سرائیکی صوبہ ،محض ریت پر لکھا ایک وعدہ
30 مارچ 2018 2018-03-30

جنوبی پنجاب سے شائع ہونے والے اخبارات نے اپنی تحریروں میں سرائیکی صوبہ کے بارے میں پائے جانے والے ابہام کو واضح کیا ہے اخبار’’لیہ‘‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ سرائیکی صوبہ کے قیام کا مطالبہ ایک طویل عرصہ کی جدوجہد پر محیط رہا ہے اور صوبہ پنجاب کے جنوبی حصہ کے سرائیکی دانشوروں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ مرحوم ،ظہور دھریجہ ،غلام فرید کوریجہ ،حمید اصغر شاہین ،عاشق بزدار ،عبدالحمید کانجو جو سرائیکی صوبہ تحریک کے روح رواں ہیں کا مطالبہ درست ہے کہ 19اضلاع پر مشتمل علاقہ کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کر کے نیا صوبہ سرائیکی صوبہ کے نام سے تشکیل دیا جائے پنجاب کی آبادی اس وقت 13کروڑ ہے جس میںآٹھ کروڑ سرائیکی ہیں کثیر آبادی کی وجہ سے فوج اور بیورو کریسی کا حصہ اس میں زیادہ ہے۔ وطن عزیز کا صدر مقام اور ملٹری ہیڈ کوارٹر بھی اسی صوبہ میں ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر اور اس کے مطابق رقوم کی عدم تقسیم کی وجہ سے دوسرے صوبے پنجاب کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ بیورو کریسی کے تسلط کو بھی پنجاب سے منسوب کرتے ہیں۔ بالا دستی کے انہی اثرات نے سرائیکی دانشوروں میں یہ احساس اجاگر کیا کہ ’’اساں قیدی تخت لہو ر دے ،ساڈے منہ تے جندرے جبر دے ‘‘اس احسا س محرومی کی وجہ سے نئے صوبہ کے مطالبے نے جنم لیا۔ روزنامہ ’’نوائے تونسہ‘‘ نے اپنے اداریے میں لکھا کہ صوبہ پنجاب کے اندر سرائیکی صوبہ کا مطالبہ زور پکڑرہا ہے اور معاملہ اس قدر الجھ گیا ہے کہ یہاں کا ہر باسی اپنے حقوق کیلئے پریشان ہے۔ یقیناایک ملک میں زیادہ صوبوں کی تشکیل سے ترقی ممکن ہے پاکستان کے آئین میں جہاں دوسرے صوبوں کی تشکیل کا ذکر ہے وہاں کرۂ ارض پر موجود ممالک کے حالات اس بات کے غماز ہیں کہ بے شمار صوبوں کے حامل ممالک کے معاملات خوش اسلوبی سے رواں دواں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے پانچ سال پورے کئے مگر سرائیکی خطہ کے عوام اپنے الگ صوبہ کے قیام سے محروم رہے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ سرائیکی وسیب میں چند خاندان عوام پر حکمرانی کر رہے ہیں اور عوام کو غلام بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہ مختلف طریقوں سے اقتدار میں آجاتے ہیں۔ یہ چند خاندان جو جاگیرداری ،سرداری سوچ کے ساتھ ساتھ افسر شاہی خیالات رکھتے ہیں سرائیکی صوبہ کی حقیقی منزل میں رکاوٹ ہیں۔ روزنامہ ’’مٹھن‘‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ سرائیکی وسیب میں دوسرے وسائل کے ساتھ ساتھ زرعی گریجوایٹ کیلئے الاٹمنٹ سکیم کے نام پر اراضی ہتھیائی گئی۔ سرائیکی وسیب ٹیکس فری انڈسٹریل زون سے محروم ہے ،کیڈٹ کالج ایک بھی نہیں ،انجینئرنگ ،میڈیکل ، ایگریکلچر یونیورسٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا ،ڈیرہ اسماعیل خان جو ایک سرائیکی وسیب کا ضلع ہے اور وہاں سے منتخب ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم خان کنڈی بھی سرائیکی وسیب کا حصہ ڈیرہ اسماعیل خان کو گردانتے رہے۔ یہ اہم ضلع موٹر وے سے محروم ہے ،ڈیرہ اسماعیل خان لیفٹ کینال کا اعلان وزیراعظم نے کیا لیکن اس پر عمل درآمد کی نوبت نہ آئی۔ وہاڑی ،بھکر ،جھنگ ،لیہ ،اور بہاول نگر میں میڈیکل کالج قائم نہ ہو سکے۔ لیہ میں مقامی ایم این اے ثقلین بخاری خورشید ایگریکلچر کالج کیلئے تگ و دو کے باوجود صوبائی حکومت سے اس کا انعقاد نہ کرا سکے۔ روز نامہ ’’ممکن‘‘ ملتان نے اپنے اداریہ میں لکھا وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کے اعلانات کے باوجود ملتان کو بگ سٹی کا نوٹیفکیشن نہ مل سکا۔ بہاول پور میں لائیو سٹاک اور انجینئرنگ یونیورسٹی اعلان کے باوجود نہ بن سکی ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کے ہاتھوں افتتاح ہونے کے باوجود بھی گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کا اجراء نہ ہوسکا ۔
سرائیکی دانشور ،شاعر ،لکھاری زاہد عاصم لنگاہ کا مؤقف بڑا واضح ہے کہ ’’وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اپنے بھائی ،بیٹوں کی انگلی پکڑ کر ان کو سیاسی میدان میں تو لے آئے مگر اپنے دور اقتدار میں انہوں نے سرائیکی قوم ، سرائیکی زبان اور سرائیکی ادب کی کوئی سر پرستی نہیں کی‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جس طرح متذکرہ بالا وعدے وفا نہ ہو سکے اسی طرح سرائیکی صوبے کا وعدہ بھی ایک سراب تھا ‘‘۔
روزنامہ ’’فخر تھل‘‘ اپنے اداریئے میں لکھتا ہے کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی سرائیکی خطہ کے عوام کی محرومیوں کا علاج نہیں کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو منصوبے سابقہ دور میں منظور ہوئے نہ صرف ان پر پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ ان میں سے بیشتر کینسل ہو گئے۔ پرویز مشرف دور میں انجینئرنگ یونیورسٹی کیلئے قصبہ لاڑ کے قریب رقبہ خرید لیا گیا لیکن اب یہ منصوبہ کینسل ہو چکا۔ ملتان فیصل آباد موٹر وے کے ٹینڈر کینسل ہو چکے۔ پرویز مشرف دور میں ہی ملتان وومن یونیورسٹی کی گرلز کالج میں کلاسیں شروع ہوئیں لیکن اب وومن یونیورسٹی کا نام و نشان تک نہیں ۔
بہاولپور سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ ’’نوائے بہاول پور‘‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ریاست بہاولپور اس یقین دہانی پر پاکستان میں ضم ہوئی تھی کہ اس کی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھا جائے گا۔ نئی مملکت کی کمزور مالی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے بہاولپور کے والی نے 1947ء میں قائد اعظم کورقم اور دیگر اشیاء دیں اورایک نوزائیدہ مملکت پاکستان کو اپنا سفر شروع کرنے میں مدد دی ۔
سرائیکی صوبہ کے بارے میں میاں نواز شریف کے یہ خیالات حقیقت کا روپ نہ دھار سکے کہ موجودہ حکومت بہاولپور صوبہ کے نام پر پوائنٹ سکورنگ کرتی رہی ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے وفاقی حکومت کے رویہ پر سرائیکی وسیب کے عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ سرائیکی صوبہ کا قیام محض ریت پر لکھا ایک وعدہ ثابت نہ ہو ۔


ای پیپر