تیاری اور تجربہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پڑوس میں ایٹمی آبدوزیں متعارف کرانے اور بحری جہازوں پر ایٹمی میزائلوں کی تنصیب سے جس طرح بحرہند کو ایٹمی خطہ بنانے کی جارحانہ پالیسیاں اختیار کی گئی ہیں پاکستان ان کا جواب دے سکتا ہے۔ ڈی جی سٹرٹیجک پلان ڈویژن، چیئرمین نیسکام دیگر حکام نے تجربہ دیکھا۔ صدر مملکت، وزیراعظم، چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے بھی سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔
وطنِ عزیز کی جوہری قوت پاکستان کا ایک عظیم اثاثہ اور سرمایہ ہے۔ پاکستان کے کروڑوں عوام نے اس کے لیے گزشتہ پونے پانچ عشروں میں بے مثال مالی ایثار کا مظاہرہ کیا ہے۔ دفاعِ وطن کے لئے ناگزیر ہے کہ جوہری قوت پر مزید رقم خرچ کی جائے۔ آنے والے دور کی جنگ محض ٹینکوں کی جنگ نہیں ۔ محض کئی گنا بہتر ٹینکو ں کے ذریعے میدانِ جنگ میں یپش قدمی اور فتح حاصل کرنے کا تصور جدید دور میں مسترد کیا جا چکا ہے۔ دفاعِ پاکستان کے لئے پاکستانی عوام کی اکثریت پہلے بھی ساگ پات اورگھاس پر گزارہ کر رہی ہے اور اگر اسے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر بنانے کی یقین دہانی کرادی جائے تو اس کی اکثریت مستقبل میں بھی غربت کی لکیر سے نیچے تلخ تر زندگی کے جبر کو خندہ پیشانی اور شگفتہ روئی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی جانب سے پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن کے بعد بھارت کی جانب سے بھی ایسی ڈاکٹرائن سامنے آسکتی ہے۔ ایسے میں ضرورت ا س امر کی ہے کہ پاکستان فضائی بالادستی، میزائل ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے مزید میگا پراجیکٹس کا آغاز کرے۔ خلائی مواصلاتی جاسوسی ٹیکنالوجی میں مہارت کے منصو بوں کو بھی آگے بڑھایا جائے۔ عوامی شہری حلقوں کے نزدیک مستقبل میں وطنِ عزیز کے استحکام دفاع کی ترجیحات میں بحری بیڑے کی تیاری، جوہری اہلیت میں اضافہ، خلائی مواصلاتی جاسوسی ٹیکنالوجی کا فروغ، ریڈار نظام کی ترقی، میزائل ٹیکنالوجی میں بڑھوتری، ایٹمی جوہری تنصیبات کی حفاظت کے لئے ایٹمی چھتری کا حصول ازبس ضروری ہے۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے 25جنوری2017ء کومیزائل ٹیکنالوجی میں ایک اور اہم اور دور رس نتائج کی کامیابی حاصل کر لی تھی۔ پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ’’ابابیل‘‘ کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ میزائل ریڈار کو دھوکہ دینے اور ایک سے زیادہ نیو کلیائی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’’ابابیل‘‘ کے کامیاب تجربے کے بعد پاکستان ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو بیک وقت ایک میزائل سے ایک سے زائد ایٹم بم داغتے ہوئے کامیابی کے ساتھ دشمن کے کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں جبکہ بھارت کے پاس یہ میزائل اور ٹیکنالوجی نہیں۔ اس طرح پاکستان کو بھارت پر میزائل کے شعبے میں نمایاں برتری حاصل ہو گئی ہے۔ ’’ابابیل‘‘ میزائل بھارت کے میزائل شکن نظام کو ناکارہ کر کے رکھ دے گا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ابابیل کثیر الجہتی خود مختاری انٹری وہیکل (ایم آئی آر وی) ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر طرح کے ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ٹیسٹ کا مقصد اس ہتھیار کے نظام کے ڈیزائن اور ٹیکنیکل پیرا میٹرز کی جانچ کرنا تھا۔ ابابیل میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور دشمن کے ریڈار سے بچ کر اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایک میزائل پر ایک سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی ٹیکنالوجی صرف امریکہ، روس، چین اور فرانس کے پاس تھی۔ پاکستان اس ٹیکنالوجی پر مبنی میزائل بنانے والا دنیا کا پانچواں ملک ہے۔ ابابیل میزائل ایک مخصوص فاصلے پر پہنچ کر مختلف اہداف کو اپنے وار ہیڈ سے نشانہ بناتا ہے اور اس طرح دشمن کا اینٹی میزائل نظام غیر مؤثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان کے چھوٹی اور درمیانی رینج کے بہت سے میزائل موجود ہیں، ان میں ابابیل نیا اضافہ ہے۔ اس میزائل کی آمد سے بھارت کے پاس روسی اور اسرائیلی ساخت کا میزائل شکن نظام غیر مؤثر ہو گیا ہے۔ 2012ء میں بھارت کے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا تھا کہ بھارت کا میزائل شکن نظام 2 ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والے میزائل سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے تاہم پاکستان کی طرف سے 22 سو کلو میٹر رینج والے بیلسٹک میزائل کے تجربے نے اس کے میزائل شکن نظام کو بے اثر کر دیا ہے۔ ابابیل میزائل کے تجربے سے قبل 9 جنوری کو پاکستان میں آبدوز سے باہر تھری میزائل کا تجربہ کر کے سیکنڈ سٹرائیک کی صلاحیت حاصل کی تھی۔ ابابیل میزائل کے تجربے سے پاکستان کی سیکنڈ سٹرائیک صلاحیت مزید بہتر ہو گئی ہے۔
