ن لیگ میں جانشینی کی خفیہ جنگ
30 مارچ 2018

پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کو اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پارٹی کے فاؤنڈر میاں محمد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ اور پارٹی سربراہی سے ہٹایا جا چکا ہے لیکن ان کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔ اب تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی انہیں کرپشن الزامات پر سزا کا اشارہ دے دیا ہے کہ نواز شریف جیل میں بیٹھ کر پارٹی چلائیں گے۔ شیکسپیئر کا مشہور قول ہے "When sorrows come, they come not single spies, but in battallions!" صدمے کسی جاسوس کی مانند اکیلے نہیں آتے بلکہ فوج کی بٹالین کی طرح مل کر حملہ آور ہوتے ہیں۔
حکمران لیگ کی یہ بہادری ہے کہ اب تک پارٹی میں فارورڈ بلاک نہیں بن سکا لیکن اندر سے بہت سے fence sitters ہوا کے رخ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر کی میاں صاحب سے کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی ان کے میاں صاحب کے مخالفین سے عشق ہو گیا ہے بلکہ وہ تو محض اپنے مفاد کی خاطر فیصلہ کرتے آئے ہیں۔
پارٹی کے اندر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شہباز شریف کے پارٹی سربراہ بن جانے کے بعد ان کی خالی کردہ پوزیشن یعنی ( ن ) لیگ پنجاب کا سربراہ کس کو بنایا جائے۔ اس سوال کے ساتھ ساتھ پارٹی کو یہ خطرہ بھی پریشان کیے رکھتا ہے کہ میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد عہدہ سنبھالنے والے شہباز شریف پر بھی نا اہلی کی تلوار ویسے ہی لٹک رہی ہے جس کا سامنا دو سال تک نواز شریف کو رہا اور بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ملتان میٹرو، بہاولپور کا قائداعظم سولر پاور منصوبہ، نندی پور پراجیکٹ، صاف پانی کمپنی، ایل ڈی اے لاہور اور نیب کے تحت دیگر زیر سماعت مقدمات میں الزامات کی مجموعی مالیت 100 ارب روپے کا بنچ مارک عبور کر چکی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی رپورٹ کسی بھی وقت ملک میں تہلکہ مچا سکتی ہے۔ لہٰذا پارٹی کو سب سے پہلے یہ سوچنا ہے کہ شہباز شریف کی نا اہلی کی صورت میں ان کا جانشین کون ہو گا۔
جہاں تک پنجاب کی سربراہی کا معاملہ ہے یہ وفاق سے زیادہ اہمیت اس لیے رکھتا ہے کیونکہ ( ن ) لیگ کی ساری طاقت پنجاب میں ہی قائم ہے۔ سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے میں پارٹی برائے نام ہے۔ اس وقت راجہ اشفاق سرور، رانا ثناء اللہ، سعد رفیق، مریم نواز، حمزہ شہباز اور رانا محمد اقبال کے ناموں پر غور ہو رہا ہے کہ ان میں سے کسی کو بنا دیا جائے لیکن ان میں کوئی بھی اتنی اہلیت نہیں رکھتا کہ وہ شہباز شریف کا متبادل ثابت ہو سکے۔ پارٹی کو یہ فیصلہ جلدی کرنا ہو گا کیونکہ انتخابات بہت قریب آ چکے ہیں لیکن پارٹی کو یہ خوف بھی ہے کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی منحرف قیادت وہ کام نہ کر دے جو آج تک نہیں ہوا یعنی فارورڈ بلاک۔
یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ اس پارٹی میں منحرفین میں تاریخی طور پر بڑے بڑے نام شامل ہیں جو اپنے اپنے وقت میں پارٹی اور قیادت کے لیے ناگزیر ضرور ہوا کرتے تھے۔ آپ حامد ناصر چٹھہ سے شروع ہو جائیں۔ میاں منظور وٹو، گوہر ایوب ، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی، جاوید ہاشمی، سردار ذوالفقار کھوسہ، سردار مہتاب عباسی، غوث علی شاہ اور آخر میں چوہدری نثار علی خان۔ اس وقت پارٹی میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے مقابلے میں ایسی قدو قامت کا کوئی لیڈر موجود ہی نہیں ہے جو انہیں چیلنج کر سکے۔ راجہ ظفر الحق سینئر موسٹ ہیں لیکن calibre نہیں رکھتے۔ جس نے بھی پارٹی لائن سے اختلاف کیا اُسے پارٹی سے رخصت ہونا پڑا اور ماسوائے چوہدری شجاعت حسین کے کسی بھی رخصتی کے موقع پر پارٹی تقسیم نہیں ہوئی۔
