پاکستان کو بنجر بنانے کی بھارتی دھمکی
30 مارچ 2018

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سندھ طاس کے تحت ہمارے پانی پر بھارتی کسانوں کا حق ہے۔ بھارت کے حصے کا پانی کسی صورت پاکستان نہیں جانے دینگے۔ پاکستان کی جانب جانے والے اپنے پانی کی ایک ایک بوند روکیں گے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت کا پانی پاکستان نہیں جانے دینگے۔ یوں مودی کے پاکستان مخالف عزائم کھل کر سامنے آ گئے کہ اس نے پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے کی دھمکی دے دی۔ بھارتی وزیراعظم نے بڑھک مارتے ہوئے کہا کہ ستلج، بیاس اور راوی کے پانی پر بھارت کا حق ہے اسے ہم پاکستان جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میں نے پاکستان بہہ جانے والے پانی کو بھارت میں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کیلئے مختلف پہلوؤں پر غور کیلئے ٹاسک فورس بنا دی ہے۔ اس پانی کی ایک ایک بوند کو روک کر مقبوضہ کشمیر، پنجاب اور بھارتی کسانوں کے لیے استعمال کریں گے۔
نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کا پانی روکنے کی پالیسی پر عملدرآمد کے لئے بھارت نے چار منصوبوں پر کام تیز کرنے اور رواں مالی سال کے اختتام تک ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔ جن چار منصوبوں پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے ان میں پلوانا میں ترال کا آبپاشی منصوبہ‘ کارگل کے علاقہ میں پراک چک کینال منصوبہ‘ اور جموں میں کٹھوعہ اور سانبہ کے قریب راوی کینال کی تعمیر شامل ہے۔ بھارت نے چوتھا منصوبہ راجپورہ لیفٹ ایری گیشن کا شروع کر رکھا ہے جسے وہ ہر حال میں 2019 ء میں مکمل کرنا چاہتا ہے۔ ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی کو آب پاشی کی سہولتیں فراہم ہوں گی۔ بھارت جموں و کشمیر میں تیرہ لاکھ ایکڑ اراضی حاصل کرکے پانی کے ذخائر تعمیر کر کے پانی فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے۔
1960ء کی دہائی میں پاک بھارت سندھ طاس معاہدہ کے تحت دونوں ممالک میں طے پایا تھا کہ بھارت دریائے چناب میں 55ہزارکیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہوگا۔ جسکے برعکس بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیراور ہماچل پردیش میں ڈیم تعمیر کرکے ان کے لیول کو اپ کرنے کیلئے دریائے چناب کا پانی روک لیااورہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں 55ہزار کے بجائے کم پانی کی آمد ریکارڈ کی جارہی ہے۔ یہی حال باقی دریاؤں کا بھی ہے۔
ان دنوں میں بھارت کی بدترین آبی دہشتگردی کے باعث دریائے جہلم میں ایک گھونٹ پانی نہیں آرہا۔ اب صرف تربیلا ڈیم میں 20ہزار کیوسک پانی آرہا ہے جلد باران رحمت کا نزول نہ ہوا تو تربیلا ڈیم بھی خالی ہوجائے گا۔ اب صرف چھ روز کا پانی رہ گیاہے۔ نئی دہلی میں مودی سرکار نے پاکستان کو بنجر بنانے کی ناپاک سازش تیار کرلی ہے۔ بھارت نے خشک سالی ، قحط اور پیاس بجھانے کے لئے پاکستان پر آبی جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے دریائے چناب کا رخ موڑ کر پانی دریائے بیاس میں ڈالنے کا حکم دے دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہماچل پردیش میں دریائے چناب پر زیر تعمیر متنازعہ ڈیم (جسپا) کی تعمیر جنگی بنیادوں پر مکمل کی جارہی ہے ۔ یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ بھارت پاکستان دشمنی میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ گورنر ہماچل پردیش کے خط کو بھی نظر انداز کردیا ، جس میں کہا گیا تھا جسپا ڈیم زلزلے کی انتہائی خطرناک فالٹ لائن پر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ بی بی سی نے اس خبر کو عالمی سطح پر اٹھایا۔نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن نے بھی آبی جنگ اور پاکستان کو بنجر بنانے کی بھارت کی مکروہ سازش پر ایک گھنٹے کا پروگرام بھی کیا۔
بھارت نے پاکستان کی طرف بہنے والی اہم دریاؤں کے پانی پر عملاً قبضہ کر لیا ہے۔ دریائے چناب میں پانی کی کمی سے دنیا کی سب سے بڑی نہر میں مرالہ راوی لنک جسکا بہاؤ 22ہزار کیوسک‘ اپر چناب کینال 16850 کیوسک‘ بیداں بمبانوالہ نہر 7260کیوسک ہے آج مکمل خشک ہو چکی ہیں۔ دریائے جہلم پر چشمہ جہلم لنک 21700کیوسک‘ رسول قادر آباد لنک 19ہزار کیوسک‘ لوئر جہلم کینال 6ہزار کیوسک‘ اپر جہلم کینال 2ہزار کیوسک تھا وہ بھی مسلسل خشک ہیں۔ دریائے چناب کا بہاؤ ہیڈ مرالہ کے مقام پر 5ہزار کیوسک سے زائد نہیں ہے۔ دریائے جہلم کا بہاؤ 63سو کیوسک سے زیادہ نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے دریائے سندھ خطرناک حد تک اپنی بہاؤ کی نچلی سطح پر گذشتہ 10برس کی کم ترین بہاؤ 14400کیوسک پر بہہ رہا ہے اس کی وجہ سے پاکستان کا 65فی صد رقبہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس بارے میں ماہرین نے بتایا ہے کہ بھارت سنگلاخ پہاڑوں میں 3کلو میٹر کی سرنگ بناکر چناب کا پانی دریائے راوی جوکہ بھارت کی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے میں ڈال رہا ہے تاکہ دریائے چناب کا تمام پانی روک سکے۔ اس سے قبل کشن گنگا ڈیم کیلئے 31کلو میٹر لمبی سرنگ نکال کر دریائے جہلم کے پانی کو روکا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو دریائی پانیوں سے 2020ء تک مکمل محروم کر دینا چاہتا ہے۔ حکومت ملکی زرخیز زمینوں کو بنجر ہونے سے بچانے کیلئے فوری ٹھوس اور سنجیدہ حکمت عملی اپنائے۔
بھارت ایک ایک کرکے ہمارے دریاؤں میں قبضہ جمارہاہے مگر بدقسمتی سے کسی کوکوئی پرواہی نہیں۔ایک سازش کے تحت اپنے کارندوں کے ذریعے بھارت نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو سیاسی ایشو بناکرخودآبی جارحیت کامرتکب ہورہا ہے۔اگر اسے نہ روکاگیا تو2020ء تک پاکستان بنجر ہوجائے گا اور کسانوں کواپنی فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے ایک بوند پانی بھی میسرنہیں ہوگا۔ بھارت1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے دریائے چناب پر850میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل ہائیڈروپاورڈیم پراجیکٹ کی تعمیر شروع کرچکا ہے جس سے پاکستان کے حصے کا2لاکھ ایکڑفٹ پانی چوری ہوگا۔اسی ڈیم سے پیداہونے والی بجلی بھارت پاکستان کو فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جبکہ ہمارے حکمران خواب خرگوش میں مصروف ہیں۔یہ ڈیم بگلیہار کے مقابلے میں تین گنا بڑا ہوگا۔سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین اور عالمی پانی اسمبلی کے چیف کوآرڈی نیٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی آبی جارحیت ان دنوں خطرناک مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔


ای پیپر