گزشتہ دنوں چین نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو مزید بہتر اور مؤثربنانے کے لیے جدید ترین ٹریکنگ سسٹم فراہم کیا۔ اس سسٹم کی مدد سے ملٹی وار ہیڈ میزائلز کی تیاری تیز تر کی جاسکے گی،نئے چینی ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے پاکستان کے لیے دشمن کے متعدد شہروں اور فوجی تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنانا ممکن ہوچکا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ اس سودے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی تصدیق گزشتہ دنوں چینی حکام نے اپنے اعلان میں کی ۔ چین کے معروف اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق چینی اکیڈمی آف سائنسز کی ویب سائٹ پر بیان جاری ہوا جس میں بتایا گیا کہ’ چین پاکستان کو اس قسم کے حساس آلات برآمد کرنے والا پہلا ملک ہے‘ ۔ مارننگ پوسٹ کے مطابق’ پاکستان اپنے جدید میزائلز میں ایم آئی آر وی کی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے خوب تر بنانے کی کوشش کررہا ہے‘۔ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف آپٹکس اینڈ الیکٹرانکس چینگ ڈو کے ریسرچر ژینگ مینگ ووئی نے ہانگ کانگ کے اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ’ پاکستان نے ایک اعلیٰ اور جدید ترین بڑے پیمانے کا حامل آپٹکل ٹریکنگ اور میرمنٹ سسٹم چین سے حاصل کیا ہے،پاکستانی فوج نے حال ہی میں ایک فائرنگ رینج میں چین کا تیار کردہ یہ سسٹم آزمائش اور اپنے نئے میزائلوں کو مزید ترقی دینے کیلئے استعمال بھی کیا ہے‘ ۔ادھر بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ’ یہ حساس نظام کئی سو کلومیٹر تک مختلف زاویوں سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ ۔ واضح رہے کہ چین کی جانب سے فراہم کردہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور ٹریکنگ سسٹم اعلیٰ کارکردگی کی حامل ٹیلی سکوپ سے جو لیزر رینجر ، ہائی سپیڈ کیمرے ،ان فریڈ ڈیٹیکٹر اور مرکزی کمپیوٹر سے منسلک ہوتی ہے اوریہ اپنے ہدف کو خودبخود نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے خواہ وہ حرکت کر رہا ہو،اس میں نصب ڈیوائس ،لانچر سے میزائل چھوڑنے ،اس کے الگ ہونے اور ٹارگٹ تک پہنچنے کو مکمل طو رپر ریکارڈ کرتی ہے ۔یہ امر پیش نظر رہے کہ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس کمیٹی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ’ پاکستان نے جنوری 2017 میں نیوکلیئر میزائل ابابیل کا تجربہ کیا تھا جو جنوبی ایشیا کا پہلا ایم آئی آر وی میزائل ہے، یہ فضا میں بلند ہونے کے بعد اپنے اختتامی ہدف کی سمت بڑھتے دوران راستے میں آنے والے مختلف اہداف کی سمت بھی وارہیڈز گراتے ہوئے اور انہیں تباہ کرتے ہوئے محو پرواز رہتا ہے، اس طرح یہ ایم آئی آر وی دشمن کے میزائل ڈیفنس کو ناکام بنا دیتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دوسری جانب بھارت اب تک ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی کو اپنے میزائلز میں استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔ واقفان حقائق جانتے ہیں کہ ایم آئی آر وی کی بدولت صرف ایک بیلسٹک میزائل ہی کو متعدد وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو الگ الگ اہداف کو نشانہ بناسکتے ہیں، اس طرح صرف ایک میزائل ہی کئی میزائلز جتنا خطرناک اور ہلاکت خیز ثابت ہوسکتا ہے؟
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وطنِ عزیز کا دفاع افواجِ پاکستان کے مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے۔مقامِ تشکر ہے کہ افواجِ پاکستان کا شمار دنیا کی ہر لحاظ سے بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ بحمد للہ افواجِ پاکستان کے داخلی نیٹ ورک، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مضبوط ، بہتر اور مستحکم ترین ہے۔ افواجِ پاکستان اس لحاظ سے دنیا کی منفرد ترین افواج ہے کہ اس کا ماٹو ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ یہ بات بآسانی کہی جا سکتی ہے کہ افواجِ پاکستان دنیا کی پہلی نظریاتی افواج ہے۔ اسی تشخص کے باعث پاکستان کے عوام اپنی افواج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ یہ بات پورے وثوق اور تیقن کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے کی فوج کو اتنی زبردست اور فقید المثال عوامی پشتیبانی اورتائید و حمایت حاصل نہیں ہے۔ پاک افواج کا یہ منفرد اعزاز اقوامِ عالم کی صف میں اس کے مورال اور قد کاٹھ کو بلند کرتا ہے۔ وطنِ عزیز کی افواج کی اہلیتوں اور صلاحیتوں پر اس کے شہریوں کو مکمل اعتماد ہے۔ اس اعتماد کو کسی صورت مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ اسی صورت وطنِ عزیز میں داخلی امن و امان کی صورت حال جنت نظیر ہوگی۔اندریں حالات ناگزیر ہے کہ وہ نااہل سیاستدان جو افواجِ پاکستان کی شبانہ روز کردار کشی کر رہے ہیں ان کی بھی آہنی ہاتھوں سے سرکوبی کی جائے۔


ای پیپر