سمگل شدہ اشیاء
30 مارچ 2018 2018-03-30

پشاور میں غیر ملکی اشیاء کی سمگلنگ کا انکشاف ہوا ہے ۔غیر ملکی اشیاء کی سمگلنگ غیر روایتی راستوں سے ہو رہی ہے اس کی بنیادی وجہ پاک افغان سرحد پر چیکنگ کی سختی ہے جس کے باعث غیر روایتی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ جس سے کروڑوں روپے کمانے کا نکشاف بھی ہوا ہے غیر ملکی اشیاء میں خاص طور پر نان کسٹمزپیڈ گاڑیاں شامل ہیں۔اور یہ انکشاف ہواہے کہ فی گاڑی 60ہزار روپے وصول ہو رہے ہیں اور دوسری اشیاء کے سمگلنگ کا فی ٹرک27لاکھ لیے جا رہیں ہیں اور روزانہ کی بنیاد پرکم وبیش 15ٹرکوں کو غیرروائتی راستوں سے کارخانو ں اور جمرودلایا جاتا ہے اور اس سے بڑھ کر خطرناک بات یہ ہے کہ وادی تیراہ سے چرس کی سپلائی بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے وادی تیرہ میں روزگار کے زرائع نہ ہونے کی وجہ سے بھنگ کاشت کی جاتی ہے اور بھنگ سے چرس تیار کی جاتی ہے اور چرس تیار ہونے کے بعددشوار گزار راستوں سے بندوبستی علاقوں کو سپلائی کیا جاتا ہے ۔ اس بات کابھی انکشاف ہوا ہے کہ اس کی مزدوری 10ہزار روپے فی کلو دی جاتی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انتظامیہ نے بھی چرس کی سمگلنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ چند ایک جرائم ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر تو بہت چھوٹے لگتے ہیں لیکن ان جرائم کو کنٹرول نہ کرنے سے ریاستیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں ۔ریاست کی روح کو زنگ لگا دیتے ہیں ان میں سے ایک جرم سمگلنگ کا ہے سمگلنگ بظاہر چھوٹا سا لگتا ہے لیکن اس کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جاسکتااس کی اصل وجہ یہ ریاست کے اکنانومی پر اثر انداز ہو تا ہے جب ملک سے باہر تیار ہونے والی زور مرہ کی اشیاء سستے داموں ملک کے اندر دستیاب ہونگی توہماری ملک کی پیداوار کو کون ترجیح دے گا اس سے ہماری صنعت تباہ ہو جائی گی رونیو میں کمی واقع ہو گی جب پاکستان میں رونیو Generateنہیں ہو گاتو پاکستان کی اکنانومی کا دارومدار بیرونی قرضہ پر ہو گا اور بیرونی قرضہ ریاست اور قوموں کو غلامی کی طرف دھکیل دیتا ہے ۔چونکہ سمگل ہونے والی اشیاء پر کوئی ٹیکس اور ڈیوٹی نہیں لگتی اور اس کا سب سے بڑا فائدہ consumer کو ہوتا ہے اور اس کا بڑا نقصان ریاست کو ہوتا ہے اور ہنر مند افراد بیروزگار ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پے مجبور ہو جائیں گے۔ دنیا میں ریاست کی ترقی کا دارومدار ریاست کے عوام کی قومی سوچ پر ہوتی ہے جس طرح چینی لوگوں کا کردار رہا ہے چین کی ترقی کا دارومدار چینی عوام کی قومی سوچ پر ہے تمام چینیوں میں یہ سوچ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کہ وہ قومی مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے وہ ہمیشہ اپنے ملک کی بنی ہوئی اشیاء خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں اور بیرونی تیار شدہ اشیاء خریدنے سے گریز کرتے ہیں ان کی اسی سوچ نے چین میں دنیا کی مارکیٹ نہیں بننی دی ۔اور زر مبادلہ کی بچت ہونے سے چین دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل کر چکا ہے اور چینی اشیاء نے یورپ کی تمام مارکیٹوں کو پریشان کر رکھا ہے دوسرا سمگلنگ ہونے والی اشیاء کی کوئی چیکنگ نہیں ہوتی اور سمگلنگ ہونے والی اشیاء سے بھراٹرک دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کا بھی خطرہ موجود ہوتا ہے ۔ ملک پاکستان کو جن حالات کا سامنا ہے اور خاص طور پر پاک افغان باڈر پر جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی ہوتی ہے یہاں سے سمگلنگ ہونے والی اشیاء دہشت گردی کا سبب بن سکتی ہے۔ سمگل کی جانی والی اشیاء کا پاکستان میں دستیاب ہونا ہمارے اداروں کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چرس جو ایک نشہ ہے اور نشے کوہمارے مذہب نے حرام کیا ہے اور مضر صحت بھی۔پاکستان میں چرس کاشت ہونے کے بعد تیار ہونا قابل افسوس ہے کیونکہ نشہ جب پھیلتا ہے تو یہ نسلوں کی تباہی کا سبب بنتا ہے پاکستان میں ایسا ہوناحکومت اور اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ان تمام حالات کی بنیادی وجہ ایک تو ہمارے ملک میں بے بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا ہے غربت کی و جہ سے انسان میں قومی سوچ ختم ہوجاتی ہے۔ قوموں کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ قومی سوچ کا ختم ہونے ہوناہے۔ ریاست کا تصور تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ریاست کے اندر رہنے والے تمام باشندے ریاست کے کنٹرول میں ہو۔اور ریاست کی رٹ موجود ہو۔ ریاست کے رٹ کو بحال رکھنے کے لیے ادارے اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہوں لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سیاست دان اور قوم کے بڑے سیاسی یاذاتی دشمنی میں اتنے الجھ جاتے ہیں کہ ادارے اپنا کام کرنے کے بجائے حکمرانوں اور صاحب حیثیت لوگوں کی چاپلوسی میں مصروف ہوتے ہیں جب ادارے اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں تو پھر دشمن کو بھی اندر گھسنے کا موقع مل جاتا ہے اس کا ازالہ قوم کو کرنا ہوتا ہے ہم نے پہلے بھی یہی غلطی کی ہے اور اب بھی یہی غلطی کر رہیں ہیں کہ ہم فاٹا کو قومی دھارے میں نہیں لا رہے۔ پہلے بھی ہم نے طالبان کی صورت میں عذاب برداشت کرچکے ہیں اور اب بھی اگر ہم نے اس پر توجہ نہیں دی تو اس کا نتیجہ اور بھی بھیانک ہو سکتا ہے۔اس لیے ہم دوبارہ وہ غلطی نہ دہرائیں جو نسلوں کی تباہی اور اور معیشت کی بربادی کا سبب بنے۔


ای پیپر