چیئرمین نادرا اور میئر کراچی کے کمالات
30 مارچ 2018

سندھ حکومت نے قومی پانی پالیسی پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے بھاشا ڈیم کے علاوہ باقی تمام ڈیمز کی تعمیر کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر منصوبہ بندی کمیشن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ نیشنل واٹر پالیسی میں تبدیلی کی جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ واٹر پالیسی کا مقصد پانی کی حالیہ قلت کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بھی پانی کی ضروریات کو سامنے رکھ کر رہنما اصول مرتب کرنے ہیں۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو یاد دلایا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پانی کی انتظام کاری صوبائی اختیار ہے۔ آبپاشی، زراعت، ماحولیات، شہروں کو پانی کی فراہمی صوبائی اختیار ہے۔ لہٰذا قومی پانی پالیسی میں ان نکات کو بھی شامل کیا جائے۔ سندھ حکومت نے بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ باقی مجوزہ ذخائر کو مسترد کیا جائے۔ سندھ کے تمام اخبارات نے پانی کے حوالے سے حکومت سندھ کے مؤقف کی حمایت کی ہے، اور وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کے مؤقف کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
روزنامہ ’’عبرت‘‘ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو شہریت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ سندھ میں لاقانونیت، میرٹ کو نظرانداز کرنا، سیاسی معاشی، سماجی توڑ پھوڑ عروج پر ہے۔ غیر مقامی آبادی کے بڑھ جانے ، نجی اداروں کے غلبے، اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث سندھ کی زمینوں اور قدیمی باشندوں کے لئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں لاکھوں غیر ملکی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ جنہیں نہ صرف مستقل طور رہائش حاصل ہے بلکہ انہیں قومی شناختی کارڈ بھی جاری کئے جارہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز پہلے میئر کراچی نے سندھ کے دارالحکومت کراچی میں غیر قانونی طور پر رہائش پزیر بنگالیوں، برمیوں، بہاریوں اور دیگر غیر ملکی باشندوں کو بلدیہ ٹاؤن میں زمین لیز پر دینے کا اعلان کیاہے۔ حکومت سندھ نے اس امر کا نوٹس لیتے ہوئے میونسپل کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ کراچی میں غیر قانونی طور پر رہائش پزیر ان لوگوں کو زمین لیز پر دینے کا عمل روک دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ میئر کراچی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ سندھ کی زمین غیر قانونی طور پر رہائش پزیر ان غیر ملکیوں کو لیز پر دے۔
کراچی بدامنی کیس میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ریکارڈ پر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں لاکھوں افرادغیر قانونی طور پر رہائش پزیر ہیں۔ جن کا تعلق غیر ممالک سے ہے۔ یہی لوگ شہر کا امن برباد کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ ان غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو شہر سے کیمپوں میں منتقل کیا جائے۔ بعد میں ان افراد کو متعلقہ ممالک بھیج دیا جائے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ اس فیصلے کے برعکس میئر کراچی اور دیگر لاڈلے افسران ان غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو سندھ کے دارالحکومت کی زمین اس طرح سے لیز پر دے رہے ہیں جیسے یہ ان کی ذاتی ملکیت ہو۔
اسی طرح سے نادرا کی انتظامیہ سے بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ، جو ان غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کے دارالحکومت میں اصلی باشندوں کے بجائے یہ غیر ملکی اور غیر قانونی آباد لوگ زیادہ اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انتظامیہ کے اکثر اقدامات سے بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ کراچی میں سندھ کے لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں۔ میئر کراچی اور چیئرمین نادرا کو یہی مشن سونپا ہوا ہے۔ ایک زمین لیز پر دیتا ہے، دوسرا قومی شناختی کارڈ جاری کر کے انہیں شہریت دے رہا ہے۔ دوسری جانب سٹیل مل کی زمین بھی عتاب کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت موقع ملتے ہی یہ زمین جو دراصل سندھ حکومت کی ہے، فروخت کردے گی۔
تعجب کی بات ہے کہ نادرا کی نئی پالیسی نے غیر ملکیوں کے لئے شناختی کارڈ دینے میں سہولت پیدا کردی ہے۔ سندھ کے لوگوں کا تحفظ کرنے کے بجائے بنگالیوں ، برمیوں ، افغانوں اور دیگر غیر ملکیوں کو شہریت دے کر ان کو ووٹ کا بھی حق دیا جارہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میئر کراچی اور چیئرمین نادرا سے سختی سے پوچھا جائے کہ انہیں غیر ملکیوں کو سندھ کی زمین لیز پر دینے اور شناختی کارڈ جاری کرنے، اس ملک کا اور سندھ کا شہری بنانے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ حکومت سندھ اور اس دھرتی کے تمام اہل نظر و فکر لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ سندھ کی زمین، وسائل، اور اختیارات اصلی باشندوں سے چھیننے کی اس کوشش کو کس طرح سے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
روزنامہ ’’سندھ ایکسپریس‘‘ سندھ میں تعلیمی معیار میں بہتری کی کوئی امید نہیں‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ صوبے میں نویں اور دسویں جماعتوں کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں۔ مختلف امتحانی مراکز سے کاپی کی اطلاعات آرہی ہیں۔ سندھ میں کاپی کلچر کے خاتمے کا سوال برسوں سے زیر بحث ہے۔ اس مقصد کے لئے سیاسی خواہ سماجی شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی جانب سے متعدد سفارشات مرتب کی جا چکی ہیں۔ لیکن عملا نتیجہ صفر ہے۔ کاپی کلچر کی وجوہات کیا ہیں؟ سہولت کار کون سے فریق ہیں؟ اس کو کس طرح سے روکا جا سکتا ہے؟ اگر محکمہ تعلیم کو تاحال سمجھ میں نہیں آیا تو پھر اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اساتذہ سے لے کر والدین تک، سکول سٹاف سے لے کر بورڈ کے افسران تک، سب اس دھندے میں ملوث ہیں۔ نتیجے میں سندھ کا مستقبل تاریک ہورہا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت سخت اقدامات اٹھا کر کاپی کلچر روکے ۔ تعلیم کو مزید تباہی سے بچائے۔ تعلیم کو بچانے کے لئے بنیاد سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی سندھ کی 42 فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔ سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ہزاروں سکول بحال نہیں ہوسکے ہیں۔ اساتذہ کی کمی ہے۔ صوبے میں آج بھی پندرہ سے بیس ہزار اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔ جب اس طرح کے سکولوں سے بچے امتحان میں بیٹھیں گے تو ان کے پاس کاپی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کاپی کلچر کے خاتمے کے لئے حکومت، اساتذہ اور والدین کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا پڑے گا۔ تب تعلیم میں اصلاح ہو سکے گی۔


ای پیپر