چوہدری شجاعت حسین کو یہ اعتراض تھا کہ جدہ جانے کے لیے جو مذاکرات ہوتے رہے اس میں پارٹی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی گئی۔ ان کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ نوا زشریف نے جدہ کے جہاز میں بیٹھ کر کھڑکی سے ایک پرچی باہر پھینکی جس پر جاوید ہاشمی کا نام لکھا تھا بطور پارٹی سربراہ۔ چوہدری شجاعت نے فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد (ق) لیگ وجود میں آئی اور پانچ سال حکومت کرنے کے بعد چوہدری شجاعت کے سوا پوری کی پوری پارٹی ہوا میں تحلیل ہو کر پھر نون لیگ میں ضم ہو گئی۔ نواز شریف کی بنیادی شرط تھی کہ معافی مانگتے جاؤ اور آتے جاؤ البتہ چوہدری برادران نے معافی مانگنے سے انکار کیا اور تنہا کھڑے رہے مگر جھکے نہیں۔
جاوید ہاشمی کو نواز شریف کا ساتھ دینے پر جنرل مشرف کے دور میں عدالت سے سزا ہوئی، وہ چار سال جیل میں رہے مگر انہیں پارٹی چھوڑنا پڑی کیونکہ میاں نواز شریف انہیں اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے ۔ جاوید ہاشمی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ پارٹی کے سینئر نائب صدر تھے مگر انہیں نواز شریف سے ملاقات کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس انتظار کے بعد بقول ہاشمی انہیں نواز شریف نے صرف 20 منٹ دیئے۔ ان کا Dillemma یہ تھا کہ وہ تحریک انصاف میں چلے گئے تو انہیں پھر نواز شریف کی یاد ستانے لگی ایک دفعہ کہہ بیٹھے کہ میں اب بھی نواز شریف کو لیڈر مانتا ہوں۔ جس پر پارٹی نے انکوائری طلب کر لی۔ اب وہ پارٹی سے باہر بیٹھ کر ( ن ) لیگ کی حمایت کرتے ہیں۔ جاوید ہاشمی اور چوہدری شجاعت حسین میں یہی فرق ہے۔ یہاں پر چوہدری سرور کا ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا۔ انگریزی کہاوت ہے کہ ’’وہ آیا اس نے دیکھا اور اس نے فتح کر لیا‘‘ چوہدری سرور جس تیزی کے ساتھ پارٹی میں آتے ہی ٹاپ پر چلے گئے۔ لُڈو کے کھیل میں ایک سیڑھی ہے جو کھلاڑی کو 18 سے 90 پر لے جاتی ہے، چوہدری سرور کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مگر اس کھیل میں سب سے زہریلا سانپ وہ ہوتا ہے جو 97 پر آپ کو ڈنک مارتا ہے اور آپ واپس 15 پر آجاتے ہیں۔ چوہدری سرور نے ہجر اور وصال کے، یہ دونوں مزے لیے اور بالآخر ان پر ایک وقت یہ بھی آیا کہ وہ بطور گورنر پنجاب ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو فون کرتے تھے تو وہ افسر ان کا فون نہیں سنتا تھا۔ انہیں پتا چلا کہ خادم اعلیٰ نے بیورو کریسی کو کہا ہے کہ گورنر کے احکام پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ انہوں نے گورنری چھوڑی اور تحریک انصاف کا رخ کیا۔
یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ( ن ) لیگ میں جو جانشین قیادت ذمہ داریاں سنبھالنے والی ہے انہیں پتا ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی نہیں کر سکتے۔ بقول ظفر اللہ جمالی جو آپ کو لاتے ہیں وہ آپ کو گھر بھی بھیج سکتے ہیں۔ مذکورہ فہرست میں ہم میر ظفر اللہ جمالی کا ذکر کرنا شاید بھول گئے تھے۔ انہوں نے بھی موقع کے مطابق فیصلہ کیا اور پارٹی چھوڑ کر وزارتِ عظمیٰ پائی۔
چوہدری نثار علی خان کا تعلق ہاشمی سکول کی بجائے شجاعت سکول سے ہے۔ ویسے نواز شریف اپنے تئیں جو مرضی سمجھیں پارٹی قیادت اس وقت شہباز شریف کے ہاتھ آ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف اپنے پرانے اور وفادار دوست نثار علی خان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ دونوں نے خار زارِ سیاست میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کا ہمیشہ مل کر اور ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے لیکن کیسا اتفاق ہے کہ اس وقت دونوں آمنے سامنے ہیں۔ دونوں کے درمیان Battle Lines ابھی تک کلیئر نہیں ہوئیں۔ خاقان عباسی کو وزیراعظم بنانے کی وجہ سے چوہدری نثار کا یہ احتجاج بجا ہے کہ ’’لائی بے پروا نال یاری تے ٹٹ گئی تڑک کر کے‘‘ نثار علی سمجھتے ہیں کہ وہ عباسی صاحب سے سینئر ہیں لیکن میاں صاحبان کا اپنا criteria ہے۔ چوہدری نثار علی خان ( ن ) لیگ کے گھر کے بھیدی ہیں اب اگر وہ پارٹی میں split کے لیے کوئی ایڈونچر کرتے ہیں تو اس کا مقابلہ کرنا خاصا مشکل ہو گا کیونکہ پارٹی کے اندر ہر سطح پر انہیں رابطے کرنے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ کالم لکھتے ہوئے ہمیں ایچی سنی کالج میں نثار علی خان کے استاد پروفیسر Lang land کی یہ پیش گوئی یاد آرہی ہے جس میں انہوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ یہ ایک دن پاکستان کا وزیراعظم بنے گا۔


ای پیپر