پاکستانی نوجوان اور انکے کاررنامے ،دنیا بھر میں چرچے
30 مارچ 2018 (19:23)

فہرست 30 برس سے کم عمر کے مردوں اور خواتین پر مشتمل ہے جو اپنے ملک میں تبدیلی لانے میں کامیاب رہے، پاکستانی نوجوانوں میں سعدیہ بشیر،اسد رضا،ابراہیم علی شاہ،عدنان شفیع ،عدیل شفیع،حمزہ فرخ ،فیضان حسین،محمد شہیر نیازی اور مومنہ مستحسن شامل

لندن:بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے فوربز نے 9پاکستانی نوجوانوں سمیت 30 ایشیائی بااثر اور کامیاب نوجوانوں کی فہرست جاری کر دی،فہرست 30 برس سے کم عمر کے مردوں اور خواتین پر مشتمل ہے جو اپنے ملک میں تبدیلی لانے میں کامیاب رہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے نام یہ ہیں سعدیہ بشیر،اسد رضا،ابراہیم علی شاہ،عدنان شفیع ،عدیل شفیع،حمزہ فرخ ،فیضان حسین،محمد شہیر نیازی اور مومنہ مستحسن ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فوربز کی جانب سے 30 ایشیائی بااثر اور کامیاب نوجوانوں کی فہرست جاری کی گئی۔ اس فہرست میں ان نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے اپنے ملک میں چیلنجنگ ماحول ہونے کے باوجود اپنی محنت اور کوششوں سے مثبت تبدیلیاں لانے میں کامیاب رہے۔اس فہرست میں 30 برس سے کم عمر کے ان مردوں اور خواتین لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے ملک میں تبدیلی لانے کے خواہشمند تھے اور تبدیلی لانے میں کامیاب رہے۔

سعدیہ پاکستان میں نوجوانوں کو ویڈیو گیم ڈیزائنگ کی تربیت دینا چاہتی ہیں۔2018 کے لیے ایسے ہی نوجوان فنکاروں، سائنسدانوں اور تاجروں کی فہرست میں شامل نو پاکستانیوں میں پہلا نام سعدیہ بشیر کا ہے۔فوربز کی فہرست میں شامل سعدیہ بشیر کے سر پاکستان میں ویڈیو گیمز انڈسٹری کی بنیادیں مضبوط کرنے کا سہرا ہے۔سعدیہ بشیر پاکستان میں سالانہ گیمز کانفرنس کرواتی ہیں جس میں بین الاقوامی سپیکرز بھی سکائپ پر شامل ہوتے ہیں۔وہ ہر سال سماجی معاملات سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لیے گیمز کا مقابلہ بھی کرواتی ہیں۔ اسی طرح انھوں نے کینسر کے مریضوں کی جانب سے مرض کی شناخت، پانی میں آلودگی کا سبب بننے والی چیزوں سے متعلق آگہی اور امن کے پھیلاو¿ اور اسے متاثر کرنے والے عناصر کی شناخت پر گیمز بنائی گئیں۔وہ خواتین کے مسائل سے متعلق ایک گیم کے منصوبے پر کام کر رہی ہیں جس میں بحیثیت عورت یہ گیم کھیل کر ایک عورت کے مسائل اور فیصلوں سے آگہی ملے گی۔

طبی میدان کے ہیرو پاک دھرعتی کے نوجوان اسد رضا اور ابراہیم علی شاہ ہیں۔ 2006 عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کلے مطابق پاکستان ان 57 ممالک میں شامل تھا جہاں طبی میدان میں عملے اور مہارت کی شدید قلت تھی۔اسی ضرورت کی پیشِ نظر رکھتے ہوئے دو پاکستانی تخلیقی دماغوں نے نیوروسٹک نامی ادارہ بنایا۔محمد اسد رضا اور ابراہیم علی شاہ دونوں کی عمر 24 برس ہے اور اس ادارے کے قیام کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے لیے کم خرچ اور اعلیٰ معیار کے طبی آلات اور مصنوعی اعضا فراہم کرنا ہے۔نیوروسٹک طبی خدمات کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان، ایران اور شام کے ان علاقوں میں مصنوعی اعضا کی فراہمی کی خدمت بھی انجام دیتا ہے جہاں لوگوں کی بحالی کی سہولیات تک رسائی کم ہے یا بالکل نہیں۔ابراہیم کا کہنا ہے کہ ہمارے بنائے گئے اعضا میں حقیقی اعضا کی طرح گرفت ہے۔ اور ان کی قیمت بھی بہت کم ہے۔ لاکھوں میں ملنے والی چیز اب ہزاروں میں دستیاب ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’ہمارے دفاتر لاہور اور اسلام آباد میں ہیں۔ یہ تمام مصنوعی اعضا مقامی طور پر فیصل آباد میں تیار کیے جاتے ہیں۔ اعضا تو پہلے سے یہاں بنتے تھے ہم نے انہیں رہنمائی دے کر منصوعات کو پہلے سے بہتر بنایا ہے۔28 سالہ عدنان شفیع اور 29 سالہ عدیل شفیع دونوں بھائی ہیں جنہوں نے 2015 میں پرائس اوئے کے نام سے انٹرنیٹ پر ایک پلیٹ فارم بنایا جہاں پاکستان کے نسبتاً چھوٹے شہروں میں برقی آلات کے قیمتوں میں تقابل کیا جا سکتا ہے۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے ریٹیلرز جو مارکیٹ میں رائج قیمتوں کی معلومات مل جاتی ہیں جبکہ صارفین کو اچھی قیمت پر اشیا۔ اس سے پہلے ای کامرس سٹورز کی توجہ صرف بڑی شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد ہی رہتی تھی۔عدیل شفیع نے فوربز کی جانب سے پذیرائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید بہتر کام کرنے کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔عدیل کے بقول ’ہر کسی کو رجسٹر کرنا ناممکن ہے کیونکہ آن لائن شاپنگ میں اعتبار بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہماری ویب سائٹ اشیا کی قیمتوں کے تقابل کے ساتھ ساتھ رجسٹر شدہ سٹورز کی مکمل معلومات بھی فراہم کرتی ہے اور یہ بھی کہ اس سٹور سے مصنوعات کتنے وقت میں صارف تک پہنچا دی جائیں گی۔24 سالہ حمزہ فرخ۔پاکستان کے بیشتر دیہاتوں میں پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو گھنٹوں پیدل سفرکرنا پڑتا ہے۔ بوندِ شمس کے خالق اسی چیز کو بدلنا چاہتے تھے۔حمزہ فرخ 1998 میں چکوال کے ایک نواحی گاو¿ں میں کنویں کا آلودہ پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہو گئے تھے اور امریکہ میں دورانِ تعلیم جب انہیں کسی سماجی منصوبے پر کام کرنے کا موقع ملا تو انہیں اپنے گاو¿ں کا خیال آیا۔ان کے شمس پانی نام کے اس منصوبے کا مقصد پاکستان کے ایسے غریب علاقوں میں صاف پانی کی کمی کو پورا کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے دو کنوئیں بنائے گئے جو ایک گاو¿ں کے 1500 افراد کو صاف پانی فراہم کرتے ہیں۔ہر ایک پمپ روزانہ 5000 لوگوں کے لیے صاف پانی نکالنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

