31 مارچ اور یکم اپریل عمران خان کادورہ لاہور
30 مارچ 2018 2018-03-30

22برس پہلے چیئرمین تحریک انصاف نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا تو نظام کے پرانے اجارہ دار اپنے اپنے تالابوں سے نکل برساتی مینڈکوں کی طرح رنگ رنگ کی بولیاں بولنا شروع ہو گئے ۔جتنے منہ اُتنی باتیں پہلے الیکشن میں تحریک انصاف کو بدترین شکست ہوئی لیکن چیئرمین تحریک انصاف نے اپنے مشن کو جاری رکھا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مایوسی اُس کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ عمران برے حالات میں بہترین کارکردگی دینے کی دولت سے مالا مال ہے ۔ 2002 ء کے انتخابات میں وہ مشرف کے جھانسے میں آیا لیکن جلد ہی نکل گیا لیکن تحریک انصاف کا الیکشن تباہ و برباد ہو گیا ۔ مجھے یاد ہے کہ نصیر آباد لاہو ر کادفتر جہاں مہنگی ترین گاڑیوں کی لائن لگی ہوتی تھیں سنسان ہو گیا اور ہیوی ویٹ جہاں سے آئے تھے وہیں واپس چلے گئے ۔ چیئرمین تحریک انصاف میانوالی سے صرف اپنی نشست جیت سکے اوریوں تحریک انصاف پاکستان کی قومی اسمبلی میں پہنچ گئی ۔ 2008 ء کے انتخابات میں چیئرمین تحریک انصاف نے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور جماعت اسلامی اس موقع پر اس کی ہم خیال تھی گو کہ زیادہ تر پارٹی عہدیداران کا خیال تھا کہ ہمیں سیاسی عمل سے باہر نہیں رہنا چاہیے لیکن امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے عمران خان سے انتہائی قریبی تعلقات ہونے کی بنیاد پر انہیں بائیکاٹ پر راضی کر ہی لیا اور یوں تحریک انصاف 2008 ء کے انتخابات سے مکمل باہر ہو گئی اور یہی جماعت اسلامی کی مسلم لیگ نون کیلئے اعلیٰ ترین خدمت تھی جس کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کاون ٹو ون مقابلے میں پیپلز پارٹی کاصفایا ہونے کا پہلا مرحلہ خیر و خوبی سے سرانجام پا گیاکیونکہ ق لیگ محترمہ شہیدہ کے قتل کی وجہ سے پہلے ہی نفرت کا شکار ہو چکی تھی ۔ مرکز میں آصف علی زراداری اور پنجاب میں میاں محمد شہباز شریف کی حکومتیں بن گئیں ۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں نسلوں تک ساتھ چلنے کے عہد و پیماں ہوئے اور جاتی امراء میں آصف علی زرداری کی میزبانی کا شرف میاں نواز شریف نے حاصل کیا جس میں 70 کھانے پکا کر میاں صاحب نے مغلوں کے دسترخوان کو مات دے دی ۔ باریوں کی
باتیں ہوتی رہیں ، چالیں چلنے والے اپنی چالیں چلتے رہے لیکن وقت کی چال سب سے بے رحم ہوتی ہے ۔30 اکتوبر 2011 ء پاکستان کی سیاسی تحریک کا نیا سورج لے کر طلوع ہوا اور مینار پاکستان کے تاریخی مقام پر جہاں کبھی قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی، ایک بار پھر نئے معاہدہ عمرانی کیلئے پاکستانی عوام اکھٹے ہوئے تو پاکستان کے بہت سے سیاسی پنڈتوں کو سانپ سونگھ گیا اور اُس کے بعد ہر دن تحریک انصاف کی کامیابیوں کے دروازے کھلتے چلے گئے ۔ 2013 ء کے انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے انٹر ا پارٹی الیکشن کے نتیجے میں تحریک انصاف واضح دھڑوں میں بٹ گئی ۔ یہاں اس بات کی وضاخت انتہائی ضروری ہے کہ یہ دھرے نئے یا پرانے ورکروں میں نہیں بنے تھے کیونکہ پرانے ورکرز تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے تھے اصل لڑائی درمیان اور آخر میں آنے والوں کے درمیان تھی ۔ عبد العلیم خان کی بطور صدر لاہورفتح پرانے اجارے داروں کو ہضم نہ ہوئی اور مخالفت برائے مخالفت کا بازار کھل گیا ۔ علیم خان مضبوط اعصاب اور مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ اپنے بدترین مخالفین کو زیر کرتا رہا اور ہر گزرتا روز پارٹی میں اُس کی مقبولیت میں اضافہ کرتا گیا ۔ جوں جوں علیم خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا حاسدین کے سینوں میں حسد کا الاؤ بھی اُسی گراف کے ساتھ بلند ہوتا رہا لیکن پھر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی نااہلی کے بعد این ۔ اے 122 کے ضمنی انتخابات میں عبد العلیم خان نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا اور اُس کی شہرت اوروقار پنجاب سے نکل کر پاکستان کے جغرافیے سے باہر نکل گیا ۔اس الیکشن میں تنظیم میں موجود اُس کے مخالفین نے نہ صرف عبد العلیم خان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ جہاں موقع ملا بھرپور مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیالیکن عبد العلیم خان کا قد تحریک انصاف میں موجود انپے مخالفین کی مخالفت سے زیادہ دراز ہو چکا تھا۔ عبد العلیم خان چیئرمین تحریک انصاف کے معیار پر پورا اترچکا تھا ۔ عبدالعلیم خان ایک سماجی انسان ہے اور زیادہ سے زیادہ انسانوں میں رہنا پسند کرتا ہے یا پھر اُس کی جیب سے بننے والی پالیسیوں اور منصوبوں کے نتائج عام آدمی تک پہنچتے رہتے ہیں یہ خوبی اور حوصلہ اُس کی مخالفت کرنے والوں میں تو بالکل نہیں ۔ میں انتہائی ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں اور ریکارڈ پر لا رہا ہوں کہ میں نے اپنی 35 سالہ سیاسی زندگی میں کسی سیاستدان کو اتنا انسان دوست نہیں پایا اور یہی اُس کی سب سے بڑی خرابی ہے جو اُس کی مخالفت کرنے والوں کو قابلِ قبول نہیں ۔
وہ چیئرمین تحریک انصاف کو وزیر اعظم دیکھنے کیلئے صراط کا ہر پل عبور کر رہا ہے ۔انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم میں اُس نے اپنے قریبی دوستوں تک کو یہ پیغام پہنچا دیا کہ مجھے صرف جیتنے والے امیدوار چاہئیں، کسی کو دوستی یا تنظیم سے پرانے تعلق کی بنیاد پر ٹکٹ نہیں ملے گی البتہ جیتنے والے امیدوار کیلئے علیم خان آؤٹ آف دی وے بھی جانے کیلئے تیار ہے ۔ سینٹرل پنجاب سارے پنجاب کا فیصلہ کرتا ہے اور سارا زور بھی یہیں لگنا ہے ۔ سینٹرل پنجاب کا صدر ہونے کے ناطے عبد العلیم خان خود ایک ایک ضلع اور تحصیل میں جا کر ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے اپنے رائے قائم کررہا ہے جو یقیناًپارلیمانی بورڈ میں بہترین فیصلہ کرنے میں کام آئے گی ۔ 23 مارچ کو عبد العلیم خان کی قیادت میں لاہور نکلنے والی کامیاب ترین ریلی نے ایک بار پھر اُس کے مخالفین کے منہ بند کردئیے لیکن میں چیئرمین تحریک انصاف سے ایک درخواست ضرور کروں گا اور اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ چیئرمین تک اپنا پیغام پہنچایا جائے کہ جنابِ چیئرمین ویسے تو انٹرا پارٹی الیکشن 2013 ء کے بعد ہی لاہور کی تنظیم کے مقابلے میں کوئی انصاف مرکز نہیں کھولنا چاہیے تھا جس کی وجہ سے تنظیم میں اختلافات کی خبریں عام ہوئیں اور اب جبکہ ایک بار پھر ہم پانچ سال کی طویل اور انتھک جدو جہد کے بعد الیکشن میں جا رہے ہیں تو وہ منہ اور زبانیں جو آپ کے آئینی صدر سینٹرل پنجاب کے خلاف بولتی ہیں انہیں بند کروانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ آزادی اظہار نہیں تنظیم کی مخالفت کے زمر میں آتا ہے۔
31 مارچ اور یکم اپریل کو چیئرمین تحریک انصاف دو دن لاہور قیام کے دوران 10مقامات پر ممبر سازی مہم کے کیمپوں کا دورہ کریں گے ۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کارکن ، ووٹرز ، سپورٹرزان کا استقبال بھی کریں گے ۔ 5 کیمپوں کا دورہ 31 مارچ اور 5 کیمپوں کا دوسرے دن ہوگا ۔ یہ یقیناًایک کامیاب پروگرام ہو گا کہ عبد العلیم خان کے ہاتھ میں کامیاب سیاسی پروگراموں کی لکیر بہت گہری ہے جس کیلئے اللہ نے انہیں شعیب صدیقی جیسے ارگنائزر سے نواز رکھا ہے۔


ای پیپر