30 مارچ 2018

پارلیمنٹ میں ارجن لال مینا کے ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے سماجی انصاف رام داس اٹھاولے نے جانکاری دی کہ 2016ء میں دلتوں کے خلاف امتیاز اور بے عزتی سے جڑے 40774معاملے درج کئے گئے ہیں۔جس میں ایس سی کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف امتیاز اور بے عزتی سے جڑے معاملے درج ہیں۔دلتوں اور پس ماندانہ ذاتوں کے ساتھ امتیازی رویے و سلوک کے واقعات ہندوستان میں نئے نہیں ہیں۔یہ معاملات اور رویے ہر دن سامنے آتے ہیں۔چند واقعات بطور مثال بیان کیے جا رہے ہیں۔i)گزشتہ دنوں یہ خبر آپ کے علم میں آئی ہوگی کہ کیرالہ کا رہائشی اے کے رام کرشنن ایک سول ملازم تھا اور وہ وزارت رجسٹریشن اور ماہی گیری میں انسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہا۔ اس دوران اس کا اپنا ایک علیحدہ دفتر بھی تھا۔ مارچ کے آخر میں رام کرشنن ریٹائر ہو گیا لیکن اس کے دفتر والوں نے اس کے جانے کے فوراً بعد ہی ایک ایسی حرکت کی، جس نے اسے مزید افسردہ کر دیا۔ انہوں نے رام کرشنن کے دفتر کو گائے کے گوبر ملے پانی سے دھو یاتا کہ اسے'پاک' کیا جا سکے۔ii)وزیر اعظم نریندر مودی کے پروگرام ''پریکشا پے چرچا ''کو جب ملک بھر کے سرکاری سکولوں میں ٹی وی کے ذریعے دکھایا جا رہا تھا تب ہماچل پردیش کے ایک دلت طالب علم کو کلاس سے باہرالگ بٹھا یا گیا۔متاثرہ طالب علم نے اپنی شکایت میں کہا کہ ان کے ایک ٹیچر نے طلبا کو ٹیلی ویژن کے سامنے بٹھایا اور مجھے گھوڑے کے اصطبل میں بٹھایا اور کہا کہ میں اپنی جگہ نہ بدلوں۔iii)روہت ویمولاکی خود کشی کا واقعہ سب ہی کو اچھی طرح یاد ہے۔روہت نے اپنی ساری زندگی علم کے میدان میں لگائی تھی اور جب ملک میں رواداری اور عدم رواداری کا معاملہ آیا تو اس نے رواداری کا ساتھ دیا اور فرقہ پرست لوگوں کے خلاف صدا بلند کی جس کی وجہ سے اس کو ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا نیزبائیکاٹ کیا ساتھ ہی سیاسی دباؤڈالا گیا جس کے نتیجہ میں اس نے خودکشی کرلی۔اس واقعہ نے گزشتہ دنوں پورے ملک میں ایک طوفان کھڑا کردیا تھا جسے ملکی اور بین الاقوامی ہر دوسطح کے میڈیا نے کوربھی کیا تھا۔
ہندوستان میں دلتوں اور پس ماندہ ذاتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے معاملات بے شمار ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے تنظیم کی جنیوا میں ہو ئے ایک اجلاس میں کئی ممالک نے ہندوستان کو دلتوں، خواتین، مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد روکنے کی صلاح دی تھی۔اقوام متحدہ نے 2008ء سے یونیورسل پریوٹک ریویو نام کی روایت شروع کی تھی جس کے تحت ہر چار سال میں رکن ملک انسانی حقوق کے معاملات پر ایک دوسرے سے جواب مانگتے ہیں۔اس دوران ہندوستان کی طرف سے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کئی ممالک کے سوالات کے جواب دیے ۔انہوں نے کہا کہ اظہار کی آزادی بھارت کی جمہوریت کے مرکز میں ہے۔ ہندوستان نے اس اجلاس میں کہا تھا ہمارا ملک ایک سیکولر ملک ہے ۔اس کے باوجود کئی ممالک نے اس اجلاس میں اپنی رائے رکھی جس میں بنیادی طور پر ہندوستان میں خواتین، دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور تشدد کے مسئلے کو اٹھایا گیا۔نریندر مودی حکومت کے لئے یہ پہلا اور ہندوستان کے لیے یہ تیسرا موقع تھاجب حکومت نے انسانی حقوق کے معاملات پر اپنے ٹریک ریکارڈ پر جواب دیے ۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ حکومت چاہے کوئی بھی ہو وطن عزیز میں دلتوں ،پس ماندہ طبقات، خواتین اور اقلیتوں پر مظالم ہوتے رہے ہیں۔وہیں اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ آزادی کے 71سال گزارنے کے باوجود ہم ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جو آغاز ہی میں مطلوب تھے۔