وہ اب تک ایسے تین منصوبے لگا چکے ہیں اور انھیں بعد میں مقامی لوگوں کے حوالے کا کر دیا جاتا ہے۔ 24 سالہ حمزہ فرخ ویلیئم کالج اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔فیضان حسین کا کہناہے کہ ان کی مصنوعات کا مقصد پاکستانی لوگوں کو سہولت دیناہے۔23 سالہ فیضان حسین پیری ہیلیئن سسٹم نامی کمپنی کے خالق ہیں۔ فطری طور پر کم گو فیضان میٹرک کے بعد فلاحی اداروں میں رضاکار کی حیثیت سے کام کرنے لگے تو سماجی خدمت نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ اسی لیے انھوں نے اپنی تعلیم کو استعمال کرتے ہوئے ایسے منصوبوں پر کام کیا جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آتے۔فیضان حسین نے سب سے پہلے ایجو ایڈ کے نام سے سافٹ وئیر بنایا جو قوتِ گویائی سے محروم افراد کی اشاروں کی زبان کو الفاظ میں تبدیل کر کے ایسے لوگوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جنہیں اشاروں کی زبان نہیں آتی۔اس کے بعد انھوں نے ون ہیلتھ کے نام سے ایک ایسے منصوبے پر بھی کام کیا جس میں ایک بڑے علاقے میں لوگوں کے صحت سے متعلق کوائف اور ہسٹری کو یکجا کیا گیا جس کی مدد سے ڈاکٹرز کو مرض کی تشخیص اور علاج میں معاونت ملے۔ان کی ایک ایجاد گلو گیج بھی تھا ایک ایسا دستانہ جسے صنعتوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے بنایا گیا جس میں بیک وقت متعدد سہولیات ہونے کی وجہ سے کام کرنے والوں کو ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ آلات رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہائشی محمد شہیر نیازی کی برقی چھتوں یعنی 'الیکٹرک ہنی کوم' پر کی گئی تحقیق پر مبنی مضمون رائل سوسائٹی اوپن سائنس جنرل نے شائع کیا گیا۔ یہ جریدہ دنیا بھر سے سائنس، ریاضی اور انجینیئرنگ کے میدان میں ہونے والی تحقیقات شائع کرتا ہے۔شہیر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے لیے ایک اور نوبیل لانا چاہوں گا‘۔ پاکستان میں سائنسی علوم کی تحقیق کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ’ میں فزکس سمیت دیگر علوم میں ایجادات کرنا چاہتا ہوں اور دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں سے بھی سائنسدان نکل کر آ سکتے ہیں۔‘شہیر کی تحقیق جس نئے پہلو کو سامنے لائی وہ تھا تیل کی سطح پر حرارت کا فرق۔ شہیر نے اس عمل کی تصویر کشی بھی کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

مومنہ مستحسن نے اپنی شہرت کے ذریعے خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا۔مومنہ مستحسن کو کوک سٹوڈیو سے مقبولیت ملی۔ انھوں نے راحت فتح علی خان کے ساتھ گانا گایا تھا۔ ان کے گانے کی ویڈیو کو یو ٹیوب پر نو کروڑ 70 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔’ میں انھیں گانا سکھاتی ہوں، وہ مجھے کرکٹ۔مومنہ نے سوشل میڈیا پر ڈرانے دھمکانے کے خلاف مہم چلائی۔ جس کے بعد انسٹا گرام پر depressionisreal# کے ہیش ٹیگ سے انھوں نے دو ویڈیو شیئر کیں، جنھیں لاکھوں افراد نے دیکھا۔ ان ویڈیوز میں دماغی صحت کے بارے میں کھل کر بات کی گئی۔سوشل میڈیا پر مومنہ کی پوسٹس کو ہر ماہ اوسطً دو کروڑ افراد دیکھتے ہیں اور پاکستان میں ا±ن کا شمار سوشل میڈیا کے بہت زیادہ نمایاں اور اثرروسوخ رکھنے والے افراد میں ہوتا ہے۔25 سالہ مومنہ مستحسن خواتین کے مسائل پر بات کرتی ہیں تو انہیں سنا جاتا ہے۔


ای پیپر