کیا ہم اپریل فو ل قوم ہیں؟
30 مارچ 2018 2018-03-30

میرے پیارے احساس پسند فیس بک دوستو ’ اپریل فول‘ جیسی قبیح رسم کا ہمارے دِین وثقافت سے دُور د’ور کا بھی تعلق نہیں ہے، مذاق مذاق میں کئی گھرانے اُجڑتے اور لوگ ایک دوسرے سے دست وگریباں ہوتے دیکھے گئے ہیں۔یکم اپریل کو وطن عزیز سمیت پوری دنیا میں ’ اپریل فول ‘شایانِ شان سے منایا جائے گا ،آپ کو کوئی دوست ایس ایم ایس یا کال کر کے بے و قوف بناسکتا ہے براہ مہربانی ہوش سے کام لیتے ہوئے پہلے معاملے کی اچھی طرح سے چھان بین کرلیجئے گا۔آج سے پندرہ سولہ برس قبل جب پی ٹی سی ایل ٹیلی فونزہواکرتے تھے ایک دوست نے یوم اپریل فول مناتے ہوئے ایک دوست کے گھر فون کرکے کہا آنٹی جی میں فرحان کا کلاس فیلوبات کررہا ہوں فر حان دریامیں ڈوب گیا ہے۔ بس اتنا ہی کہنا تھا کہ فرحان کی ماں کودل کا دورہ پڑااوریہ دل کا دورہ جان لیواثابت ہوا۔ بعدمیں تحقیق ہوئی تو پتا چلا کہ یہ سب ’ اپریل فول‘ کا نتیجہ تھا۔اس اپریل فول نے ایک دردِ دل اوراحساس پسند ماں کی جان لے لی ،ہر سال یکم اپریل کواس طرح کے ملتے جلتے بہت سے واقعات اخبارات کی سرخیاں بنتے تھے۔ پی ٹی سی ایل فونزکادورختم ہوتے ہی موبائل فونزآگئے ، موبائل فونز پی ٹی سی ایل فونزسے ہزاردرجے بہتر ہیں۔ پی ٹی سی ایل فون کا ڈبہ ایک گھرمیں ایک ہوتا تھا اوراب ماشاء اللہ موبائل فون کا سیٹ گھرکے ہر بڑے اورچھوٹے فردکے پاس ہوتا ہے۔ کوئی بھی ایسا ویسا واقعہ ہوبھی جائے توبروقت فون کرکے جھوٹ اورسچ کی تصدیق کی جاسکتی ہے ،اب توجدیدموبائل ٹیکنالوجی نے اس قدرترقی کرلی ہے کہ گاڑیوں میں بھی موبائل فون نماٹریکرزلگائے جارہے ہیں جس سے گاڑی کامالک گھربیٹھے بیٹھے اپنی گاڑی کی سمت معلوم کرسکتا ہے ایک ہفتہ قبل ٹیکسی سٹینڈ کاایک ڈرائیورموبائل فون کی اس ٹیکنالوجی کو ماں بہن کی غلیظ گالیاں دے رہا تھا۔ بقول ڈرائیور پہلے وہ گاڑی کے مالک کو یہ کہہ کرجاتے تھے نائیک جی سواری کولے کر لاہور جا رہا ہوں اورچلے خانیوال جاتے تھے اور گاڑی کاکرایہ بے چارے کار مالک کولاہورکاملتا تھا ۔تین ہفتے قبل بس میں بیٹھ کرلاہورجارہا تھا کہ میری اگلی سیٹ پربیٹھا ایک معزز شخص موبائل فون پرکہہ رہا تھا میں پتوکی جا رہا ہوں جب کہ لاہوراورپتوکی شہر ایک دوسرے کی مخالف سمت میں ہیں۔ بات سن کرمجھے بھی گمان ہونے لگا کہیں میں پتوکی،کی گاڑی میں تونہیں بیٹھ گیا، میرے احساس پسند دوستو یہی حال چال ہمارے سیاست دانوں کا ہے۔ جھوٹ کے بغیرگزارہ نہیں ہوتا اورنہ ہی جھوٹ بولے بغیرکھانا ہضم ہوتا ہے۔ اب 30سال بعد ایک نئے نعرے نے جنم لیا ہے ’ووٹ کوعزت دو‘اس سے قبل روٹی،کپڑااور مکان کے ’موجد‘سے ایران کے ایک صحافی نے سوال کیا تھا ؛ ’سر! میں حیران ہوں، آ پ نے روٹی،کپڑااورمکان کا نعرہ لگایا ہے۔ آپ عوام کو یہ سہولیات کیسے دیں گے؟‘جس پر نعرہ کے موجد نے مسکرا کر کہا: ’یہ محض ایک خالی اور خیالی نعرہ ہے‘۔ یہ نعرہ آج بھی نعرہ ہی ہے۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ ’معاہدے قرآن وحدیث نہیں ہوتے ‘کے وکیل ’پاکستان کھپے‘ ماضی اور حال کے حکمرانوں کے اپریل فول بیانات اورخیالات آپ قومی اخبارات میں پڑھ لیں یا نیوز چینلز پر دیکھ لیں زبان وبیان سب کچھ آپ کو اپریل فول کی شکل میں نظر آئے گا۔ ہم من حیث القوم’ فُ ل اپریل فول‘ قوم بنتے جارہے ہیں، نبی کریمؐ کا ارشادِ پاک ہے کہ’تمارے اعمال تمہارے حکمران ہیں اور جیسے تم ہو گے ویسے ہی تمہارے سردار مقرر کئے جائیں گے‘۔ آج بس میں’ قبض کشا‘پھکی ،منجن اورسُرمہ بیچنے والے بھی اس قدر سیاست دان ہوگئے کہ بسم اللہ اور السلام علیکم سے جھوٹ کا آغازکرکے مسافروں کو چیزیں بیچ رہے ہوتے ہیں، آج ہمارے معاشرے میں جھوٹ ایک فیشن کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ہمارے موجوہ معاشرے میں جو جتنا جھوٹا اور گھٹیا ہے وہ اتنا ہی اُونچا اور عزت دارہے۔حدیث پاک کی روشنی میں ان لوگوں کی شناخت کی تین نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ جھوٹ بولنا، امانت میں خیانت کرنااوروعدہ پورانہ کرنا (بخاری) اور قرآن میں ان کی شناخت اس طرح سے بیان فرمائی گئی ہے کہ بہت قسمیں کھانے والے ذلیل اوقات شخص کی بات کااعتبارنہ کرنا۔(القلم)جھوٹ بولنا ایک نہایت ہی قبیح فعل ہے۔ جھوٹ بولنے کی برائی اور مذمت کے بارے میں مزید احادیث پاک ملاحظہ فرمائیں، کہ جھوٹ بولتے بولتے آدمی اللہ کے ہاں بھی جھوٹا لکھ دیاجاتا ہے۔ مشکوٰۃ شریف کی ایک حدیث مبارک ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ؐسے پوچھا: یارسولؐ اللہ ! دوزخ میں لے جانے والا کیا کام ہے؟آپ ؐنے فرمایا؛ ’جھوٹ‘۔بربادی ہے اس شخص کے لیے جواس مقصد کے لیے جھوٹی باتیں کرے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے۔ (ترمذی) مومن، خائن اورجھوٹا نہیں ہو سکتا۔ (ابن ماجہ) بہت بڑی خیانت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایک بات کہو اور وہ تمہیں اس بات میں سچا سمجھتا رہا ہو حالانکہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔ (ابوداؤد)جس نے جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیارکی تو وہ قیامت کے دِن انہی میں سے ہوگا۔(ابوداؤد)جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے منہ کی بدبو سے رحمت کافرشتہ ایک میل دور ہٹ جاتا ہے۔ (ترمذی)اورجھوٹ بولنے کی برائی اور مذمت کے بارے میں قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جھوٹ بولنے والوں پراللہ کی لعنت۔ (سورہ آلِ عمران)جھوٹ سے پرہیز کرو۔ (الحج)سچ کو جھوٹ کے ساتھ نہ ملاؤ۔(البقرہ)رحمت کائنات، محسن انسانیت ؐ کا ارشادِ پاک ہے کہ جب تک تمہاری پوری کی پوری زندگی میرے بتائے ہوئے دین کے عین مطابق نہیں ہوجاتی، تم ہرگز مومن نہیں بن سکتے۔اس فرمانِ عالی شان کی روشنی میں ہمارے لیے پوراسال،بارہ ماہ اور تین سو پینسٹھ دن، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سائے میں زندگی بسر کرنا ضروری ہے۔ کوئی خاص دن منانے کے لیے ہمیں دائیں بائیں دیکھنے یا کسی قوم کی نقالی کرنے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ الحمدللہ! ہمارے پاس اسلام کی شکل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں عامی سے لے کر بادشاہ تک، سب کے حقوق روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب پررحم فرمائے آمین ۔


ای پیپر