اس کے باوجود کہ آئین کی دفعہ:۵۱ الف)میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے ہر شہری کا یہ فرض ہوگا کہ وہ:(ہ) مذہبی، لسانی اور علاقائی و طبقاتی تفرقات سے قطع نظر بھارت کے عوام الناس کے مابین یک جہتی اور عام بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دے نیز ایسی حرکات سے باز رہے جن سے خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہو۔دفعہ:۴۶)میں کہا گیا ہے کہ :مملکت ،خاص توجہ کے ساتھ عوام کے زیادہ کمزور طبقوں اور خاص طور سے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو فروغ دے گی اور ان کو سماجی نا انصافی اور ہر قسم کے استحصال سے بچائے گی۔نیز حق مساوات کے تحت دفعہ :۱۴) میں کہا گیا ہے :مملکت ،کسی شخص کو بھارت کے علاقہ میں قانون کی نظر میں مساوات یا قوانین کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔ساتھ ہی مذہب، نسل،ذات یا جنس یا مقام پیدائش کی بنا پر امتیاز کی ممانعت کے سلسلے میں دفعہ:۱۵میں کہا گیا ہے کہ (۱) مملکت محض مذہب، نسل، ذات، جنس یا مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔ان تمام حوالوں کی روشنی میں دستور ہند کی دفعات کی بات کی جائے تو اقلیتوں، خواتین اور دلت و پسماندہ طبقات کو بے شمار اختیارات دئے گئے ۔اس کے باوجود حکومت ،دستور ہند کی دفعات کو نافذ کرنے میں ناکام ہے۔ایسا کیوں ہے؟یہ خود اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم خبر جو اس ہفتہ سامنے آئی ہے وہ اس الزام کی شکل میں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آرا یس ایس کی ذہنیت شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کو ہمیشہ اقتصادی اور سماجی طورپر کمزور کرنے کی رہی ہے اس لئے وہ اس طبقہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے والے قانون کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہیں۔واضح ہو کہ سپریم کورٹ نے سرکاری ملازم یعنی سرکاری افسروں کے خلاف سخت (Scheduled Castes and the Scheduled Tribes Prevention of Atrocities) قانون کے غلط استعمال پر غور کرتے ہوئے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ اس قانون کے تحت درج ایسے معاملوں میں فوراً گرفتاری نہیں ہونی چاہیے۔عدالت نے کہا کہ ایس سی ایس ٹی قانون کے تحت درج معاملوں میں کسی بھی سرکاری ملازم کی گرفتاری سے پہلے کم از کم ڈی ایس پی رینک کے افسر کے ذریعے بنیادی تفتیش ضرور کرائی جانی چاہیے۔جسٹس آدرش گوئل اور جسٹس یو یو للت کے بنچ نے کہا تھا کہ پبلک سرونٹس کے خلاف ایس سی ایس ٹی قانون کے تحت درج معاملوں میں پیشگی ضمانت دینے پر کوئی مکمل پابندی نہیں ہے۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ ایس سی ایس ٹی قانون کے تحت درج معاملوں میں کمپیٹنٹ اتھارٹی(Competent authority) کی اجازت کے بعد ہی کسی سرکاری ملازم کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
اس پورے پس منظر میں جب آپ اس خبر کو پڑھتے ہیں تو لازماً سماج میں موجود رسہ کشی کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔خبر کے مطابق یوپی راجیہ سبھا انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدوار کو ملنے والی شکست پر بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ شکست کے باوجود بی ایس پی-ایس پی اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔بی جے پی چاہتی ہے کہ پھولپور اور گورکھپور کی ناکامی کے بعد ایس پی -بی ایس پی کا اتحاد ختم ہو جائے لیکن بی جے پی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی اور نہ ہم ان کو ان کے منصوبوں میں کامیاب ہونے دیں گے!


ای پیپر